دعوتِ دین میں ناجائز ذرائع سے پرہیز کے بارے میں علامہ یوسف بنوری کی ایک اہم نصیحت تمام مذہبی اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے پیش نظر رہنی چاہئے ، وہ فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں، میں ایک اصولی بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ جس طرح بھی ممکن ہو لوگوں کو پکا مسلمان بنا کر چھوڑیں، ہاں! اس بات کے مکلف ضرور ہیں کہ تبلیغ دین کے لئے جتنے جائز ذرائع و وسائل ہمارے بس میں ہیں ان کو اختیار کرکے اپنی پوری کوشش صرف کردیں۔ اسلام نے ہمیں جہاں تبلیغ کا حکم دیا ہے، وہاں تبلیغ کے باوقار طریقے اور آداب بھی بتائے ہیں۔ ہم ان طریقوں اور آداب کے دائرے میں رہ کر تبلیغ کے مکلف ہیں۔ اگر ان جائز ذرائع اور تبلیغ کے ان آداب کے ساتھ ہم اپنی تبلیغی کوششوں میں کامیاب ہوتے ہیں تو عین مراد ہے، لیکن اگر بالفرض ان جائز ذرائع سے ہمیں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو ہم اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ناجائز ذرائع اختیار کرکے لوگوں کو دین کی دعوت دیں اور آدابِ تبلیغ کو پس پشت ڈال کر جس جائز و ناجائز طریقے سے ممکن ہو لوگوں کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کریں۔اگر ہم جائز وسائل کے ذریعے اور آدابِ تبلیغ کے ساتھ ایک شخص کو بھی دین کا پابند بنا دیں گے تو ہماری تبلیغ کامیاب ہے اور اگر ناجائز ذرائع اختیار کرکے ہم سو آدمیوں کو بھی اپنا ہم نوا بنا لیں تو اس کامیابی کی اللہ کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ کیونکہ دین کے احکام کو پامال کرکے جو تبلیغ کی جائے گی وہ دین کی نہیں، کسی اور چیز کی تبلیغ ہوگی۔
فلم اپنے مزاج کے لحاظ سے بذاتِ خود اسلام کے احکام کے خلاف ہے، لہٰذا ہم اس کے ذریعے تبلیغ دین کے مکلف نہیں ہیں۔ اگر کوئی شخص جائز اور باوقار طریقوں سے ہماری دعوت کو قبول کرتا ہے تو ہمارے دیدہ و دل اس کے لیے فرشِ راہ ہیں، لیکن جو شخص فلم دیکھے بغیر دین کی بات سننے کے لیے تیار نہ ہو، اسے قلم کے ذریعے دعوت دینے سے ہم معذور ہیں۔ اگر ہم یہ موقف اختیار نہ کریں تو آج ہم لوگوں کے مزاج کی رعایت سے فلم کو تبلیغ کے لئے استعمال کریں گے، کل بے حجاب خواتین کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا اور رقص و سرود کی محفلوں سے لوگوں کو دین کی طرف بلانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس طرح ہم تبلیغ کے نام پر خود دین کے ایک ایک حکم کو پامال کرنے کے مرتکب ہوں گے۔(شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم فرماتے ہیں:) یہ کونسل میں مولانا (بنوریؒ)کی آخری تقریر تھی اور غور سے دیکھا جائے تو یہ تمام دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کے لئے مولانا کی آخری وصیت تھی، جو لوحِ دل پر نقش کرنے کے لائق ہے۔قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے۔ ’’ان الدین عند اللہ الاسلام ‘‘دین اسلام ہی کائنات میں وہ مذہب ہے جو ساری انسانیت کے دکھوں کا مداوا ہے اور اخروی و ابدی زندگی میں راحت و آرام اور عیش راضیہ کی ضمانت ہے ۔اس لئے ہی تو اسلام میں مرتد کی سزا قتل رکھی گئی ہے کیونکہ یہ دنیا کے باقی مذاہب کی طرح محض ایک مذہب نہیں بلکہ مکمل دستور حیات ہے اور اس کو چھوڑ جانے والا اپنے ارتداد سے گویا کروڑوں اربوں انسانوں کی فلاح و بہبود کے ضامن دستور زندگی پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔
اسی طرح معلم اسلام امام کائنات محمد مصطفیﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا بدبخت لوگوں کے دلوں سے اس عظیم معلم انسانیت رحمت للعالمین کا رعب و دبدبہ اور تعظیم ختم کرنا چاہتا ہے جس کی تعلیمات قیامت تک کے انسانوں کے لئے خیر و برکت کا باعث اور جن سے دوری سراسر دنیوی و اخروی خسارہ،فساد اور انسانوں میں بگاڑ کا باعث ہے۔
اسی لئے خالق کائنات نے ما کان محمد آبا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین سے قیامت تک ہر نئے دستور ، نء شریعت،نئے دعوائے نبوت اور محمد رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل سے متصادم ہر ایک کی نفی کر کے انسانوں کو محمدی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کا حکم دیا اور اس دین اسلام،اس کے اوامر و نواہی اور اس کا آئین کتاب و سنت کی شکل میں من و عن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہم تک پہنچایا۔ جب کوئی بدبخت کسی ایک صحابی رسول کی توہین کرتا ہے یا ان کے ایمان کی نفی کرتا ہے گویا وہ رسول خدا ﷺکے ہر اس قول و فعل کو مشکوک کر دیتا ہے جو اس صحابی کے واسطے سے امت تک پہنچا ہے۔یعنی صحابہ کرامؓ کی عدالت کی نفی کر دی جائے تو امت مسلمہ تک پیغمبر خدا کی تعلیمات اور قرآن مقدس کی صحیح تفسیر جو کہ نور ہدایت ہے کبھی پہنچ ہی نہیں سکتیں اور کسی بھی امت کے زوال اور اغیار کا اس کا پر تسلط اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ امت یا قوم اپنے مذہب کے شعائر اور تعلیمات کو نا صرف چھوڑ دیتی ہے بلکہ اس کے سرکردہ افراد ان شعائر کے تحفظ میں ناکام ہو جاتے ہیں۔اور موجودہ دجالی فتنوں اور الحاد کے سیل رواں کے سامنے اسلامی شعائر اور قرآن مقدس اور محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا بند باندھنا ضروری ہے جس کا عملی نمونہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پیش کیا۔