اسلام آباد سے خبر آئی ہے کہ جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر کے مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ریاستی اور عالمی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں ریاست جموں و کشمیر کے عوام اور ریاست کو درپیش مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ عوامی مسائل کو عوام کی دہلیز پر حل کیا جائے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مسائل کو بروقت حل کرے نہ کہ عوام احتجاج پر مجبور ہوں اور احتجاج کے بعد ہی ان کے مسائل سنے جائیں۔ مجلسِ شوری نے زور دیا کہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے عوام کو بار بار احتجاج نہ کرنا پڑے بلکہ ان کے مسائل خودبخود ان کی دہلیز پر حل ہوں۔
مجلسِ شوریٰ نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام ،ریاست مخالف ، پاکستان مخالف اسلام دشمن اور افواج مخالف ایجنڈے کو کبھی قبول نہیں کرے گی، اور اس طرح کی کسی بھی تحریک سے جمعیت کا کوئی تعلق نہیں۔پاکستان۔سعودی عرب جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کا خیر مقدم کیا گیا اور اسلامی دفاعی بلاک کے قیام پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں گلوبل صمود فلوٹیلا کی بھرپور حمایت کی گئی اور قافلے میں شریک افراد کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
مولانا سعید یوسف خان کی زیر امارت جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیر کی مرکزی مجلس شوری نے اسلام دشمن،ریاست مخالف ،پاکستان مخالف ،اور افواج پاکستان مخالف سر گرمیوں اور پروپیگنڈے کو مسترد کر کے جس حب الوطنی کا ثبوت دیا وہ قابل تحسین ہے ،سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی سرگرمیاں خدا نخواستہ ریاست مخالف، اسلام مخالف یا افواج پاکستان مخالف ہیں؟گو کہ آج کل عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی طرف سے کہا جا رہا ہے ہم کسی کے ایجنٹ ہیں نہ کسی سے فنڈز لیتے ہیں اور ہم افواج پاکستان کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں، لیکن عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں کو قریب سے نوٹ کرنے والے بعض دوستوں کے مطابق ایکشن کمیٹی میں یہ تبدیلی حالیہ دنوں میں ہی وقوع پذیر ہوئی ہے،اور عوامی ایکشن کمیٹی کا مذہبی جماعتوں ،علماء کرام،دینی مدارس و مساجد اور جہاد کشمیر نے کیا بگاڑا ہے؟ اس کی وضاحت آنا ابھی باقی ہے،جاننے والے جانتے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک اول میں کشمیر کے علماء کرام تحریک میں پوری قوت کے ساتھ شامل رہے، اس دوران جمعیت علما اسلام کے مولانا امتیاز عباسی کی دھواں دھار تقاریر اس خاکسار نے سوشل میڈیا کے ذریعے کراچی میں سنیں تھیں،صرف امتیاز عباسی ہی نہیں بلکہ ان کے علاوہ دیگر علما ء بھی عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کے شانہ بشانہ رہے،لیکن اسکے باوجود ایکشن کمیٹی کی کوکھ سے امریکہ میں فرار ہونے والے توقیر گیلانی اور ان کا علماء دشمن نظریہ برآمد ہوا تو کیسے؟
یاد رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے عوامی حقوق کے لئے اٹھائی جانے والی ہر آواز اور مطالبے کی علما ء کرام کی طرف سے تائید و حمایت کی گئی ،لیکن اس کے باوجود اگر ایکشن کمیٹی پہ سیکولر شدت پسندی غلبہ پا گئی تو کیسے؟ میں ذاتی طور پر ایکشن کمیٹی کو نہ انڈیا کا ایجنٹ سمجھتا ہوں،نہ پاکستان اور افواج مخالف ،لیکن ایکشن کمیٹی کے قائدین سے عوام یہ سوال پوچھنے کا حق ضرور رکھتے ہیں کہ آخر اسلام مخالف ،ریاست مخالف ،پاکستان اور افواج مخالف بیانیہ انکے ساتھ منسلک سمجھا جانے لگا تو کیوں؟سیکولر شدت پسندی ،ریاست اور افواج مخالف ایجنڈے کو عوامی حقوق کی آڑ میں زیادہ دیر تک چھپانا ناممکن ہوتا ہے،کشمیر میں بپا عوامی حقوق کی تحریک کو غالبا دو سال ہونے کو ہیں ،آزاد جموں وکشمیر کے حکمرانوں کی بھی ذمداری ہے کہ وہ ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات کو فی الفور تسلیم کرے،جب حکومتیں عوامی حقوق کی راہ میں روکاوٹ بنتیں ہیں تو پھر عوامی ردعمل تحریکوں کو جنم دیتا ہے، میرے نزدیک کشمیر میں جاری تحریک اسی عوامی ردعمل کا نتیجہ ہے، اس تحریک کو مودی اور را کی طرف منسوب کرنے والے احمقوں کی جنت کے باسی ہیں،لیکن ’’تحریک‘‘ کے پلیٹ فارم کو سیکولر شدت پسند ی،اسلام مخالف ، علما مخالف ،پاکستان اور افواج مخالف سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنے والے بھی ’’عوامی حقوق‘‘تحریک کے کسی قیمت پر بھی خیر خواہ نہیں ہو سکتے، کشمیری عوام کا علما ء کرام ،دینی مدارس و مساجد سے تعلق توڑنے کی کوئی بھی کوشش خواہ وہ کسی جانب سے بھی ہو عوام دشمنی کے مترادف ہے۔
اس لئے کہ ماں،باپ کے حقوق ہوں،بیوی بچوں کے حقوق ہوں،عورتوں کے حقوق ہوں،بہنوں کے حقوق ہوں،بیٹیوں کے حقوق ہوں،پڑوسیوں کے حقوق ہوں،حلال و حرام کی تمیز ہو ،اساتذہ کرام کے حقوق ہوں یا بزرگوں کے حقوق ،یہ سب حقوق بتائے ہیں دین اسلام نے،اور دینی مدارس و مساجد سے علما ء کرام ان حقوق کا پر چار کرتے ہیں،جس طرح ’’ریاست‘‘ پر عوام کے حقوق کی ادائیگی لازم ہے،اسی طرح ’’عوام‘‘ پر بھی ریاست کے حقوق کی ادائیگی لازم ہے، عوامی حقوق کی تحریک کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انہیں سیکولر شدت پسند ،ریاست، فوج،دینی مدرسوں،جہاد کشمیر اور مولویوں کا دشمن بنا دیا جائے ،اگر کسی تحریک کی کوکھ سے اس قسم کے نتائج برآمد ہوں گے تو پھر سنجیدہ فکر اور محب وطن حلقے اس تحریک کو مشکوک نگاہوں سے ضرور دیکھیں گے ، نجانے عوامی ایکشن کمیٹی میں یہ ’’ارسطو‘‘ کہاں سے در آئے تھے کہ جن کے نزدیک بجلی،آٹے وغیرہ وغیرہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے تین جانوں کی قربانی دینا تو حلال لیکن،سرینگر میں ماں بہنوں ،بیٹوں کی عصمتوں کے دفاع میں بھارتی سورمائوں سے لڑتے ہوئے جانیں قربان کرنا حرام ہے ،کشمیری مجاہدین کو آئی ایس آئی کے طعنے دینے والوں کو جواب میں کوئی ’’را‘‘ کی ایجنٹی کے طعنے دیتا ہے تو پھر شکوہ کیسا؟
عوامی حقوق کی تحریک کو پر تشدد ہونے سے روکنا قیادت کے ساتھ ساتھ حکومت کی بھی ذمداری ہے ،حکمران طبقات کی مراعات کا خاتمہ،مہاجرین کی بارہ اسمبلی نشستوں کو ختم کرنے سمیت دیگر مطالبات کی منظوری آخر حکمرانوں کو مشکل کیوں لگتی ہے،اگر عوامی ایکشن کمیٹی کے یہ ’’جائز‘‘ مطالبات ماننا حکومت کو ’’ناجائز‘‘ لگتا ہے تو اسے چاہیے کہ کشمیری عوام کو اعتماد میں لے،اگرکشمیری عوام، ایکشن کمیٹی کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں تو یہ کشمیر کی حکومت اور سیاست دانوں کی کھلی ناکامی ہے۔