پاکستانی سیاست میں ہمیشہ سیاسی اتحاد وقتی ضروریات کے تحت بنتے اور بکھرتے رہے ہیں، مگر نظریاتی اتحاد ناپید رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی)اور پاکستان مسلم لیگ (ن)(پی ایم ایل این) دونوں کی اپنی اپنی نظریاتی بنیادیں الگ ہیں۔پی پی پی کا نعرہ ’’روٹی، کپڑا، مکان‘‘ اور ترقی پسند جمہوریت رہا ہے،جبکہ مسلم لیگ (ن) کی بنیاد کاروباری و صنعتی طبقے کے مفادات اور نسبتاً قدامت پسند سوچ پر رکھی گئی۔اس اختلاف نے دونوں جماعتوں کو بارہا ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا۔
ماضی کی سیاست میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی کشمکش اسی نظریاتی اور طبقاتی تضاد کا نتیجہ تھی۔ غیر فطری اتحاد کی بنیادی اینٹ2006 ء میں’’چارٹر آف ڈیموکریسی‘‘ کے تحت دونوں جماعتوں نے آمریت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر رکھی گئی۔2008 ء کے بعد زرداری اور نواز شریف نے چند مواقع پر ایک صف میں کھڑے ہوئے لیکن جلد ہی ایک دوسرے کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔2013ء کے بعد تو یہ اختلافات بام اوج پر پہنچ گئے۔ پی ایم ایل(ن) نے مرکز میں جبکہ پی پی پی نے سندھ میں اپنا اپنا سیاسی سنگھاسن سنبھالنیمیں عافیت گردانی۔یہی وجہ ہی موجودہ اتحاد کا سبب بنی۔ یہ اتحاد محض مجبوری کا رشتہ تھا۔جس کے بیچ مقتدرہ کا کلیدی کردار تھا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ نئی بات یا انہونی نہیں تھی ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی جمہوری قوتیں کمزور ہوں یا باہم دست و گریبان تو مقتدرہ ایک توازن قائم رکھنے کے لیے کچے رشتوں ان دھاگوں کو ٹاٹنے نہیں دیتی۔سندھ میں پیپلز پارٹی کا وجود مقتدرہ کے لیے کسی حد تک اسٹیٹس کو کی ضمانت ہے ، کیونکہ وہاں امن و امان اور قوم پرستی کے مسائل حساس نوعیت کے ہیں۔اس لیے مرکز میں اختلافات کے باوجود سندھ میں پی پی پی کی بقا مقتدرہ کے لیے ’’ضروری برائی‘‘سمجھی جاتی ہے۔حالیہ بیانات (عظمی بخاری بمقابلہ میمن) اختلافات اس حقیقت کو عیاں کرتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی ترجیح ہمیشہ پنجاب اور وفاقی وسائل رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی بنیادی طور پر سندھ کی بساط پر سارا کھیل کھیلتی ہے۔جب عظمی بخاری نے میمن کو کہا کہ ’’سندھ کی فکر کرو، وفاق تمہارا مسئلہ نہیں‘‘ تو دراصل یہ وہی پرانا وفاق بمقابلہ صوبائی سیاست کا شاخسانہ ٹھہرا۔ پیپلز پارٹی وفاقی سطح پر اپنی کمزور حیثیت کے باوجود اپنے صوبائی قلعے پر قابض ہے، اور یہی مسلم لیگ(ن) کے لیے باعث تکلیف بنتا ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھیں توپاکستان میں 1970 ء کے انتخابات سے لے کر آج تک ایک مستقل تضاد یہ رہا کہ پنجاب ہمیشہ مرکز کی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے،اورسندھ پیپلز پارٹی کے زیرِ اثر رہ کر وفاقی بالادستی پراعتراضات اٹھاتا ہے۔یہی تضاد بار بار دونوں جماعتوں کے تعلقات میں دراڑ کا سبب بنتا ہے ۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا اتحاد وقتی مفادات کا حصول ہوتا ہے ،اس کا فکری یا نظریاتی سطح یاہم آہنگی سے کچھ سروکارنہیں ہوتا۔ یہ رشتہ مقتدرہ کے اشاروں پر چلتا ہے اور سندھ میں امن کی نزاکت اس دھاگے کو ٹوٹنے نہیں دیتی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو بوجھ سمجھتی ہیں اور ہر موقع پر ایک دوسرے پر طنز و تنقید کے تیر برسانے کے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے اتحاد ہمیشہ عارضی، کمزور اور غیر فطری ثابت ہوئے ہیں۔اقتدار کی راہداریوں میں طے ہونے والے یہ غیر فطری رشتے دراصل ایک ایسے تماشے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے جس میں ہر فریق اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کی بقا دوسرے کے وجود کو کاٹنے میں ہے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلتی ضرور ہیں مگر بغل میں خنجر چھپائے ہوئے۔ یہ کچے دھاگے کا بندھن دراصل اوپر والوں کے ہاتھ کا کھیل ہے، جو چاہتے ہیں کہ یہ جوڑ ٹوٹے بھی نہ اور جڑے بھی نہ، بس معلق رہے تاکہ دونوں مجبور رہیں۔ سندھ کے امن کو ڈھال بنایا جاتا ہے اور پنجاب کے ووٹ بنک کو ہتھیار۔ عوام کے دکھ درد، مہنگائی، بیروزگاری اور محرومیاں ان کے منشور کا حصہ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا ایندھن ہیں۔تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ایسے بندھن کبھی دیرپا نہیں ہوئے۔ یہ سیاست نہیں، مجبوریوں کا کھیل ہے، جس میں ایک دوسرے کو پیچھے دھکیل کر آگے بڑھنے کی رسم جاری رہتی ہے۔
عظمی بخاری ، شرجیل میمن اور اور دیگر کئی سیاسی پتلیوں کی رسہ کسی اور تیکھے جملے دراصل اس پورے جعلی اتحادکے کرداروں کی حقیقت حال ہے ، کہہ کوئی اپنا حق جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے کہ تم صرف اپنے صوبے تک محدود رہو، دوسرا جواب میں وفاق پر حق جتلاہوئے اپنے حق کا نوحہ السپتا ہے۔سوال مگر یہ ہے کہ وفاق اور صوبے کے اس کھینچا تانی میں عوام کہاں ہیں؟ ان کی آواز کہاں ہے؟کڑوا سچ یہ ہے کہ ان کا درد ان کے اپنے پیٹ کی آگ سے بڑا نہیں۔ مگر سیاست کا یہ المیہ بھی کتنا میٹھا ہے کہ جب یہ ایک دوسرے پر وار کرتے ہیں تو عوام سمجھتے ہیں شاید سچائی کی گونج سنائی دے رہی ہے، حالانکہ یہ محض اقتدار کے کھیل کی بازگشت ہے۔یہ اتحاد کچھ ایسا ہی ہے جیسے تیل اور پانی کو ایک برتن میں قید کر دیا جائے،اوپر سے دیکھنے پر اکٹھے نظر آئیں گے مگر ذرا ہلچل ہو تو الگ الگ تہوں میں بٹ جاتے ہیں۔
پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد دراصل مٹھائی کی وہ دوکان ہے جس پر سے ہر کوئی اپنے حصے کے لڈو اٹھا کر اپنا منہ میٹھا کرلینے پر مائل ہے۔یہ وہ بندھن ہے جسے ’’بندر بانٹ‘‘ کا ترازو بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک صوبائی قلعے کا مالک ہے، دوسرا مرکز کے وسائل کا سوداگر۔ یہ رشتہ محض مصلحت کا ہے، محبت کا نہیں۔سیاست کے اس میلے میں کبھی شرجیل میمن کی زبان پھسل جاتی ہے تو کبھی عظمی بخاری کے تیر نشانے پر لگتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ دونوں جماعتیں ایک ہی رتھ میں جتی ہوں لیکن گھوڑے مخالف سمت دوڑرہے ہوں۔ اوپر والوں کو یہ کھیل بڑا بھاتا ہے، کیونکہ جب رتھ آگے پیچھے جھٹکے کھاتا ہے تو لگام پر ان کے ہاتھ مضبوط ہو جاتے ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے جوڑ زیادہ دیر نہیں ٹکتے یہ اسی وقت قائم رہ سکتے ہیں جب ’’اوپر‘‘ سے حکم آئے، ورنہ اندر سے یہ اتنا رشتہ کھوکھلا ہوتا ہے کہ تیز ہوا کا معمولی جھونکا بھی اسے بکھیر دے۔
لیکن کمال یہ ہے کہ عوام ہر بار اسی دھوکے کو نیا عہد سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔سچ یہی ہے کہ یہ اتحاد عوام کے زخموں پر مرہم نہیں، بلکہ زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا ہے۔ عوام کو روٹی، کپڑا، مکان اور روزگار کے خواب بیچے جاتے ہیں، لیکن جب اقتدار کا دسترخوان سجتا ہے تو یہ سب مل کر ہڈیاں چوسنے لگتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک صوبے کی پلیٹ میں ہاتھ ڈال رہا ہے اور دوسرا مرکز کی دیگ پر جھکا ہوا ہے۔ یا یوں کہ یہ غیر فطری اتحاد اس مکڑی کے جالے کی مانند ہے جو ذرا سی ہوا سے ٹوٹ سکتا ہے، لیکن اس وقت تک قائم رہے گا جب تک مکڑی کو شکار پھانسنے کی امید باقی ہے مکڑی اور جالے کے اس کھیل میں گھاٹے میں غریب عوام ہی رہتے ہیں ۔