حسب عادت لغت اردو کا مطالعہ کر رہا تھا کہ دو لفظ نظر کی گرفت میں آئے ،دونوں الگ الگ کمال معانی رکھتے ہیں اور مل جائیں تو حسن معانی کا ایک جہاں دل دماغ میں آباد ہو جاتا ہے ۔ دونوں عربی الاصل الفاظ ہیں اور الگ الگ معنی کے حامل ہیں۔
(الف) تکثیف ‘مادہ ۔ ک،ت،ث۔ لغوی معنی : گھنا کرنا ،زیادہ کرنا،کثرت پیدا کرنا اور کسی شے کو مرکوز و مربوط کرنا۔
سائنسی اصطلاح میں مطلب ہے کسی گیس یا بھاپ کو ٹھنڈا کرکے مائع بنانا۔عمومی مفہوم بنتا ہے ،کسی کامیا شے کو شدت اور کثرت سے کرنا۔
(ب)استبدال مادہ: ب،د،للغوی اعتبار سے معنی ہیں بدل دینا ،کسی شے کے بدلے دوسری شے لے لینا یا تبدیلی۔مفہوم ’’آستبدال حکومت‘‘ یعنی حکومت کی تبدیلی۔یہ دونوں لفظ ’’تکثیف استبدال‘‘ ایکا کر لیں تو ۔مدعا یہ بنے گا کہ ’’ کسی تبدیلی کے عمل میں شدت پیدا کرنا‘‘۔
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ ” کوئی بھی تبدیلی فقط خواہش سے رونمانہیں ہوتی بلکہ جدوجہد اور شعوری کاوش سے عمل میں آتی ہے ” مصحف ربانی اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ’’قومیں اپنی حالت خود بدلتی ہیں اور جو اقوام جمود کا شکار ہوجائیں ،وقت ان پر مہر فنا ثبت کر دیتا ہے‘‘۔
سورہ رعد میں اللہ کریم نے واشگاف الفاظ میں فرمایا۔’’کسی قوم کی حالت نہیں بدلتی جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے‘‘ (سورہ رعد 11۔ 13 )
اسی طرح سورہ انفال(53۔8)میں ارشاد ہوا ’’یہ اس لئے کہ اللہ کسی قوم پر اپنی دی ہوئی نعمت کو کبھی نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدل ڈالے‘‘ ۔
اسی طرح حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مفہوم ہے کہ ’’جو شخص اپنے دن کو گزشتہ دن سے بہتر نہ پائے وہ گھاٹے میں ہے‘‘ (طبرانی) یہ قول’’تکثیف استبدال‘‘ کی حقیقی روح ہے کہ ’’ہر دن خودکو بہتر بنانے کا عزم بھی۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا’’ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت دی ہے ،اگرہم کسی اور ذریعے میں عزت تلاش کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا۔‘‘
داماد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول صادق ہے کہ ’’جس نے اپنے نفس پر قابو پالیا ،اس نے سب سے بڑی حکومت حاصل کرلی ۔‘‘یہ اقوال ثابت کرتے ہیں کہ اصل استبدال داخلی و اخلاقی قوت سے آتا ہے نہ کہ محض بیرونی ذرائع سے۔
علمائے مغرب اور فلاسفہ نے تبدیلی کی بحث صدیوں جاری و ساری رکھی اور آج بھی یہ موضوع تروتازہ ہے ۔
ہر کلائٹس کہتا ہے ’’ہم ایک ہی دریا میں دو بار قدم نہیں رکھ سکتے کیونکہ ہر بار وہ دریا بدل چکا ہوتا ہے‘‘۔
ہیگل کہتا ہے’’تاریخ ایک جدلیاتی عمل ہے ، ہرتھیسس اپنے اینٹی تھیسس کو جنم دیتا ہے جس کے نتیجے میں نیا تھیسس ابھرتا ہے‘‘۔
البر کامیو کا کہنا ہے ’’انسان اپنی حالت کو بدلنے کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرتا ہے اور یہی جدوجہد اس کے وجود کا جواز ہے ‘‘۔
ارنسٹ ہیمنگوے کہتا ہے ’’دنیاہمیشہ بدلتی رہتی ہے ،یہ ہم پرہے کہ ہم اس کے ساتھ بدلیں یااس کے ملبے تلے دب جائیں ‘‘۔
گویا ’’تکثیف استبدال‘‘ کا خلاصہ یہ ٹھہرا کہ تبدیلی ایسا قانون ہے جو قران و حدیث اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے لے کر جدید فلسفے تک ہر جگہ نمایاں ہے اور یہ قانون ہمیں بتاتا ہے کہ فرد اپنی ذات کو بدلے ، قوم اپنے نظام کو بدلے اور معاشرہ اپنی اخلاقی اقدار پر نظر ثانی کرے۔