Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

فحاشی پھیلا نے والوں کے لئے دردناک عذاب

امام کعبہ الشیخ عبد الرحمن السدیس نے بالکل درست فرمایا کہ ہم ایسے زمانے میں ہیں جہاں حق و باطل خلط ملط ہوگئے ہیں، شبہات کی آندھیاں بڑھ گئی ہیں، اور بہت سے لوگ اسلام کی صورت بنا کر سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا باطل کے پیچھے مت لگو صرف اس لئے کہ غافلین کی تعداد زیادہ ہے، اور حق کے راستے پر گھبراہٹ محسوس نہ کرو اس لئے کہ اس کے چلنے والے کم ہیں۔ ہمارے معاشرے میں فحاشی کو پروان چڑھانے والے اگر مسلمان ہیں تو کیا کبھی انہوں نے اس بات پہ غور کیا کہ فحاشی کی نشر و اشاعت، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے،حضرت ابو دردا ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ فحش گو اور بدزبان سے سخت نفرت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
بیشک وہ لوگ جو یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی (فحاشی)پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے(النور: 19)
رسول اللہ ﷺ نے فحش گوئی اور بدزبانی کو ایسا گناہ بتایا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نفرت کا باعث بنتا ہے۔قرآن نے واضح کردیا کہ صرف فحاشی کرنا ہی نہیں بلکہ فحاشی کو پھیلانا اور دوسروں میں عام کرنا بھی سخت گناہ ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے ، محفلوں‘ زبان کے ذریعے فحاشی کی ترویج کرنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔جو لوگ فحاشی پھیلاتے ہیں یا اس کے عادی ہیں، ان کے لئے نہ صرف آخرت میں بلکہ دنیا میں بھی رسوائی اور عذاب ہے۔دنیا میں ان کے دل سے سکون چھن جاتا ہے، عزت جاتی رہتی ہے، اور آخرت میں دردناک سزا ان کی منتظر ہے۔
حدیث میں بدزبانی سے منع کیا گیا ہے اور قرآن نے فحاشی کے پھیلائو سے۔گویا دونوں نصوص مل کر یہ بتاتے ہیں کہ اسلام زبان اور عمل دونوں میں پاکیزگی چاہتا ہے‘انسان کی اصل پہچان اس کی خلوت میں آشکار ہوتی ہے۔ جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں، جہاں کوئی تعریف کرنے والا نہیں، جہاں صرف وہ اور اس کا رب ہوتا ہے، وہی لمحے اصل میں انسان کی حقیقت کو عیاں کرتے ہیں۔ جلوت یعنی لوگوں کے سامنے کی زندگی محض عکس ہے اس باطن کا جو خلوت میں پروان چڑھتا ہے۔ اگر خلوتیں پاک ہوں، نیتیں صاف ہوں اور دل اللہ کی یاد سے منور ہو، تو پھر جلوت کی محفلیں خود بخود معطر ہو جاتی ہیں۔
قرآن مجید نے انسان کے ظاہر و باطن کی یکسانی کو ایمان کی علامت قرار دیا۔ ارشادِ ربانی ہے:
’’اللہ ان نگاہوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے جو چھپ کر کی جاتی ہیں اور ان دلوں کے راز کو بھی جو چھپائے جاتے ہیں۔‘‘
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اصل امتحان وہ ہے جو ہماری خلوت میں ہے، جہاں کوئی نگہبان نہیں، مگر رب کی نگاہ ہر لمحے ساتھ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ایمان کی سب سے اعلیٰ صورت یہ ہے کہ تو جان لے کہ جہاں کہیں بھی ہو اللہ تیرے ساتھ ہے۔‘‘
یہی احساس انسان کو خلوت میں بھی اتنا ہی محتاط رکھتا ہے جتنا وہ جلوت میں رہتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ قرآن میں بیان ہوا کہ جب زلیخا نے تنہائی میں انہیں گناہ کی دعوت دی تو وہ فرما اٹھے: ’’معاذ اللہ‘‘یعنی ’’میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں‘‘۔ یہی وہ لمحہ تھا جو ان کی پاکیزہ خلوت کی گواہی بن گیا۔ بعد ازاں اللہ نے ان کے اس اخلاص کو یوں نمایاں کیا کہ مصر کا تخت ان کے قدموں میں بچھا دیا گیا۔ خلوت میں استقامت نے جلوت کو عزت سے بھرا۔
آج کل بھی موبائل کی شکل میں ایک زلیخا اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ایسے میں اللہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ سنت یوسف پر عمل کون کرتا ہے اور بدنظری کی لت میں کون مبتلا ہوتا ہے.حضرت امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے :
ترجمہ:جب کبھی تم تنہائی میں ہو تو یہ مت کہنا کہ میں تنہا ہوں ، بلکہ یہ کہو : ایک نگران (اللہ)میرے اوپر موجود ہے۔ یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ اللہ ایک لمحے کے لئے بھی غافل ہو سکتا ہے ، یا جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ اس سے چھپا رہتا ہے ۔کے یہ اشعار تنہائی میں پڑھنا نفس کو لگام دینے کی مانند ہے ،حقیقت یہ ہے کہ انسان کی جلوت اس کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی خلوت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ اگر اندر کی دنیا صاف ہے تو باہر کی دنیا خود بخود سنورتی ہے۔ لیکن اگر خلوت گندی ہے تو پھر جلوت خواہ کتنی ہی سجائی جائے، اس کے نقاب زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتے۔اہلِ دل کا قول ہے
’’جو اللہ کو تنہائی میں راضی کرتا ہے، اللہ اس کو لوگوں کے مجمع میں سرخرو کر دیتا ہے۔‘‘
پس اے سالکِ راہِ حق!اپنی خلوتوں کو پاک رکھو، اپنے دل کے کونے کو نورِ ایمان سے بھر دو، اپنی نگاہ کو خیانت سے بچائو، اپنی نیت کو ریا سے صاف رکھو۔ پھر دیکھنا کہ جلوت کی محفلیں خود تمہاری تعظیم کے لئے اٹھیں گی، دل تمہاری محبت سے لبریز ہوں گے اور عزت تمہارے قدم چومے گی ۔

یہ بھی پڑھیں