پاکستان کی معیشت اس وقت جس دوراہے پر کھڑی ہے، وہاں سب سے بڑا چیلنج محصولات میں اضافہ اور ٹیکس کے نظام کی شفافیت کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ قومی معیشت کی مضبوطی، ترقیاتی منصوبوں کی پائیداری اور ریاستی خود مختاری کا انحصار براہِ راست ایف بی آر یعنی وفاقی ادارہ برائے محصولات کی کارکردگی پر ہے۔ حالیہ مہینوں میں حکومتِ پاکستان نے ایف بی آر کی کارکردگی میں بہتری کے لیے متعدد اصلاحات، پالیسی اقدامات اور جدید ڈیجیٹل اقدامات متعارف کروائے ہیں جن کا مقصد نہ صرف ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنا ہے بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی، نظام کی سادگی اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا بھی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 ء کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر نے 2.885 ٹریلین روپے محصولات جمع کیے جبکہ مقررہ ہدف 3.083 ٹریلین روپے تھا، یعنی تقریباً 199 ارب روپے کا شارٹ فال ریکارڈ ہوا، تاہم گزشتہ برس کے مقابلے میں محصولات میں 13 فیصد اضافہ بھی دیکھا گیا جو اصلاحی کوششوں کا ابتدائی ثبوت ہے۔(یہ اعدادو شمار فی الحال ابتدائی ہیں ۔ممکن ہے بعد میں حتمی اعدادوشمار میں معمولی تبدیلی ہو جائے)۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ سیلابوں اور عالمی معاشی سست روی کے باعث تقریباً 60 ارب روپے کے محصولات متاثر ہوئے، جس نے ٹیکس نیٹ کے اہداف کو مزید چیلنجنگ بنا دیا۔ ایف بی آر کی پالیسی میں چند نمایاں تبدیلیاں بھی متعارف کروائی گئی ہیں، مثلاً انکم ٹیکس ریٹرن فارم سے ”Estimated Market Value” کا خانہ ہٹا دیا گیا ہے تاکہ ریٹرن فائل کرنے والوں کے لیے سہولت بڑھے اور غیر ضروری پیچیدگیاں ختم ہوں۔
ایک اور اہم پیش رفت ایف بی آر کے ’’لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل‘‘کا قیام ہے جو جدید ڈیجیٹل طریقوں سے سوشل میڈیا پر سرگرمیوں، جائیدادوں اور طرزِ زندگی کے شواہد کی بنیاد پر ٹیکس چوری کرنے والوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تقریباً 40 تفتیشی افسران پر مشتمل یہ یونٹ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالٹکس کے ذریعے یہ جانچتا ہے کہ کس شہری کا طرزِ زندگی اس کی ظاہر کردہ آمدنی سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیںاور یہ اقدام شفاف احتساب اور جدید ٹیکس نفاذ کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ایف بی آر کو جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، خودکار ڈیٹا انضمام اور مشین لرننگ پر مبنی نگرانی کے نظام سے لیس کیا جائے تاکہ ٹیکس چوری کے خلاف کارروائیاں مؤثر ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کی ہدایت پر ایف بی آر کی ری سٹرکچرنگ پر کام جاری ہے جس کے تحت ادارے کو سیاسی اثر سے آزاد، پیشہ ورانہ خطوط پر استوار اور کارکردگی پر مبنی ترقیاتی ماڈل میں بدلا جا رہا ہے۔ وفاقی بجٹ 2025-26 ء میں حکومت نے واضح طور پر ٹیکس بیس بڑھانے، غیر دستاویزی معیشت کو نظام میں شامل کرنے اور مراعات کے نظام کو شفاف بنانے پر زور دیا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے رواں سال ڈیجیٹل ٹیکس پورٹل اور نئی موبائل ایپلی کیشنز متعارف کروائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو ایک کلک پر ٹیکس ریٹرن فائل کرنے، ریفنڈ اسٹیٹس دیکھنے اور شکایات درج کرنے کی سہولت میسر ہو۔ حکومت نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے جو قومی سطح پر تمام سرکاری محکموں کے ڈیجیٹل انضمام اور ڈیٹا شیئرنگ کو مربوط بنائے گی، تاکہ ایف بی آر بینکوں، نادرا، زمین کے ریکارڈ دفاتر اور دیگر اداروں سے ڈیٹا حاصل کر کے درست اور تیز رفتار فیصلے کر سکے۔ اگرچہ یہ تمام اقدامات درست سمت میں اٹھائے گئے ہیں مگر چیلنجز ابھی بھی بہت ہیں، جن میں عوامی اعتماد کی کمی، عدالتی تنازعات، بیوروکریٹک سستی اور غیر رسمی معیشت کا حجم سب سے بڑے مسائل ہیں۔ ایف بی آر کے موجودہ نظام میں ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے شفافیت ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے عوامی آگاہی مہمات شروع کی جا رہی ہیں تاکہ لوگ ٹیکس کو بوجھ کے بجائے قومی خدمت سمجھیں۔ مزید برآں حکومت کی پالیسی ہے کہ آئندہ برسوں میں غیر منظم شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا، خاص طور پر رئیل اسٹیٹ، کنسٹرکشن اور ڈیجیٹل بزنس کو۔ ٹیکس چوری کے خاتمے کے لیے لائف اسٹائل مانیٹرنگ، بینک ٹرانزیکشنز کا خودکار تجزیہ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک اسیسمنٹ نظام جلد نافذ کیا جا رہا ہے۔
حکومت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ ٹیکس تنازعات کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے خصوصی ٹریبونل قائم کئے جائیں تاکہ سالوں پر محیط مقدمات کا خاتمہ ہو اور ٹیکس دہندگان کو قانونی تحفظ حاصل ہو۔ موجودہ صورتحال میں یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان میں ٹیکس ریونیو میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، مگر اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ایف بی آر کو ادارہ جاتی اصلاحات، پالیسی تسلسل اور انتظامی خود مختاری فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ وزیراعظم کی سربراہی میں قائم ریونیو اسٹریٹجی کونسل (RSC) نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ ایف بی آر کو سیاسی اثر سے مکمل آزاد کر کے اسے پبلک سروس کمیشن طرز کے ادارے کی طرح چلایا جائے، جہاں تقرریاں، ترقیات اور احتساب مکمل شفاف ہوں۔ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت خود ٹیکس دہندگان کے ساتھ شفاف سلوک کرے، ان کے جائز ریفنڈز وقت پر ادا کرے اور رشوت یا دفتری سستی کے واقعات پر سخت کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے، چیمبرز آف کامرس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی ایف بی آر کی مشاورتی کمیٹیوں میں شا مل کیا جا رہا ہے تاکہ فیصلوں میں شراکت داری بڑھے۔ مستقبل میں پاکستان کے محصولات میں حقیقی اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومت ٹیکس نیٹ کی توسیع، ٹیکنالوجی کی جدت، انسانی وسائل کی تربیت اور شفاف احتساب کو یکجا کرے۔ اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ایف بی آر اپنے کردار کو محض محصولات جمع کرنے والے ادارے سے بڑھا کر ایک ’’ریونیو اسٹریٹجی ادارہ‘‘ بنائے، جو ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرے، پالیسی میں خود مختار ہو اور عوامی خدمت کے اصول پر قائم رہے۔ حکومت کے حالیہ اقدامات اس سمت میں ایک مثبت آغاز ہیں، مگر اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب ان اصلاحات کو سیاسی تسلسل، انتظامی عزم اور عوامی شراکت کے ساتھ عملی جامہ پہنایا جائے۔ اگر ریاست اس سفر کو ایمانداری سے جاری رکھے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کا ایف بی آر جدید، شفاف اور اعتماد پر مبنی نظام کے ساتھ نہ صرف اپنے اہداف حاصل کرے گا بلکہ ملکی معیشت کو قرضوں کے بوجھ سے نکال کر ایک مضبوط خود کفیل مستقبل کی جانب لے جائے گا۔