مزاحمت اسلامیہ، فلسطین کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم ہے۔شیخ احمد یاسین نے اس کی بنیاد 1987ء میں رکھی۔شیخ احمد یاسین اگرچہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو چکے ہیں‘لیکن انہوں نے فلسطین کی آزادی کا جو پیغام دیا اور حریت کی جو شمع جلائی وہ آج تک روشن اور زندہ و تابندہ ہے2004 ء میں شیخ احمد یاسین اور ان کے جانشین عبدالعزیز کی شہادت کے بعد بھی حماس کی تحریک میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تنظیم مضبوط ہوتی چلی گئی اور اس تحریک کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔حماس انتظامی طور پر دو بنیادی حصوں میں تقسیم ہے۔پہلا معاشرتی اور دوسرا عسکری ونگ پر محیط ہے‘کہا جاتا ہے حماس کی ایک شاخ اردن میں بھی ہے جہاں اس کے ایک اعلیٰ سطح کے رہنما خالد مشعل کو اسرائیل نے متعدد بار قتل کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار ہی اپنی اس کوشش میں ناکام رہا۔ اردن میں جب شاہ حسین کا اقتدار تھا تو کسی نہ کسی طرح انہوں نے حماس کو برداشت کئے رکھا،تاہم ان کے جانشین شاہ عبداللہ دوم،جن کی والدہ ایک انگریز خاتون تھیں، نے حماس کا ہیڈ کوارٹر بند کر دیا جس کے بعد تنظیم کے کئی رہنما قطر جلاوطن کر دیئے گئے-خطے میں امریکی پشت پناہی سے قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں ہونے والے ماضی کے ابتدائی عملی اوسلو معاہدے کی مخالفت میں حماس پیش پیش رہی- ماضی کے اس پہلے معاہدے میں فلسطین کی جانب سے اسرائیلی ریاست کے تحفظ کی یقین دہانی کے بعد اسرائیل کا مقبوضہ علاقوں سے جزوی اور مرحلہ وار انخلا شامل تھا۔
1995ء میں حماس نے اپنے ایک بم بنانے والے کارکن یحییٰ کے اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہونے کے بعد فروری اور مارچ 1996 ء کے دوران اسرائیلی بسوں کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا۔شہید ہونے والا حماس کا رکن یحیی بنیادی طور پر ایک انجینئر تھا جو حماس کے لیے بم بناتا تھا۔گوریلا کمانڈر کے طور پر بھی وہ بہت مشہور تھا-جسے اسرائیلی مہندس الموت یعنی موت کا انجینئر کے نام سے یاد کرتے تھے-اسرائیلی بسوں پر خودکش حملوں کے بعد اسرائیل کے قدامت پسند رہنما بنیامین نیتن یاہو نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو اوسلو معاہدے کے مخالفین میں وہ بھی شامل تھے-حماس نے مہاجرین کے کیمپوں میں شفاخانے (کلینک)اورسکول قائم کئے۔ جہا ں فلسطینیوں کا علاج کیا جاتا تھا-اس وقت فلسطین پی این اے کی بدعنوان اور نااہل حکومت سے مایوس ہو چکے تھے- اور اس کی اکثریت نے حماس کے خودکش حملوں پر خوشی کا اظہار کیا- ان حملوں کو اسرائیل سے انتقام لینے کا سب سے بہتر راستہ جانا-اپنی پالیسیوں کی وجہ سے حماس نے 2006 ء کے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی 2006 ء اور 2007 ء میں حماس اور الفتح کے درمیان اختلافات کافی شدت اختیار کر گئے-اس طرح فلسطین میں ایک نئی خانہ جنگی کا آغاز ہوا۔ دونوں تنظیموں کے درمیان مفاہمت کی کئی کوششیں ہوئیں لیکن ان میں ناکامی ہوئی۔ آخر کار صدر محمود عباس نے جن کا تعلق الفتح سے ہے جون 2007 ء میں حماس کی جمہوری حکومت کو توڑ کر اپنی خود ساختہ کابینہ کا اعلان کر دیا۔ایسا کرتے وقت محمود عباس کو امریکہ اور اسرائیل دونوں کی آشیر باد حاصل تھی۔فلسطینی علاقوں میں انتہا پسندی کی علامت سمجھی جانے والی یہ تنظیم اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی۔تنظیم کا قلیل المعیاد مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کا مکمل انخلا ہے جبکہ طویل المعیاد ہدف ایک ایسی فلسطینی ریاست کا قیام ہے جو ان علاقوں پر مشتمل ہو جن کا بیشتر حصہ سن 48 میں یہودی ریاست کے بعد سے اسرائیل کا حصہ ہے-حماس کے بانی شیخ احمد یاسین مرتے دم تک تنظیم کے روحانی قائد بھی رہے انہیں سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کے حکم پر فوج نے 22 مارچ سن دہ ہزار چار میں ایک فضائی حملے کے دوران ہلاک کر دیا۔تاہم حماس کے کئی رہنما برسوں سے امان میں مقیم ہیں جہاں انہیں اردن کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے- حماس کے دو بڑے دھڑے ہیں جو بالکل مختلف کام انجام دیتے ہیں۔
ایک دھڑا مذہبی اور سماجی خدمات سرانجام دیتا ہے جبکہ دوسرا دھڑا عسکری نوعیت کا ہے جو عزالدین القسام بریگیڈ کہلاتا ہے۔اسرائیلی اور مقبوصہ علاقوں میں وہ بہت سے حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے اسرائیل کے ساتھ تازہ جھڑپوں کے بعد حماس کو بہت پذیرائی ملی ہے اور دنیا میں کئی حوالوں سے اس کا نام لیا جانے لگا ہے-غزہ پٹی 2007 ء سے حماس کے کنٹرول میں ہے۔تنظیم کے کئی غیر ملکی اتحادی بھی ہیں۔اس موقع پر یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ اسرائیل پر حملوں کے لیے حماس کو راکٹ کہاں سے ملتے ہیں اور تنظیم کی مالی معاونت کون کرتا ہے؟ جرمن میڈیا ماضی میں حماس کو شدت پسند اسلامی تنظیم قرار دیتا تھالیکن اسرائیل اور فلسطین کے مابین جاری موجودہ تنازعے میں اب مغربی میڈیا اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم سے تعبیر کر رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یورپی یونین اور امریکہ حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
مغربی ممالک میں سے صرف ناروے اور سوئٹزرلینڈ ہی ایسے ممالک ہیں جنہوں نے اب تک حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیا۔ انہوں نے غیر جانبدار سخت پالیسی اختیار کرتے ہوئے حماس کے ساتھ روابط قائم کر رکھے ہیں1980 ء میں جب حماس کا وجود عمل میں آیا، اس وقت یاسر عرفات اس کی قیادت کر رہے تھے۔حماس کے قیام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں اسرائیلی حکومت نے اسے مالی معاونت بھی فراہم کی تھی تاکہ تنظیم سے کام لے کر یاسر عرفات کے اثر کو زائل کیا جا سکے‘تاہم حماس اور اسرائیل دونوں ہی ماضی میں ایسے دعوں کی سختی سے تردیر کرتے رہے ہیں-اسرائیلی بمباری سے متاثرہ غزہ پٹی کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں ہوتا ہے۔ مصر اور اسرائیل کی سخت نگرانی کے باعث غزہ پٹی کا دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔اگرچہ صدر ٹرمپ کے 20 نکات کے بعد صورت حال بدل رہی ہے-