Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

دہشت گردی اور دو بھگوڑوں کی ’’ایکس سپیس‘‘

دہشت گردی کا معاملہ بے حد گمبھیر ہے ۔ پاکستان میں نسل پرست علیحدگی پسند اور مذہبی شدت پسندی پر یقین رکھنے والے گروہ متحرک ہیں۔ ریاست نے انہیں بالترتیب ’’فتنہ ہندوستان‘‘اور’’فتنہ خوارج‘‘ قرار دیا ہے۔ پاکستان کا ریاستی موقف بہت واضح ہے۔ ہر دو طرح کے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین پاکستان دشمن دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے۔ افغانستان پر طالبان کی عبوری حکومت ہے۔ یہ حکومت عالمی اصولوں کے مطابق غیر منتخب اور غیر نمائندہ ہے۔ بیشتر ممالک معاملات کو چلانے کے لئے طالبان عبوری حکومت سے رابطے تو قائم کرتے ہیں لیکن اسے مجاز نمائندہ حکومت تسلیم نہیں کرتے۔ یہ امر باعث تشویش ہے کہ افغان عبوری حکومت کے بعض دھڑے کالعدم دہشت گرد گروہوں کے معاون اور ہمدرد ہیں۔ یہ معاملہ پاک افغان دو طرفہ تعلقات میں وجہ تنازع بنا ہوا ہے۔ مودی سرکار کے سر پر پاکستان کو برباد کرنے کا بھوت سوار ہے ۔آپریشن سیندور کی ذلت آمیز شکست کا زخم بھرا نہیں۔ زخمی سانپ کی طرح پلٹ کر وار کرنے کے لیے مودی سرکار اور بی جے پی نے اپنے پھن پھیلا دئیے ہیں۔
بلوچستان اور صوبہ کے پی میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ اس بات کا بین ثبوت ہے۔ بھارت کی شرپسندی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ پہلے یہ قوالی شروع کی گئی کہ آپریشن سیندور ختم نہیں ہوا بلکہ عارضی طور پر روکا گیا ہے۔ اس کے بعد گیدڑ بھبھکیوں کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ہندوستانی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ پاکستان کے حوالے سے زہر افشانی کرنے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ سندوری ایڈونچر کی ناکامی سے بھارتی سینا کی جو ذلت ہو چکی ہے وہ رکھشا منتری کو چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی۔ شکست خوردہ سینا کا حوصلہ بڑھانے کے لیے راجناتھ سنگھ گاہے بگاہے آزاد کشمیر سمیت گلگت بلتستان پر بزور طاقت قبضہ کرنے کا اعلان فرماتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت کا جواز گھڑنے کے لیے بھارت کے پاس سرحد پار دہشتگردی کا گھڑا گھڑایا بیانیہ موجود ہے۔
پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں بھی یہی بے بنیاد بیانیہ استعمال کیا گیا۔ تاہم جس بھونڈے طریقے سے سارا معاملہ آگے بڑھایا گیا اس نے مودی سرکار کی بدنیتی کو بے نقاب کر دیا۔ یہ امر شک و شبہ سے بالا ہے کہ ہندوستان ان تمام دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہا ہے جو پاکستان کی سالمیت کے خلاف فساد پھیلانے کے لیے متحرک ہیں۔ اس معاملے کا یہ پہلو زیادہ سنگین ہے کہ ہندوستان اپنے سیاہ کرتوت چھپانے کے لیے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات تسلسل سے لگا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی آڑ میں بنائی گئی تنظیمیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ہندوستان کے وظیفہ خوار اس کام میں مصروف ہیں۔ ایکس پلیٹ فارم (سابقہ ٹویٹر)پاکستان مخالف کارروائیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ دو بھگوڑوں نے چند روز قبل ’’ایکس سپیس‘‘ پر ایسی ہی ایک واردات ڈالی ہے۔ ایک بھگوڑا کورٹ مارشل شدہ سابقہ فوجی ہے ۔ جبکہ دوسرا بھگوڑا ’’فتنہ خوارج‘‘کا ترجمان اور اے پی ایس پشاور سمیت متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث فتنہ گر ہے۔ عادل راجہ اور احسان اللہ احسان دراصل بھگوڑوں کی وہ قسم ہے کہ جن کا نام ہی فساد، دھوکے، دشنام اور کذب بیانی کی مسلمہ علامت ہے۔ یہ سرٹیفائیڈ بھگوڑے اگر دہشت گردی، پوست کی کاشت اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں(آئی ایس کے پی، ٹی ٹی پی وغیرہ) پر گفتگو کریں تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھگوڑوں کا یہ سوشل میڈیائی تماشہ اپنے بیرونی آقائوں کی ترجمانی اور پاکستان دشمنی کا عملی مظاہرہ تھا۔ جو الزام ہندوستان کی مودی سرکار برسوں سے پاکستان پر لگاتی آئی ہے وہی گھٹیا الزامات ان دو بھگوڑوں نے پاکستان پر عائد کئے ہیں۔ جن دہشت گردوں نے معصوم پاکستانیوں کا خون بہایا ان کا بھگوڑا ترجمان خطے میں دہشت گردی پہ اظہار خیال کرنے کا اہل کیسے ہو سکتا ہے؟ عادل راجہ اور احسان اللہ نے دراصل بھارتی آقائوں کا حق نمک ادا کیا ہے۔ سفید جھوٹ کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے افغانستان میں ٹھکانوں کا ذکر کرنے کے بجائے یہ سوشل میڈیائی فتنہ گر بلوچستان میں آئی ایس کے پی کی موجودگی کا ڈ ھول پیٹ رہے ہیں۔ ایسے الزامات شہداء کے خون، پاکستان کے عوام اور محافظین پاکستان کی تذلیل ہیں۔
سابق حکمران جماعت کے سوشل میڈیائی حامی بھگوڑے عادل راجہ کی کذب بیانی اور پروپیگنڈے کے بہت پرستار رہے ہیں۔ دو بھگوڑوں کی پاکستان دشمنی اور بی جے پی سرکار کی ترجمانی سے ان تمام عناصر کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو کورٹ مارشل شدہ بھگوڑے کو انقلاب کا داعی سمجھتے تھے۔ کابل پر حکومت کرنے والے افغان طالبان نے پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔ یکلخت طالبان کے وزیر متقی صاحب پر عائد پابندی نرم کر کے بھارت یاترا کی اجازت دے دی گئی ہے ۔کالعدم ٹی ٹی پی کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے افغان طالبان اور پاکستان کو نقشے سے مٹانے کی خواہش رکھنے والے بھارت کے ریاستی اہلکاروں کے درمیان ہونے والے راز و نیاز کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ دو بھگوڑے ترجمانوں نے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا کر اصل ایجنڈا بے نقاب کر دیا ہے ۔افغان طالبان کی بھارت یاترا کے بعد بلی تھیلے سے باہر آنے کی قوی امیدہے۔

یہ بھی پڑھیں