Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

ڈیجیٹل انقلاب کی دستک

دنیا آج ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت اور ترقی کا اصل معیار دولت یا قدرتی وسائل نہیں بلکہ علم، ڈیٹا اور ٹیکنالوجی ہے۔ جو ممالک اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں وہ نہ صرف اپنی معیشتوں کو جدید خطوط پر استوار کر چکے ہیں بلکہ اپنی عوام کو بھی نئی مہارتوں اور روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان بھی اب اس سمت میں سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔وزیرِاعظم کے ویژن 2025 ء کے تحت ترقی کا وہ ماڈل اپنایا جا رہا ہے جو انفارمیشن ٹیکنالوجی، آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل فنانس پر مبنی ہے۔ اس ماڈل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قومی معیشت کو ایسی سمت میں آگے بڑھایا جائے جہاں شفافیت، سہولت اور جدت مرکزی ستون ہوں۔ حکومت اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ موجودہ دور میں معاشی استحکام تبھی ممکن ہے جب ریاست اور عوام کے درمیان رابطے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے استوار ہوں۔ملک کے کئی شعبے اب اس تبدیلی کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ تعلیم، صحت، زراعت، تجارت اور بینکاری جیسے شعبے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتاری سے جدید ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت نے سب سے پہلے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی پر توجہ دی ہے کیونکہ جب تک انٹرنیٹ کی رسائی اور ٹیکنالوجی کے وسائل عام شہری تک نہیں پہنچیں گے، ترقی کے ثمرات یکساں تقسیم نہیں ہو سکیں گے۔ یونیورسل سروس فنڈ کے تحت بلوچستان، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے پسماندہ علاقوں میں فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھانے کے منصوبے جاری ہیں، جن کے مکمل ہونے کے بعد لاکھوں افراد جدید سہولتوں سے مستفید ہوں گے۔
مالیاتی نظام میں اصلاحات بھی اسی سمت میں اہم سنگ میل ثابت ہو رہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ”راست” نظام ایک بڑی پیش رفت ہے جس نے مالیاتی شمولیت کے دروازے عام شہریوں کے لیے کھول دیے ہیں۔ اب ایک مزدور سے لے کر بڑے تاجر تک، سب ہی اپنے موبائل فون کے ذریعے فوری، محفوظ اور مفت ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔ یہ نظام نہ صرف معیشت کو باضابطہ بنانے میں مددگار ہے بلکہ نقدی کے غیر ضروری استعمال کو کم کر کے شفاف مالی ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔اس کے ساتھ ہی، فِن ٹیک کے میدان میں نجی شعبے کی شرکت بڑھ چکی ہے۔ نئے ڈیجیٹل بینکنگ لائسنسز کے اجرا ء کے بعد اب شہریوں کے پاس موقع ہے کہ وہ بغیر کسی شاخ میں جائے، اپنے موبائل ایپ پر ہی بینک اکاؤنٹ کھولیں، قرض لیں اور سرمایہ کاری کریں۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ معیشت اب حقیقی معنوں میں عوامی شمولیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔نوجوان طبقے کے لیے حکومت نے خصوصی اقدامات کیے ہیں کیونکہ وہی قومی ترقی کا اصل سرمایہ ہیں۔ وزارتِ آئی ٹی کے زیرِ اہتمام ’’ڈیجیٹل اسکلز فار یوتھ پروگرام‘‘ کے ذریعے ہزاروں نوجوان آن لائن فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، اور گرافک ڈیزائننگ جیسے شعبوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس منصوبے نے پاکستانی نوجوانوں کے لیے عالمی مارکیٹوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ آج ہزاروں پاکستانی فری لانسرز بیرونِ ملک کمپنیوں کے ساتھ کام کر کے زرمبادلہ لا رہے ہیں، جو ملک کی معاشی استحکام میں براہِ راست کردار ادا کر رہا ہے۔کورونا وبا کے دوران جب روایتی کاروبار ماند پڑ گئے تھے تو آن لائن تجارت نے ایک نئی زندگی حاصل کی۔
حکومت نے اس موقع کو بروقت پہچانا اور ای کامرس پالیسی متعارف کرائی جس کے تحت چھوٹے کاروباروں کو آن لائن پلیٹ فارمز پر منتقل ہونے میں مدد دی گئی۔ خواتین، نوجوانوں اور دستکاری سے وابستہ طبقات کو خاص طور پر اس شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع دیے گئے۔ اب پاکستان میں ہزاروں چھوٹے آن لائن اسٹورز فعال ہیں جو عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔زراعت کے شعبے میں بھی ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ موبائل ایپس کے ذریعے کسانوں کو موسمی پیش گوئی، منڈی کی قیمتوںاور کھادوں کی دستیابی کی بروقت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ بعض علاقوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے کھیتوں کی نگرانی اور آبپاشی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف کسان کی محنت کم ہو رہی ہے بلکہ پیداوار میں اضافہ بھی ممکن ہو رہا ہے۔تعلیم کے میدان میں جدید ٹیکنالوجی نے ایک خاموش انقلاب برپا کیا ہے۔ آن لائن کلاسز اور ورچوئل لرننگ پلیٹ فارمز کے ذریعے علم اب ہر شخص کی دسترس میں آ گیا ہے۔ حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے ای لائبریریز اور اوپن کورسز کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ ہر طالب علم اپنے وقت اور ضرورت کے مطابق تعلیم حاصل کر سکے۔سائبر سکیورٹی کا مسئلہ اگرچہ ایک بڑا چیلنج ہے مگر اس کے لیے بھی مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ڈیٹا پروٹیکشن بل اور نیشنل سائبر سیکیورٹی پالیسی کے نفاذ سے شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو جدید آلات اور تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ آن لائن جرائم پر قابو پایا جا سکے۔بین الاقوامی تعاون کے میدان میں پاکستان نے چین، ترکی، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور برطانیہ جیسے ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجی پارٹنرشپ کے معاہدے کیے ہیں۔ ٹیکس کے نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ ایف بی آر نے ای فائلنگ، ای ریفنڈ اور آن لائن رجسٹریشن جیسے اقدامات کے ذریعے نظام کو شفاف بنایا ہے۔ اب کاروباری افراد بغیر دفتر کے چکر لگائے اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں۔ آنے والے برسوں میں دنیا کی معیشت مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہونے جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اوربلاک چین جیسے شعبے عالمی معیشت کی نئی زبان بن چکے ہیں۔ یہ سفر یقیناً آسان نہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان ایک مضبوط، خودمختار اور جدید ملک کے طور پر ابھرے گا ، جہاں ترقی کا پہیہ شفافیت، اعتماد اور تخلیق کے اصولوں پر گھومے گا۔

یہ بھی پڑھیں