Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

طلوعِ مشرق‘عالمی طاقت کانیامحور

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان نہ صرف روس اورچین کے ساتھ تعلقات قائم کررہاہے بلکہ امریکاکے قریب بھی ہے مگر عالمی اسٹیج پرروس اورچین کے ساتھ موجودگی نے اس کی اہمیت کوبڑھادیاہے۔یہ حقیقت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان پاکستان کی اہمیت اورکردارقابلِ قدرہوچکاہے۔ دانشمندی سے بناہوارشتہ، عالمی سیاست کاسب سے زیادہ عمدہ اورمضبوط ہتھیار ہوتا ہے لیکن اس کی دیکھ بھال کے لئے ہمہ وقت چوکس اورہوشیاررہنے کی ضرورت ہوتی ہے وگرنہ لمحوں کی خطا،صدیوں کی سزابن کر کارکردگی کوتنکوں کی طرح بہالے جاتی ہے۔بھارت اورامریکاکی مثال ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح مودی سینہ پھلاکراوراکڑی گردن سے ٹرمپ کو ’’مائی فرینڈ‘‘کہہ کرمخاطب ہوتا تھا کہ گویامودی اورٹرمپ ایک ہی گود میں پلے بڑھے ہیں لیکن مودی خوداپنی ہی تاریخ بھول گیاکہ کس طرح پانڈوں کی مفاداتی طویل جنگیں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں نگل گئیں۔
تھنک ٹینک بروکنگزانسٹیٹیوشن کی سینئرفیلوتنوی مدن نے’’ایکس‘‘پرشہبازشریف اورپوتن کے درمیان مکالمے کاویڈیوکلپ شیئرکیا اورلکھا’’میمزاپنی جگہ، مگرحقیقت کی دنیاالگ ہے۔‘‘یہ بیان عالمی سیاست میں تصاویراورمیمزکے پیچھے موجودحقیقت کواجاگر کرتاہے۔
پوتن بیک وقت کئی محاذوں پرمتوازن کردارادا کر رہے ہیں اورشہبازشریف سے ملاقات میں کہتے ہیں کہ وہ روس اورپاکستان کے تعلقات کوقدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں اورانہیں مزیدمضبوط ومتحرک بنانے کی بات کرتے ہیں۔یہ حکمت عملی عالمی توازن اور خطے میں اعتمادسازی کامظہرہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں۔پہلگام کے بعدٹرمپ کی وجہ سے روس کا مؤقف اکثرلوگوں کی نظرسے اوجھل رہ گیاتھا۔روس نے پہلگام کے حملے کے بعدبھارت کومایوس کیالیکن عالمی میڈیااورعوام کی توجہ کم رہی۔یہ عالمی سیاست میں نظراندازکیے گئے لمحوں کی اہمیت کوظاہرکرتاہے۔اس واقعے سے یہ ظاہرہوتاہے کہ عالمی سیاست میں حقائق ہمیشہ فوری منظرعام پرنہیں آتے،بلکہ پوشیدہ حکمت عملی حرکت کرتی ہے۔
تھنک ٹینک اوآرایف کے بھارت-روس تعلقات کے ماہرالیکسی زخاروف نے لکھاکہ مودی کے چین سے واپس جانے کے بعد،پوتن اورشہبازشریف نے دوطرفہ ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیاجس کے پاک روس کے مستقبل کے تعلقات پرانتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔یہ ملاقات تجارت،تعاون اورخطے میں استحکام کی علامت تھی جوآئندہ چل کر ایک مضبوط شراکت داری میں بھی تبدیل ہونے کاامکان ہے۔یہ بات درست ہے کہ سیاست میں کوئی مستقل دوست اور دشمن نہیں ہوتے۔
پوتن نے پاکستان کوروایتی پارٹنرقراردیا،تجارتی تعلقات بڑھانے اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تعاون بڑھانے کاعزم ظاہر کیا،اور وزیراعظم کو ماسکو کے دورے کی دعوت بھی دی۔شہبازشریف نے پوتن کا شکریہ اداکیا کہ انہوں نے پاکستان کی حمایت کی اورجنوبی ایشیاء میں متوازن کرداراداکرنے کاموقع فراہم کیا،ساتھ ہی کہا، ہم آپ کے انڈیاکے ساتھ تعلقات کااحترام کرتے ہیں،یہ بالکل درست ہے،لیکن ہم بھی روس کے ساتھ بہت مضبوط تعلقات قائم کرناچاہتے ہیں۔’’طاقت کے میدان میں ہرہاتھ کاوزن اہم ہوتا ہے،اور تعلقات کاپل سب سے مضبوط پل ہے‘‘۔یہ بیان عالمی سیاست میں مفاہمت، احترام اورتوازن کے اصول کی عکاسی کرتاہے۔
اب آخری اور اہم بات یہ ہے کہ ابھی مودی کے چین کے دورے کی سیاہی بھی خشک نہ ہوپائی تھی کہ انڈین جنرل چوہان نے اس دورے کی ساری قلعی کھول دی ہے۔مودی کی ایس سی اواجلاس میں شرکت محض ایک سفارتی عمل نہ تھا،بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی بساط پرایک شطرنجی چال بھی تھی۔اس کے فورابعدانڈیاکے چیف آف ڈیفنس نے چین اورپاکستان کو”چیلنج”قراردیکر دراصل یہ اقرارکیاکہ شنگھائی تعاون کی میزپرمسکراہٹیں کچھ اورتھیں اورسرحدوں پرخنجر کی چمک کچھ اور۔یہ اعلان دراصل اندرونی اضطراب کاغمازہے۔جنرل انیل چوہان کایہ کہناکہ چین کے ساتھ سرحدی تنازع سب سے بڑاچیلنج ہے،اس حقیقت کی شہادت ہے کہ ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں پرلگی سرحدی لکیریں آج بھی ان کے دلوں میں آگ بھڑکاتی ہیں۔گویامستقبل کامنظرنامہ بھی اسی برفانی بارودکے گردگھومے گا۔
پاکستان کے ساتھ پراکسی وارکودوسرابڑاچیلنج قراردیناانڈین عسکری ذہن کی پرانی سوچ کاتسلسل ہے۔پاکستان کو’’ہزارزخموں‘‘کی حکمت عملی کاطعنہ دینا،دراصل اپنے اندرونی زخموں کی پردہ پوشی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جوقوم دوسروں کوزخموں کا طعنہ دیتی ہے،اس کے اپنے ناسورکبھی نہیں بھرتے۔جنرل چوہان کاتبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیاجب چین کے شہر تیانجن میں ہونے والی ایس سی اوکانفرنس میں انڈیااورچین کے تعلقات میں گرمجوشی کے آثار ظاہر ہوئے۔مگرسفارت کی مسکراہٹ اورمیدانِ جنگ کی تلخی دوالگ حقیقتیں ہیں۔اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیرِاعظم شہباز شریف نے کی اورعالمی مبصرین کے مطابق پاکستان نے سفارتی شطرنج میں ایسی چال چلی کہ بھارت کے مہروں کوبے بس کردیاہے۔
ڈپٹی آرمی چیف راہل سنگھ نے بھی اسی ساز کا ایک اورسرچھیڑااورچینپاکستان اتحادکوتنقیدکانشانہ بنایا۔ ان کے بقول چین نے انڈیاپاکستان تنازع کوایک ’’لائیولیب‘‘کے طور پر برتا ،جہاں وہ یہ دیکھتارہاکہ اس کے دیے گئے ہتھیارکس طرح کام کرتے ہیں۔یہ بیان دراصل بھارتی عسکری قیادت کے اندیشوں اورناکامی کی دستاویزہے۔آپریشن سندورکے بعدجنرل انیل چوہان نے شنگریلا ڈائیلاگ میں کہاکہ پاکستان نے ممکنہ طورپرچین کے کمرشل سیٹلائٹ کی مددلی۔یہ الزام دراصل اپنی ناکامی کاملبہ دوسروں پر ڈالنے کاایک اوچھاحربہ ہے۔شواہد نہ ہونے کے باوجودیہ تاثر دیا گیاکہ ٹیکنالوجی کی مدد سے بھارت کوشکست ہوئی۔
بلومبرگ ٹی وی کودیے گئے انٹرویومیں جنرل چوہان نے کہا‘اہم یہ نہیں کہ طیارے مار گرائے گئے بلکہ اہم یہ ہے کہ ایساکیوں ہوا۔گویا سوال کی دھند میں حقیقت چھپانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے مارگرائے گئے طیاروں کی تعدادبتانے سے گریزکیا۔یہ خاموشی خودایک اعلان ہے،ایک ایسااعتراف جوزبان سے ادانہیں ہوامگرخاموشی کی زبان میں سب کچھ کہہ گیا۔ تاریخ میں بعض اوقات نہ کہناہی سب سے بڑااعتراف ہوتاہے۔اوریہ سب کچھ ایسے وقت میں کہاگیاجب چین بھارت کے تجارتی رویے پراپنے تحفظات کااظہارکررہا ہے۔پچاس فیصدٹیرف کی مخالفت دراصل اس امرکی گواہی ہے کہ میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ بازارکی معیشت بھی دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئی سرد جنگ کامحاذہے۔
اوراب،اے اہلِ نظر!وہ لمحہ آگیاہے جب تاریخ نے اپنی کتاب کے صفحات پلٹے اورمستقبل کاباب مشرق کے ہاتھ میں لکھنے کی صدابلندہوئی ہے۔طاقت کے نئے محورکی علامت، پاکستان اورمشرقی اتحادکی یکجہتی اورعالمی تعلقات میں توازن کی نوید،یہ سب ہمیں یہ باورکراتے ہیں کہ دنیاکی قیادت اب یکطرفہ نہیں رہی۔
یہ پیغام آج کے عالمی منظرنامے کے لئے بھی اتناہی موزوں ہے مشرق نے اپنی قوت،حکمت اوراتحادکے ذریعے عالمی قیادت کے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ آج ہم ایک ایسے عہدکے گواہ ہیں جہاں تاریخ نے کروٹ لی،اورمستقبل کافیصلہ اب مشرق کے ہاتھ میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں