سوشل میڈیا نے دنیا کو بدل کے رکھ دیا ہے۔ فاصلے سمٹ گئے۔آپ اپنا پیغام،تصویر یا کوئی ویڈیو صرف ایک سکینڈ میں پوری دنیا میں پہنچا اور پھیلا سکتے ہیں۔یہ ایک مضبوط اور موثر ترین ذریعہ ابلاغ ہے۔اظہار رائے کا سب سے طاقتور میڈیم۔سچ تو یہ ہے کہ اس نے نیشنل میڈیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اس کے توسط سے رابطے آسان، اظہار رائے کی وقعت بڑھ گئی ہے۔جہاں سوشل میڈیا کے بہت زیادہ فائدے ہیں وہاں کافی زیادہ نقصان اور منفی اثرات بھی ہیں۔اس سے دماغی صحت کا متاثر ہونا پایا گیا ہے۔سائبر بدمعاشی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بالمشافہ سماجی تعلقات پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔گیمز کی لت اور غیر اخلاقی مواد کے پھیلا نے بہت سے سماجی اور اخلاقی مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔جس سے معاشرتی بے راہروی میں اضافہ ہوا ہے۔ریپ اور زیادتی کے واقعات ہر سطح پر بڑھ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ اور بامقصد استعمال سے ہم دور ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اپنے صارفین کو ضروری مواد بنانے اور شیئر کرنے کی لازوال اور بنیادی سہولت فراہم کرتا ہے۔یہ نیٹ ورک اپنے صارفین کو ایک دوسرے سے جڑنے اور آن لائن کمیونیٹیز بنانے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔اس کے ذریعے معلومات، خیالات،ذاتی پیغامات اور ہر طرح کے مواد کا آزادانہ اشتراک چند ہی لمحوں میں ممکن ہے۔فیس بک، ٹویٹر،انسٹا گرام اور یو ٹیوب اس کی زندہ مثالیں ہیں جن سے بہت سا کام لیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا کے کردار کی بات کریں تو اس سے سماجی رابطوں میں بڑی بہتری آئی ہے۔لوگ،خاندان اور دوست ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔دنیا میں سوشل میڈیا کو معلومات کے تبادلے کا تیز ترین ذریعہ مانا گیا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے توسط سے مختلف موضوعات پر معلومات بہت تیزی سے دوسروں تک پہنچائی جا سکتی ہیں-یہ مصنوعات کی تشہیر کا بھی اہم ذریعہ ہے- لوگوں کی اکثریت اب اس کے ذریعے اپنی مصنوعات کی باآسانی تشہیر کرنے لگی ہے جس کے لئے انہیں کوئی اضافی رقم نہیں ادا کرنی پڑتی۔ بلامعاوضہ ان کی مصنوعات کی تشہیر ہو جاتی ہے۔جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے تعلیمی معاونت بھی حاصل ہو رہی ہے۔گھر بیٹھے آپ کو کم وقت میں بہت زیادہ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔بلاشبہ انسانی زندگی خیالات، محسوسات اور نظریات و جذبات کا مرقع ہے‘جن کے باہمی میلاپ کا نام معاشرہ ہے۔اپنے خیالات و نظریات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیئے انسان ہمیشہ ذرائع ابلاغ کا محتاج رہا ہے۔دورِ ماضی میں یہ ذریعہ ابلاغ قلم، کاغذ تک محدود تھا۔جس کے ذریعے انسان اپنے نظریات و جذبات کا اظہار کرتا تھا۔ اسی کے نتیجے میں کتب کا وجود عمل میں آیا۔اہل علم و دانش اپنی فکر و آرا کو خوش نویسی یا خطاطی کے ذریعے قارئین تک پہنچاتے رہے- ابتدا میں کتب کا یہ سلسلہ چند اہل علم تک محدود تھا۔بعد ازاں اشاعت گھر اور کتب خانے قائم ہونے سے عام آدمی بھی ان سے مستفید ہونے لگا- پھر یہ سلسلہ کبھی نہ رک سکا جو آج تک جاری و ساری ہے۔وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ مزید سائنسی ترقی نے جب انٹرنیٹ سروسز کو جنم دیا تو ذریعہ ابلاغ کا ایک اور نیا موثر باب کھل گیا۔انٹرنیٹ سروسز ایسا جدید اور موثر ذریعہ ابلاغ ہے جس کی وساطت سے نہ صرف دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے بلکہ اس سائنسی ترقی نے بہت سی زمینی دریافتوں کو عبور کرتے ہوئے اب آسمانی دریافتیں بھی شروع کر رکھی ہیں۔انٹرنیٹ سروسز جدید اور مختلف تحقیقاتی پلیٹ فارمز پر محیط ہے‘جن میں زیادہ تر استعمال گوگل، یوٹیوب، جی میل، سکائپ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا ہو رہا ہے۔سوشل میڈیا ایک تیز اور جدید ترین ذریعہ ابلاغ ہے جس کی وساطت سے باآسانی چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کا تعارف اب کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ اس کے ذریعے نہ صرف معلومات عام ہوئیں بلکہ اس نے ہر قسم کی جدید سائنسی تعلیم تک بھی رسائی ممکن بنائی اور دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوئی- انٹرنیٹ اس وقت ہماری زندگیوں کا اہم حصہ بن چکا ہے۔اس کے بغیر اب تعلیم اور اچھی معیشت کا حصول کسی طرح بھی ممکن نہیں۔
بلاشبہ سوشل میڈیا ہماری زندگی میں نہایت برق رفتاری کے ساتھ گھر کے فرد کی طرح اپنی جگہ بنا چکا ہے۔جہاں اس نے سائنس اور تعلیم کو عام کیا وہاں دین سے دوری اور معاشرتی بے راہروی کو بھی عام کیا۔سوشل میڈیا کا بے دریغ اور بلاضرورت استعمال نہ صرف نوجوان نسل بلکہ ادھیڑ عمر افراد میں بھی بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا ایک نشے کی طرح ہر دماغ میں موجود ہے اور انسانی جبلت کی تسکین کا سبب بن رہا ہے۔تسکین کا یہی عمل انسانی زندگی کی تباہی کی بھی بنیاد ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق جب کوئی شخص سوشل نیٹ ورکنگ کر رہا ہوتا ہے تو اس دوران اس کے دماغ کا ایک مخصوص حصہ متحرک ہو جاتا ہے۔لہٰذا سوشل میڈیا ایک ایسا بھیانک نشہ ہے جو اپنے صارفین کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے اہداف کے حصول کی بجائے اپنی ہی تخلیقی صلاحیتوں کا ضیاع کرتے ہوئے خود کو تباہ کر لیتا ہے۔بطور ذمہ دار شہری ہمیں ہر وقت چوکنا رہنا چاہیے۔گھر کے سربراہ کی حیثیت سے ہمیں آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی کہ ہمارے زیر پرورش نئی نسل اس کے منفی اثرات سے بگڑنے نہ پائے۔اس حوالے سے والدین کی اولین ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کس عمر میں، کس حد تک اور کون سے پلیٹ فارمز پر بچوں کی رسائی ممکن ہونی چاہیے اور اس رسائی کے عمل کے دوران بچوں کی مناسب نگرانی اور تربیت بھی بہت لازمی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں چونکہ تعلیمی امور میں ایک بڑا دخل والدین کا ہوتا ہے، جہاں صرف اساتذہ ہی نہیں، والدین بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں- انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے ضروری اور موثر طریقہ استعمال سے اپنی اولاد کو نہ صرف تعلیم مہیا کرتے ہیں‘بلکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ایج ریٹنگ (Age Rating) کے مطابق دیکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ایج ریٹنگ ایسا نظام ہے جس کے تحت یہ طے کیا جاتا ہے کہ کس ایج گروپ کے بعد کن پلیٹ فارمز کا انتخاب کرنا ہے۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جو کلمہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا‘ اجتماعی اور ملی سطح پر ہم اس مقصد اور حصول میں ناکام نظر آتے ہیں۔اس کی اہم وجہ سوشل میڈیا کے ضروری اور موثر استعمال کی آگاہی سے نابلد ہونا ہے ، جبکہ والدین اور اساتذہ کرام بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں‘جس کے نتیجے میں گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان صرف اخلاقی گراوٹ کا ہی شکار نہیں بلکہ یہ جرائم کا بھی بہت بڑا گڑھ بن چکا ہے۔