انسانی تاریخ کی تمام داستانوں میں اگر کوئی ایک موضوع سب سے زیادہ پیچیدہ، جذباتی اور تغیرات سے بھرا ہوا ہے تو وہ عورت کے مقام اور اس کے حقوق کا ہے۔ یہ موضوع صدیوں کی تہذیبی، فکری، مذہبی اور سماجی کشمکش سے منسلک ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قدیم معاشروں میں عورت کو جیتے جی دفن کیا جاتا تھا، اسے وراثت کا حق نہیں تھا، اسے غلاموں سے بھی کمتر سمجھا جاتا تھا، اس کی رائے، شناخت اور وجود کو کسی قانونی یا اخلاقی حیثیت حاصل نہیں تھی۔ مگر اسلام نے آ کر اس غلامی کے اندھیروں میں روشنی کی پہلی کرن ڈالی اور عورت کو ایک مکمل انسان، ایک ذمہ دار شہری اور ایک باعزت ہستی کے طور پر متعارف کروایا۔ اسلام نے ہی چودہ سو سال قبل وہ اصول متعارف کروائے جنہیں آج جدید دنیا ’’ویمن رائٹس‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ بیٹی کو رحمت قرار دینا، عورت کو وراثت میں حصہ دینا،ماں کے قدموں تلے جنت رکھنایہ سب وہ حقوق تھے جن کی بنیاد پر انسانی معاشرے میں انقلاب آیا آج دنیا کے جدید ترین آئین، عالمی معاہدے اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی اہداف اسی بات پر متفق ہیں کہ اگر عورت کو تعلیم، روزگار، فیصلہ سازی اور سماجی قیادت میں برابر کے مواقع نہ دیے گئے تو کوئی بھی ملک حقیقی ترقی حاصل نہیں کرسکتا۔
اسلامی تعلیمات میں عورت کو جو مقام دیا گیا وہ دنیا کی کسی دوسری تہذیب میں میسر نہیں۔ قرآن پاک کی سورہ بقرہ میں ہے:”وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ” یعنی عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں پر واجب ہیں ۔ اس آیت نے صنفی مساوات کا وہ تصور دیا جو آج اقوامِ متحدہ کے منشوروں میںGender Equality کے نام سے پیش کیا جاتا ہے۔یہ آیت دراصل توازن اور انصاف کی بنیاد ہے کہ عورت اور مرد دونوں سماج کے دو پہیے ہیں، اگر ایک کمزور ہو جائے تو دوسرا چاہے جتنا طاقتور ہو، گاڑی نہیں چل سکتی۔
اسی طرح سورۃ آل عمران میں ارشاد ہے: ”إِنِّی لَا أُضِیعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنکُم مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَیٰ” — یعنی میں کسی بھی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ اس آیت نے تمام امتیازات کی دیوار گرا دی اور اعلان کیا کہ اللہ کے نزدیک برتری کا معیار نہ جنس ہے نہ طاقت، بلکہ عمل اور تقویٰ ہے۔ صنفی مساوات کا اصل مقصد صرف عورت کو حق دلوانا نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرتی نظام کی تشکیل ہے جس میں انصاف، محبت اور احترام کا غلبہ ہو۔آج کی عورت صرف اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑ رہی بلکہ انصاف، تعلیم، صحت اور معاشی مساوات کی جنگ بھی لڑ رہی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کی آواز کو سنا جائے، اس کی رائے کو مانا جائے اور اس کی محنت کو سراہا جائے۔ جب عورت گھر میں خوشحال ہوتی ہے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوتا ہے، جب وہ تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو جہالت کی دیواریں گرتی ہیں، جب وہ مضبوط ہوتی ہے تو قوم مضبوط ہوتی ہے۔ آج کی عورت نے اپنے شعور، تعلیم اور ہمت سے صدیوں کی زنجیریں توڑنی شروع کر دی ہیں۔ وہ صرف گھر کی چاردیواری میں نہیں بلکہ درسگاہوں، عدالتوں، پارلیمان، اسپتالوں، میڈیا، اور سائنسی اداروں میں اپنی شناخت منوا رہی ہے۔ وہ ملک کی معیشت میں حصہ لے رہی ہے، خاندان کی کفالت کر رہی ہے اور قوم کی تربیت کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔
پاکستان جیسے معاشروں میں جہاں آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے، وہاں ان کی تعلیم، روزگار، تحفظ اور فیصلہ سازی میں شمولیت محض ایک سماجی تقاضا نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔ اگر ایک عورت کو اس کے حقِ رائے، حقِ ملازمت، حقِ تعلیم یا حقِ وراثت سے محروم رکھا جائے تو یہ نہ صرف اس کے خلاف ظلم ہے بلکہ پوری قوم کی ترقی کے امکانات کو زنگ لگا دینے کے مترادف ہے ۔موجودہ حکومت کی طرف سے صنفی مساوات کو معاشی اور سماجی ترقی کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے متعدد عملی اقدامات مثلاًملک میں ’’تحفظِ خواتین ایکٹ‘‘پر عمل درآمد، ’’اینٹی ہراسمنٹ لا‘‘میں ترامیم، ’’ورک پلیس ایکویٹی پروگرام‘‘ اورحال ہی میں خواتین پولیس اسٹیشنز، لیگل ایڈ یونٹس اور گرلز ایجوکیشن اسکیمز کے ذریعے ان کے حقوق کے تحفظ کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ خواتین کے لیے محفوظ، جدید اور آسان سفری ذرائع جیسے ای-بائیکس، پنک بائیکس اور پنک ٹیکسی سروسز متعارف کروائی جا رہی ہیں۔یونیورسٹی و کالج جانے والی طالبات کے لیے مخصوص بس سروسز، کرایوں میں رعایت، خواتین ڈرائیورز کی تعیناتی اور محفوظ ٹرانسپورٹ زونزوغیرہ فراہم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی حکومت نے نوجوان طالبات کے لیے تعلیمی وظائف اور لیپ ٹاپ اسکیم کو دوبارہ فعال کیا ہے تاکہ وہ ڈیجیٹل تعلیم کے مواقع سے محروم نہ رہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے خواتین کو مالی خودمختاری دینے کے اقدامات، ویمن امپاورمنٹ مراکز کا قیام اور ہنرمند خواتین کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ اسکیمیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست عورت کو خود کفیل، محفوظ اور بااختیار دیکھنا چاہتی ہے۔موجودہ حکومت کی جانب سے خواتین کے لیے اٹھائے گئے یہ اقدامات دراصل ایک نئے دور کی بنیاد ہیں جہاں عورت کو نہ صرف سہولت بلکہ اعتماد، خود مختاری اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اصلاحات اس سوچ کی غمازی کرتی ہیں کہ عورت کو محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے بااختیار بنا کر ہی معاشرہ ترقی کی اصل منزل کو پا سکتا ہے۔ حکومت کے یہ اقدامات محض پالیسی نہیں بلکہ ایک وژن ہیں جو اس یقین پر قائم ہے کہ جب عورت آگے بڑھے گی تو وطن خود بخود روشن ہو جائے گا۔ ملک کی ترقی کا خواب تبھی شرمندہ ٔ تعبیر ہوتا ہے جب عورت کو اس کی حیثیت ، حق اور احترام میسرہو۔آج کی عورت قلم بھی تھامتی ہے، پہیہ بھی چلاتی ہے اور عزم کے ساتھ نئے جہانوں کی تشکیل کر رہی ہے۔اس کی پہچان ہی ہمارا مستقبل ہے اور یہی مستقبل وطن کی اصل ترقی کا نام ہے۔