خیبر پختونخوا کی سیاست میں مولانا کی خواہش کا درجہ اب خواب نہیں، خاندانی منصوبہ بندی کی ایک سیاسی توسیع بن چکا ہے۔ ہر الیکشن کے بعد مولانا کی نگاہ اقتدار کے سنگھاسن پر نہیں، وزیر اعلیٰ ہاس کے چوبی دروازے پر ٹکتی ہے جہاں وہ اپنے بھائی کے لیے دستک دینا چاہتے ہیں۔ ادھر وفاق اپنے روایتی کھیل میں مصروف سازش کے تانے بانے بنتا ہوا، کبھی گورنر کے اختیارات سے، کبھی اتحادیوں کی ترغیب سے آس لگاتا ہے مگر اس بار معاملہ کچھ مختلف ہوا‘ پی ٹی آئی کا قلعہ جسے مولانا ’’خیمہ‘‘سمجھ رہے تھے وہ فولادی قلعہ ثابت ہوا۔ کارکنوں کے اختلافات جو محاذ کی بنیاد بننے والے تھے، اچانک ختم ہوئے اور سہیل آفریدی کے انتخاب نے تمام سیاسی برج الٹ دیئے بلکہ مولانا کے تمام سیاسی نقشے بکھیر دئیے۔ یوں ایک بار پھر خواہش اور سازش کے بیچ وہی ہوا جو تاریخ میں بارہا ہوتا آیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں مذہبی سیاست کی جڑیں ہمیشہ گہری رہی ہیں۔یہ وہ خطہ ہے جہاں جمعیت علمائے اسلام کا اثر کبھی مذہب کے نام پر، کبھی قومیت کے لبادے میں، اور کبھی مزاحمتی بیانیے کے ذریعے قائم رہا۔مولانا فضل الرحمن کے لیے یہ صوبہ ہمیشہ اقتدار کے خواب کا مرکزو محور رہا ہے۔2024ء کے انتخابات کے بعد جب وفاقی بندوبست کمزور ہوا، مولانا نے ایک بار پھر اپنے بھائی کو وزیر اعلیٰ بنانے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ۔ انہیں لگا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، گرفتاریوں، اور قیادت کے بحران کے بعد میدان صاف ہوگیا ہے لیکن سیاست کی بساط ایک بار پھر پلٹ گئی۔پی ٹی آئی، جو بظاہر بکھری ہوئی تھی، اچانک صف بند ہو گئی اختلافات جنہیں وفاقی لابی ہوا دے رہی تھی، چند دنوں میں تحلیل ہو گئے اور پھر سہیل آفریدی کا انتخاب ایسے اتفاقِ رائے سے ہوا کہ وفاقی تجزیہ کار بھی حیران وششدر رہ گئے۔یہ وہ لمحہ تھا جب مولانا کی سیاست کا مرکز جو ہمیشہ توقعاتی منصوبہ پر چلتا ہے احساساتی دھچکے سے دوچار ہوا۔اب کی بار،بھی مولانا کی توقعات کی غلط فہمی اور وفاق کی سازش دونوں نقش برآب ہوئے۔
وفاق نے بظاہر غیر جانبداری کا لبادہ اوڑھا، مگر درپردہ سیاست کا توازن بدلنے کے لئے خاموش چالیں چلیں تاہم پی پی پی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے جمہوری اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے گورنر کو حلف لینے کے احکامات صادر کر کے سب تدبیریں خاک میں ملا دیں۔عدالتی فیصلہ اس پر مستزاد، مولانا سمجھتے رہے کہ پی ٹی آئی کا قلعہ نامستحکم ہے،وفاق سمجھتا رہا کہ مذہبی کارڈ وقتی شور ہے۔مگر دونوں کی چالیں ایک دوسرے کو کاٹ گئیں۔ سہیل آفریدی کا انتخاب دراصل اس بات کی علامت ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے اس بار ’’مذہب بمقابلہ نظم‘‘کی نہیں،بلکہ استحکام بمقابلہ مصلحت کی سیاست کو ترجیح دی ہے ،یہ پیغام وفاق کے لیے بھی غیر معمولی تھا کہ صوبے کی خودمختاری کے بیانیے میں اب مذہب نہیں، نظم و عمل کی زبان چلتی ہے۔’’مولانا کی خواہش‘‘ اگر خاندانی مفادات سے بلند نہ ہوئی اور ’’وفاق کی سازش‘‘ اگر جمہوری عمل میں مداخلت کی حدوں سے باز نہ آئی تو قلعہ بار بار گرے گا کبھی پشاور میں، کبھی اسلام آباد میں۔اس وقت خیبر پختونخوا کا منظر نامہ بتا رہا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے قلعے کی دیواریں ازسرِنو تعمیر کر لی ہیں اور مولانا کے لئے خواہش کا محل ریت پر بنایا گیا ہے۔
سیاست کا پہیہ ہمیشہ گھومتا ہے،لیکن ہر بار ایک نیا سبق دے کر جاتا ہے کہ خواب‘خواہش اور سازش تینوں وقتی ہیں،اصل قلعہ وہی رہتا ہے جس کی بنیاد عوام کے اعتماد پر ہو۔ پاکستان کی سیاست میں ایک زیرک سیاستدان ہونے کے باوجودمولانا کی خواہش ہمیشہ ایک خواب اور وفاق کی سازش ہمیشہ ایک طرفہ تماشا رہی ہے۔خواب یہ کہ اقتدار کو ایمان کی خوشبو مہیا ہوجائے اور تماشا یہ کہ ایمان کو اقتدار کی منڈیمیں سجا کر اس کی قیمت لگوائی جائے ۔ ایک طرف مولاناکی آرزو ہے کہ پاکستان حقیقی ’’ریاست مدینہ‘‘بنے ، دوسری طرف وفاقی ایوان ہیں جو ہرنعرے کو فائلوں اور فارمولوں کی دھول میں دفن کر دیتے ہیں ۔یہاں اصولوں کی قدرو منزل بس اس حد تک ہے کہ جس قدراقتدار کے کاسے میں سماسکیں اور سازش اتنی دیرینہ ہے کہ جتنی اس ملک کی صبح قیام ، سو جب بھی مولاناکی تمناعود کرتی ہے ،وفاق سازش کرتا ہے ۔جب دونوں اپنی اپنی انتہاکو پہنچتے ہیں تو انجام وہی ہوتا ہے جو خیبرپختونخوا میں ہوا یعنی سب کے قلعے مسمارہو جاتے ہیں ۔