Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

یومِ سیاہ: کشمیر کا نہ بھولنے والا زخم

اکتوبر کا مہینہ اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، مگر کشمیریوں کے لیے ایک سیاہ داستان کا آئینہ دار ہے۔ 27 اکتوبر 1947 ء کا وہ منحوس دن، جب بھارتی فوج کے ناپاک قدموں نے سرینگر کے ہوائی اڈے کو چھوا۔وہ دن نہ صرف کشمیری تاریخ کا ایک المناک باب ہے بلکہ انسانی حقوق کی پامالی کا ایک عظیم سانحہ بھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب کشمیریوں کی آزادی کی امنگوں کو مسخ کردیا گیااور ایک ایسی غلامی کا آغاز ہوا جو آج تک ان کی رگوں میں درد بن کر دوڑ رہی ہے۔تقسیمِ برصغیر کے اصولوں کے مطابق، جموں و کشمیر کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی آزادی دی تھی،لیکن بھارتی حکمرانوں نیعالمی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے اس حق کو پامال کیا۔بھارتی فوج نے رات کی تاریکی میں سری نگرکے ہوائی اڈے پر اتر کر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو چھین لیا۔ اس دن سے ایک ایسی روشن جدوجہد کا آغاز ہوا جو خون، قربانیوں، اور لازوال عزم کی داستان ہے، محض زمین کے ایک ٹکڑے کی جنگ نہیں،قوم کی شناخت، اس کی تہذیب،وجود بلکہ حق کی لڑائی ہے۔بھارتی فوج کی چھائونیوں نے وادی کے حسن کو خون آلود کیا،خواتین کی عزتوں کو تار تار کیا، نوجوانوں کو جیلوں کی تاریکی میں قید کیااور معصوم بچوں کے خوابوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ یہ ظلم و ستم کی داستان محض اعداد و شمار تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر اس کشمیری کے دل کا کرب ہے جو اپنی سرزمین پر اجنبی بن کر رہ گیا۔
27 اکتوبر کو ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر منانا کشمیریوں کا وہ احتجاج ہے جو عالمی برادری کو یہ یاد دلاتا ہے کہ بھارت کا جموں و کشمیر پر قبضہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انسانی اقدار کے منافی بھی ہے۔ یہ دن نہ صرف ماضی کے زخموں کو تازہ کرتا ہے بلکہ کشمیری عوام کی اس عظیم جدوجہد کو بھی اجاگر کرتا ہے جو اپنے حق خود ارادیت کے لیے آج بھی جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں نے کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا حق دیا تھا، لیکن بھارت نے ان قراردادوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔ یہ ایک ایسی بددیانتی ہے جو عالمی امن اور انصاف کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔بھارت نے اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کیا جو استعماری طاقتوں کی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ فوجی چھائونیوں سے لے کر جابرانہ پالیسیوں تک، بھارت نے کشمیری عوام کو ان کی اپنی سرزمین پر محکوم بنا دیا۔ 5 اگست 2019 ء کو جب بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، تو یہ ایک اور سنگین زخم تھا جو کشمیریوں کے دل پر لگا۔ یہ اقدام نہ صرف کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی تھا بلکہ بھارت کے ہندوتوا ایجنڈے کی ایک واضح مثال بھی تھا۔ بی جے پی کی زیر قیادت حکومت نے نہ صرف کشمیریوں کی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی بلکہ ان کے کاروبار، روزگار، اور معاشی وسائل کو بھی محدود کر دیا۔ لیکن کشمیری عوام کا عزم کوئی عام عزم نہیں۔ یہ وہ جذبہ ہے جو خون کے دریا عبور کر چکا ہے۔ لاکھوں جانوں کی قربانیاں، ماں کی گودوں سے چھینے گئے بچوں کی چیخیں، اور باپ کی پیشانی پر پڑی سلوٹوں کی کہانیاں اس عزم کی گواہ ہیں۔ کشمیریوں نے اپنی شناخت کو برقرار رکھا اور اپنی آواز کو عالمی سطح پر بلند کیا۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی جدوجہد محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں، بلکہ ایک عالمی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کی ہے۔ یہ حمایت محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے جو پاکستان نے ہر عالمی فورم پر ادا کیا۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مسلسل مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کریں اور بھارت پر دباو ڈالیں کہ وہ اپنے غیر قانونی قبضے کو ختم کرے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے جب تک کشمیریوں کو ان کا جائز حق نہیں ملتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی، اور پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہے گا۔
یومِ سیاہ منانے کا مقصد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ یہ دن کشمیریوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے، اور ساتھ ہی بھارت کو یہ پیغام دینے کا دن ہے کہ اس کا جبر کبھی کشمیریوں کے عزم کو توڑ نہیں سکتا۔ کشمیری عوام کی جدوجہد ایک ایسی آگ ہے جو بھارتی ظلم کی ہواوں سے بجھنے والی نہیں۔ یہ آگ ایک دن ضرور بھارت کے جابرانہ تسلط کو خاکستر کر دے گی۔اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس انسانی المیے پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ کشمیریوں کے خون سے رنگین وادی کی آواز کو سننا ہوگا۔ ان کی جدوجہد کو صرف ایک سیاسی تنازعہ سمجھنا انسانی اقدار کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنا عالمی اداروں کا فرض ہے۔ اگر یہ ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے، تو یہ ان کی ساکھ اور عالمی انصاف کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان ہوگا۔کشمیر کی وادی، جو کبھی اپنے حسن اور سکون کے لیے مشہور تھی، آج خون اور آنسوئوں سے تر ہے۔ لیکن اس تر دھرتی پر ایک امید کی کرن اب بھی باقی ہے۔ یہ امید کشمیری عوام کے دلوں میں پلنے والا وہ جذبہ ہے جو انہیں ہر ظلم کے مقابلے میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ہمت دیتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ وہ دن دور نہیں جب یہ خون برگ و بہار لائے گا، اور کشمیری عوام اپنی سرزمین پر آزادی کی سانس لیں گے۔یومِ سیاہ ہر سال کشمیریوں کو ان کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن بھارت کے ظلم کے خلاف ایک احتجاج ہے، اور عالمی برادری کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے کہ وہ اس انسانی المیے کے حل کے لیے آگے آئے۔ کشمیری عوام کی یہ جدوجہد صرف ان کی اپنی نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی ہے جو انصاف اور آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ جب تک کشمیر کی وادی میں آزادی کا سورج طلوع نہیں ہوتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی، اور پاکستان اس جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہر قدم پر ساتھ رہے گا۔یہ کالم کشمیری عوام کی جدوجہد، ان کی قربانیوں، اور ان کے ناقابلِ شکست عزم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ ایک آواز ہے جو وادی کے ہر کونے سے گونجتی ہے، اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے کہ وہ اس ظلم کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ کشمیر کی آزادی نہ صرف ایک قوم کا خواب ہے بلکہ انسانی وقار اور انصاف کا تقاضا ہے۔

یہ بھی پڑھیں