Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

تحریک لبیک پر پابندی‘سیاسی جماعتوں کا مستقبل خطرے میں؟

2024ء کے عام انتخابات میں 29 لاکھ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر مریم نواز کی پنجاب حکومت کی سفارش پر شہباز شریف کی وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کر دی، سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کہتے ہی کہ تم تحریک پہ پابندی لگانے میں اگر کامیاب بھی ہو گے تو لبیک یا رسول اللہ (ﷺ) پر پابندی کیسے لگائو گے؟یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات میں تحریک لبیک نے 2018ء کے عام انتخابات کے نسبت تقریباً آٹھ لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کئے۔یعنی تحریک لبیک کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔سوال یہ ہے کہ کیا تحریک لبیک پر پابندی لگا دینے سے یہ پنجاب کے 25 لاکھ ووٹ واپس مسلم لیگ نون کو مل پائیں گے؟ اور تحریک لبیک پر عائد پابندی کو اہل سنت بریلوی مسلک کے اندر کہ جن کی پاکستان میں ایک بہت بڑی آبادی ہے، کو قبول کر لیا جائے گا؟ تحریک لبیک پر لگنے والی پابندی پر گستاخان رسول کے سہولت کار اور حامی حلقوں کے علاوہ چناب نگر سے لے کر لندن تک کی قادیانی لابی جس طرح جشن منا رہی ہے وہ میرے جیسے صحافتی طالب علم کے لئے انتہائی حیرت کا باعث ہے۔پاکستانی قوم کے لئے بھی یہ بات کسی لمحہ فکریہ سے کم نہیں کہ وہ وقاص گورایا کہ جس پر الزام ہے کہ وہ 2017ء میں سوشل میڈیا پر بھینسا، روشنی وغیرہ کے نام سے بنے پیجز کے ذریعے گستاخانہ مواد بالخصوص توہین رسالت پر مبنی بدترین مواد کی تشہیری مہم میں ملوث تھا، تحقیقات پر فرار ہوا ،اس نے بھی باقاعدہ ٹوئٹ کرکے تحریک لبیک پر پابندی عائد کئے جانے پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث نام نہاد مفرور صحافی احمد نورانی،جس کو اس کی سابقہ اہلیہ قادیانی قرار دے چکی اور وہ ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستانی اداروں کے خلاف اور گستاخان رسول کی حمایت میں مہم چلا رہا ہے،نے بھی تحریک لبیک پر لگنے والی پابندی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ملحدین،قادیانی،سیکولر اور لبرل شدت پسند حلقے جس طرح تحریک لبیک پر لگنے والی پابندی پر خوشیاں منا رہے ہیں وہ بہرحال پاکستانی قوم کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ آخر ایسا کیوں؟سوال یہ بھی ہے کہ کیا ٹی ایل پی ایسے جرائم کی مرتکب ہوئی ہے کہ جس کی بنیاد پر اس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ درست ہو؟اس حوالے سے سینئر قانون دان کامران مرتضی کا کہنا ہے کہ ’’احتجاج کرنا ہر پاکستانی شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، جسے کسی طور پر بھی سلب نہیں کیا جاسکتا۔اگر کوئی سیاسی جماعت احتجاج کی کال دیتی ہے اور اس احتجاج میں کچھ خراب قسم کے لوگ شامل ہوکر قانون کے خلاف کوئی عمل کرتے ہیں تو اس کی بنیاد پر پوری جماعت پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، ان افراد کے خلاف ہی قانون حرکت میں آئے گا۔تحریک لبیک پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی پابندی غیر آئینی و غیر قانونی ہے۔ایسی پابندی بے شک سو دفعہ لگا دیں،اس سے کوئی جماعت کالعدم نہیں ہو جاتی‘‘۔اس خاکسار نے اس معاملے پردیگر کچھ ماہرین قانون سے بھی رائے لی ہے۔ماہرین قانون اس بات پر متفق ہیں کہ آئین پاکستان تمام قوانین سے بالادست ہے۔آئین پاکستان کے خلاف اگر کوئی قانون سازی ہو تو اس قانون کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
آئین پاکستان کی شق 17 کی ذیلی شق 2 میں یہ بات بڑی واضح ہے کہ کسی بھی رجسٹرڈ سیاسی جماعت پر صرف دو صورتوں میں ہی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ایک صورت یہ کہ کوئی رجسٹرڈ سیاسی جماعت پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہو۔دوسری صورت یہ کہ کوئی رجسٹرڈ سیاسی جماعت فارن فنڈڈ ہو۔صرف ان دو صورتوں میں ہی کسی بھی رجسٹرڈ سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کے لئے بھی آئین پاکستان کی مذکورہ شق میں ہی یہ بات واضح کی گئی ہے کہ ان دو صورتوں میں بھی اگر کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنی ہو تو اس متعلق وفاقی حکومت 15 دن کے اندر ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجے گی۔سپریم کورٹ وفاقی حکومت اور جس جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہو،کو سننے کے بعد اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کیا وفاقی حکومت جس بنیاد پر کسی رجسٹرڈ سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کررہی ہے،اس متعلق اتنے شواہد موجود ہیں کہ جن سے آئین پاکستان کی مذکورہ شق میں بیان کئے گئے دو الزامات میں سے کوئی الزام درست ثابت ہو رہا ہو؟اگر سپریم کورٹ وفاقی حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس کے حق میں شواہد کو کافی سمجھے تو وہ اس ریفرنس کی توثیق کرے گی۔جس کے بعد وہ سیاسی جماعت کالعدم تصور ہو گی،جس کے خلاف ریفرنس بھیجا گیا تھا۔اگر سپریم کورٹ شواہد کو ناکافی سمجھے تو وہ اس ریفرنس کو مسترد کر سکتی ہے۔ماہرین قانون کے مطابق وفاقی حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے کے لئے آئین پاکستان کی مذکورہ شق کی روشنی میں بنائے گئے الیکشن ایکٹ کا سہارا لینے کے بجائے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 11بی کا سہارا لے کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کسی ایسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی،جو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بمطابق قانون رجسٹرڈ ہو۔ لہٰذا آئینی و قانونی طور پر ٹی ایل پی اب بھی بطور سیاسی جماعت موجود ہے،تاوقتیکہ آئین پاکستان کی مذکورہ شق پر عملدرآمد کرتے ہوئے ٹی ایل پی پر پابندی عائد نہ کر دی جائے۔ماہرین قانون کی مذکورہ رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ٹی ایل پی پر عائد کی جانے والی پابندی کو دیکھا جائے تو یہ پابندی مضحکہ خیز ہے۔جس انداز میں یا جن وجوہات کی بنیاد پر ٹی ایل پی پر پابندی عائد کی گئی ہے،اسے درست مان لیا جائے تو پھر پاکستان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔کل کو کسی بھی سیاسی جماعت کی سرگرمی پر پابندی عائد کرنی ہو تو بہت آسان ہے کہ اس جماعت کی جانب سے دی گئی کسی بھی احتجاج کی کال میں کچھ ’’کرائے‘‘ کے ’’شر پسندوں‘‘کو شامل کروا کر ان سے لاقانونیت کروائی جائے اور پھر اسے بنیاد بنا کر انسداد دہشت گردی ایکٹ کا سہارا لے کر اس جماعت پر پابندی عائد کر دی جائے۔آخر میں یہ سوال بھی ہے کہ حکومتی نمائندے ٹی ایل پی پر جو الزامات عائد کررہے ہیں،اس سے قطع نظر کہ وہ درست ہیں یا غلط،کیا وہ الزامات ان الزامات سے زیادہ سنگین ہیں کہ جو الزامات حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف پر عائد کئے جاتے رہے ہیں؟کیا جو الزامات ٹی ایل پی پر عائد کئے جارہے ہیں،وہ الزامات زیادہ سنگین ہیں یا سانحہ نو مئی کے متعلق الزامات؟اگر ٹی ایل پی سے زیادہ سنگین الزامات پی ٹی آئی پر ہیں،اس کے باوجود بھی پی ٹی آئی کے خلاف ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا تو پھر ٹی ایل پی کے خلاف مذکورہ اقدام بلاشبہ سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔واضح رہے کہ آئین پاکستان کی شق 25 تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کا پابند کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں