پاکستان کی سیاسی و دینی تاریخ میں اگر کسی شخصیت نے تدبر، بصیرت، استقلال اور حکمتِ عملی سے اپنے وجود کو منوایا ہے تو وہ بلا شبہ مولانا فضل الرحمن ہیں وہ محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک عالمانہ شعور رکھنے والے مدبر اور قومی سطح کے رہنما ہیں جنہوں نے ہمیشہ ملک کے نازک ترین حالات میں استقامت اور اعتدال کا راستہ اختیار کیا۔ ان کی گفتگو میں جہاں دینی شعور کی خوشبو ہے، وہیں سیاسی حکمت کی گہرائی بھی نمایاں ہے وہ جانتے ہیں کہ قوموں کی رہنمائی صرف نعروں، جلسوں یا نغموں سے نہیں ہوتی بلکہ بصیرت، رواداری اور عزم کے ساتھ عملی اقدامات سے ہوتی ہے۔مولانا نے ہمیشہ قومی وحدت، آئین کی بالادستی اور ریاستی اداروں کے درمیان توازن کی بات کی ہے۔ ان کی قیادت کا امتیاز یہ ہے کہ وہ مخالفت میں بھی اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور سیاست کو خدمت دین و ملت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہی وہ اوصاف ہیں جنہوں نے انہیں مخالفین سے بھی احترام دلوایا اور ان کے کردار کو ملکی سیاست میں ایک غیر معمولی حیثیت عطا کی۔مولانا فضل الرحمن نے اپنے سیاسی سفر میں نہ صرف مذہبی طبقے کی رہنمائی کی بلکہ قومی سطح پر اعتدال اور فہم و فراست کی سیاست کو فروغ دیا وہ جانتے ہیں کہ سیاست دراصل تحمل، مفاہمت اور تدبر کا نام ہے، نہ کہ جذباتی نعروں اور وقتی مفادات کی کشمکش۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بحران کے وقت ایسی راہ نکالنے میں کامیاب رہتے ہیں جو ٹکرائو کے بجائے ہم آہنگی کو جنم دیتی ہے۔ان کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ دستورِ پاکستان کی روح کے مطابق مذہبی اقدار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قومی مفاد کو مقدم رکھا۔ انہوں نے دینی طبقات کو عملی سیاست کی راہوں سے روشناس کرایا اور یہ ثابت کیا کہ نظام کے اندر رہ کر اصلاح کی کوششیں ہی پائیدار نتائج پیدا کرتی ہیں۔
مولانا کا یہ یقین ہے کہ قومی قیادت محض اقتدار کے حصول کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری اور قربانی کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تنقید کے باوجود استقامت کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں۔ ان کی سیاسی بصیرت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر قیادت میں علم، حکمت اور صبر جمع ہو جائیں تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین اور بریلوی مسلک کے مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ’’موجودہ سیاسی کھیل میں مولانا فضل الرحمن نے اپنی افتادطبع،تحمل اور دور اندیشی کے سبب اپنی قائدانہ حیثیت کو ایسا منو ایا کہ سب ان کی تعریف میں رطب اللسان ہو گئے۔ حتیٰ کہ پی ٹی آئی کہ جنہوں نے ان کی توہین میں دینی،سماجی اور تہذیبی اقدار کی ساری حدیں عبور کر لی تھیں ایسا یوٹرن لینا پڑا کہ اپنے آپ پر ہنسی آتی ہوگی یا رونا آتا ہوگا،نہ جانے اپنے ضمیر کو کیسے مطمئن کرتے ہوں گے،لیکن آج ان کے نزدیک ’’مولانا‘‘کی تعریف سب سے بڑی سعادت کی بات ہے۔’’مولانا‘‘نے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے میں بڑی ذہبی اور فکری کاوش کی،جو انتہائی قابل تحسین ہے۔اس کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کو اس آئینی ترمیم کا حصہ بنا دیا۔آج وہ بظاہر انکار کے باوجود چیف جسٹس کے لئے پارلیمانی کمیٹی کی رکنیت اختیار کر کے نظام کا حصہ بن چکے ہیں،ولی دکنی نے کہا تھا‘پہلے جو ’’آپ‘‘کہہ کر بلاتے تھا اب وہ’’تو‘‘کہتے ہیں وقت کے ساتھ خطا بات بدل جاتے ہیں۔اس شعر میں آپ تصرف فرما کر َ’’آپ‘‘ ِِ کی جگہ’’تو‘‘ اور’’تو‘‘ کی جگہ ’’آپ‘‘لکھ دیں تو کچھ لوگوں کی حقیقت آپ کو سمجھ آجائے گی۔تاریخ یہ فیصلہ کرے گی کہ خان صاحب کی حکومت کے پورے عرصے میں جنرل فیض حمید نے سیاسی اور پارلیمانی بندوبست کو اپنے ہاتھ میں لے کر ان کی سیاسی اہلیت کو نفع پہنچایا ہے یا نقصان! اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے کسی حد تک ملک کو ایک بڑے سیاسی بحران سے بچا لیا اور امتناع ربا کے لئے آئین میں ایک حتمی تاریخ مقرر کرا کے ایک بڑا دینی ہدف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے لئے بھی ایک مطلوبہ ہدف خاموشی سے حاصل کر لیا۔
اس حوالے سے ہم ان سے رابطے میں تھے۔’’مولانا‘‘کے اس کردار میں دیگر دینی سیاسی جماعتوں کے لئے بھی درس عبرت ہے کہ کیا دین و مسلک اعلیٰ ترین ہدف آئے روز جلسوں،ریلیوں اور دھرنوں کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے یا اس کے لئے حسن تدبیر، تدبر اور حکمت عملی کے ساتھ ساتھ چار دیواری کے اندر اجلاسوں میں اپنی قیادت اور کارکنوں کی تربیت اور ذہن سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔کیا ہر وقت سب کو ملامت کرنا مسئلے کا حل ہے۔ہر قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اج اگر انہیں قومی رہنمائی کا منصب مل جائے تو ملک جس حالت میں بھی ہے،انہیں یہیں سے اگے لے جانا ہوگا،ہر ایک کو ادراک ہونا چاہیے کہ ملک کے حالات مثالی نہیں ہیں۔بس یہی صلاحیت ہمارے ہاں کم یاب بلکہ نایاب ہے۔دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ اگر اپ نظام کے اندر ہیں تو کسی وقت تعداد کم ہونے کے باوجود اپ کی اہمیت غیر معمولی ہو سکتی ہے، اور نظام سے باہر بہت بڑی عوامی حمایت کے باوجود آپ بے وقعت ہیں،گنتی میں نہیں آتے،کیونکہ ہم ایک پارلیمانی جمہوری نظام کے اندر کام کر رہے ہیں۔نظام سے اقتدار کے وہ ایوان مراد ہیں کہ جہاں ہمارے ملکی وملی امور کے فیصلے ہوتے ہیں۔مفتی منیب الرحمن جیسے جید عالمِ دین اور محقق کی یہ رائے پڑھنے کے بعد ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو دن رات مولانا فضل الرحمن کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں، ان کے کردار پر بے جا تنقید کرتے ہیں اور ان کی تصاویر کو بگاڑ کر تمسخر کا نشانہ بناتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ شخصیات کو گالیاں دینے سے سچائی مٹ نہیں جاتی بلکہ کردار کی عظمت اور نمایاں ہو جاتی ہے۔ مولانا نے ہمیشہ علم، تدبر اور استقامت کے ساتھ قوم کی رہنمائی کی ہے، ان کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا ناانصافی اور اخلاقی پستی کی علامت ہے۔مولانا فضل الرحمن اس قوم کی امید ہیں ، یقینا صلیبی یہودی عالمی طاقتیں ان کے پاکستان کا صدر یا وزیراعظم بننے میں رکاوٹ ہیں، لیکن پچیس کروڑ عوام اور اپنے ہم عصر سیاست دانوں میں مولانا فضل الرحمن وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے صلیبی یہودی عالمی طاقتوں کو راضی کرنے کے لئے نہ ڈاڑھی ترشوائی نہ پگڑی بدلی، نہ لباس بدلا اور نہ ہی نظریات اور خیالات میں تبدیلی کی‘مولانا فضل الرحمن اپنی چالیس پینتالیس سالہ سیاسی زندگی میں آج بھی نظریہ پاکستان کے سب سے بڑے محافظ اور تحفظ ختم نبوت ﷺ کے صف اول کے سپہ سالار ہیں’’پاکستانیت‘‘ ان کے رگ وپے میں سرایت کئے ہوئے ہے۔