Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

سوڈان‘ جنگ کے شعلوں میں

افریقہ کے قلب میں واقع سوڈان ، جو کبھی علم، ثقافت اور اسلامی تمدن کا گہوارہ تھا، آج ایک خوفناک خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔ اپریل 2023ء سے جاری اس تباہ کن جنگ نے ملک کو کھنڈرات، بھوک اور موت کے سائے میں دھکیل دیا ہے۔ دو طاقتور عسکری قوتوں کی اقتدار کی ہوس نے پورے معاشرے کو برباد کر دیا ہے اور افسوس کہ دنیا ایک مرتبہ پھر ایک مسلم ملک کی تباہی پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔پس منظر اس کا یہ ہے، کہ اقتدار کی لڑائی جو خون میں نہا گئی، یہ بحران اچانک نہیں ابھرا۔ 2021ء میں ہونے والی فوجی بغاوت نے سوڈان کی سیاسی سمت بدل دی۔ عبوری جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدار کی دو بڑی قوتوں کے درمیان تنا ئو بڑھتا چلا گیا ایک جانب جنرل عبدالفتاح البرہان کی سربراہی میں سوڈانی مسلح افواج (SAF) اور دوسری طرف محمد حمدان دقلو عرف ’’حمیدتی‘‘کی زیر قیادت ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF)۔اقتدار کی کشمکش جلد ہی خونریز جنگ میں بدل گئی۔ اپریل 2023 ء میں خرطوم میں گولہ باری شروع ہوئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ملک میدانِ جنگ بن گیا۔ابتدائی لڑائی صرف خرطوم تک محدود تھی، لیکن کچھ ہی عرصے میں یہ آگ مغربی سوڈان کے دارفور سے لے کر شمالی علاقوں تک پھیل گئی۔اکتوبر 2025 کی تازہ اطلاعات کے مطابق، RSF نے دارفور کے مرکزی شہر الفاشر پر قبضے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں نسلی بنیادوں پر ہولناک مظالم اور قتلِ عام کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔فوج کی پسپائی نے سوڈان کے تقسیم ہونے کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔
شمالی علاقوں پر فوجی کنٹرول ہے، جبکہ مغربی خطہ تقریباً RSFکے زیر اثر آ چکا ہے۔ اگر یہی صورت برقرار رہی تو ملک کے ٹکڑے ہونے کا خدشہ حقیقت بن سکتا ہے۔انسانی المیہ، قحط، وبا اور بے بسی عام ہے. اقوام متحدہ کے مطابق، کروڑوں سوڈانی اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ لاکھوں افراد ہمسایہ ممالک چاڈ، جنوبی سوڈان اور مصر کی سرحدوں کی طرف پناہ کی تلاش میں بھاگ رہے ہیں۔ملک میں خوراک، پانی اور طبی سہولتوں کی شدید کمی ہے۔ امدادی قافلے جنگی علاقوں میں داخل نہیں ہو پاتے، جس سے لاکھوں انسان بھوک اور بیماری کے شکنجے میں ہیں۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق، متاثرین کی بڑی تعداد کو فوری امداد کی ضرورت ہے، خاص طور پر بچوں کو جو بھوک سے نڈھال ہیں۔ ادھر ہیضہ اور چیچک جیسی مہلک بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اکتوبر 2025ء تک رپورٹ ہونے والے کیسز ہزاروں میں ہیں، اور اموات کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ہسپتال یا تو تباہ ہیں یا فوجی اڈوں میں تبدیل کر دیے گئے ہیں۔خرطوم اور دارفور کبھی روشن اور مصروف دارالحکومت خرطوم آج ملبوں کا منظر پیش کرتا ہے۔ سکول،ہسپتال، سرکاری دفاتر اور بازار سب جنگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔دارفور، جو ماضی میں بھی نسل کشی کا شکار رہا، ایک بار پھر انسانی المیے کا مرکز بن چکا ہے۔ RSF کے قبضے والے علاقوں سے خواتین پر تشدد، بچوں کی جبری بھرتی اور شہریوں کے اغوا کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔سفارتی کوششیں اور عالمی بے حسی اپنی انتہا پر ہے۔اقوام متحدہ، افریقی یونین، عرب ممالک اور امریکہ کی سرپرستی میں کئی مذاکراتی نشستیں جدہ اور قاہرہ میں منعقد ہوئیں، مگر کوئی بھی کوشش جنگ بندی کی ضمانت نہ بن سکی۔دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگی جرائم کے الزامات لگاتے ہیں اور اقتدار میں شراکت پر تیار نہیں۔
ماہرین کے مطابق، اس بحران کے حل کے لیے بیرونی دبائو کے ساتھ ساتھ عوامی آواز بھی ضروری ہے، لیکن بدقسمتی سے سوڈان کے شہری خود اس جنگ کا سب سے بڑا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔عالمی طاقتیں امریکہ، یورپی یونین اور خلیجی ممالک اس تنازعے میں موثر کردار ادا کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے حالات نے سوڈان کو عالمی توجہ سے محروم کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، سوڈان کے لیے مطلوبہ امداد کا صرف 40فیصد حصہ ہی جمع ہو سکا ہے۔ انجام کی دہلیز پر کھڑا سوڈان کا یہ جنگ صرف دو فوجی سربراہوں کی ضد نہیں، بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کے انہدام کی علامت ہے۔ اقتدار کے لالچ نے عوام کو مقتل گاہ میں بدل دیا ہے۔جب بندوق عقل پر غالب آ جائے اور طاقت انصاف کو کچل دے، تو قومیں مٹ جایا کرتی ہیں۔
سوڈان کی موجودہ حالت اسی تلخ حقیقت کی گواہ ہے۔اگر فوری جنگ بندی نہ ہوئی تو ملک میں مکمل قحط، ٹوٹ پھوٹ اور سیاسی زوال یقینی ہے۔ عالمی اداروں خصوصاً اقوام متحدہ، عرب لیگ اور افریقی یونین کو چاہئے کہ فوری امدادی اقدامات کریں، انسانی راہداریوں کو محفوظ بنائیں، اور جنگی مجرموں کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف کو متحرک کریں۔سوڈان کی سرزمین، جو کبھی امن و خوشحالی کی علامت تھی، آج انسانیت کی ناکامی کی تصویر بن چکی ہے۔وہی بازار جو کبھی زندگی سے بھرپور تھے، اب خاموش ہیں، صرف گولیوں کی گونج باقی ہے۔اللہ تعالیٰ سوڈان کے بے قصور عوام پر اپنی رحمت نازل فرمائے، ان کے وطن کو دوبارہ امن، روزی اور عزت کی روشنی عطا کرے۔آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں