جنوبی ایشیا کی سیاست میں بہت کچھ بدل رہا ہے۔ برسوں سے جمی برف پگھلنے لگی ہے اور پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں ایک نیا باب کھلتا دکھائی دے رہا ہے۔ ماضی کے بوجھ تلے دبی یہ دو مسلمان ریاستیں اب اپنے عوام کی بہتری، خطے کے استحکام اور مشترکہ ترقی کے لیے ایک نئی سمت میں بڑھ رہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں 2024 ء میں حسینہ واجد حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی منظرنامے میں آنے والی تیز تبدیلیوں نے نہ صرف خطے میں نئی بحث چھیڑ دی بلکہ اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان سفارتی گرمجوشی میں بھی غیرمعمولی اضافہ کیا ہے۔دو دہائیوں کے بعد ڈھاکہ میں ہونے والا نواں جوائنٹ اکنامک کمیشن (JEC) اجلاس اس بدلتی فضا کی واضح علامت ہے۔ یہ اجلاس صرف ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مستقبل کے تعاون کی بنیاد ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش نے ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر ایک ایسے تعلق کی طرف قدم بڑھایا ہے جو اقتصادی، دفاعی اور تعلیمی میدانوں میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
1971 ء کے واقعات نے دونوں ملکوں کے درمیان دیواریں کھڑی کیں، زخم دیے اور بدگمانیاں پیدا کیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت یہ سامنے آئی کہ نہ پاکستان بنگلہ دیش سے الگ رہ سکتا ہے اور نہ ڈھاکہ اسلام آباد سے۔ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتے آج بھی اتنے ہی گہرے ہیں جتنے نصف صدی پہلے تھے۔ دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ ہمیشہ رہا، بس سیاسی حالات نے فاصلہ پیدا کر دیا تھا۔اب جب کہ بنگلہ دیش میں بھارت نواز حکومت کے زوال کے بعد ایک نیا سیاسی دور شروع ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی راہیں تیزی سے کھل رہی ہیں۔ JEC اجلاس میں ہونے والے فیصلے اس بات کی گواہی ہیں کہ اسلام آباد اور ڈھاکہ اب محض سفارتی تعلقات نہیں بلکہ عملی تعاون کی بنیاد پر شراکت داری قائم کر رہے ہیں۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کے استعمال کی پیشکش کی ہے، جو کہ خطے میں ایک بڑی اقتصادی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ بنگلہ دیش اس بندرگاہ کے ذریعے چین، وسطی ایشیا اور دیگر منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جس سے اس کی معیشت کو نئی جہت ملے گی۔تعلیم کے شعبے میں بھی پاکستان نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ 500 مکمل فنڈڈ اسکالرشپس کی پیشکش نہ صرف علمی تعاون کا مظہر ہے بلکہ نئی نسلوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ نالج کوریڈور کی تجویز دونوں ممالک کے درمیان تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی میں شراکت داری کو فروغ دے سکتی ہے، جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس ہوں گے۔اسی طرح، حلال مصنوعات کے معیار اور تجارت کے حوالے سے پاکستان حلال اتھارٹی اور بنگلہ دیش اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیسٹنگ انسٹیٹیوٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط ایک بڑی پیشرفت ہے۔ حلال انڈسٹری ایک تیزی سے بڑھتا ہوا عالمی شعبہ ہے، اور اس میدان میں دونوں ممالک کی مشترکہ کوششیں انہیں اسلامی دنیا میں نمایاں مقام دلوا سکتی ہیں۔
تکنیکی تربیت کے شعبے میں بھی پاکستان نے اپنی ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام کے تحت بنگلہ دیش کے لیے تربیتی نشستوں میں پانچ گنا اضافہ کیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے ماہرین کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع فراہم کرے گا، جو طویل مدت میں خطے کے صنعتی اور سائنسی ڈھانچے کو مضبوط بنا سکتا ہے۔دفاعی اور سکیورٹی تعاون میں جو پیشرفت ہوئی ہے وہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا بنگلہ دیش کا دورہ دونوں ممالک کی عسکری قیادت کے درمیان بڑھتے اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔ جنرل ساحر کی بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان سے ملاقاتوں کے دوران دفاعی روابط بڑھانے، فوجی تعاون مضبوط کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق ہوا۔سلہٹ میں سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کا دورہ اور شکھا انربان پر پھولوں کی چادر چڑھانا محض علامتی عمل نہیں تھا بلکہ اس بات کا اعلان تھا کہ دونوں ممالک کی افواج اب ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہیں۔ بنگلہ دیشی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا، جو اس خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مستقل کوششوں کا اعتراف ہے۔یہ تمام پیشرفتیں واضح کرتی ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات اب محض ماضی کے زخموں کی مرہم پٹی نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا منصوبہ بن چکے ہیں۔ دونوں ممالک اگر اسی اعتماد اور سنجیدگی سے آگے بڑھتے رہے تو جنوبی ایشیا کی سیاسی حرکیات میں بنیادی تبدیلی ممکن ہے۔بھارت کے لیے یہ صورتحال کسی تشویش سے کم نہیں۔ دہائیوں سے دہلی نے بنگلہ دیش کو اپنے زیرِ اثر رکھنے کی کوشش کی، لیکن ڈھاکہ کی نئی سمت اس تاثر کو توڑ رہی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کا قریب آنا بھارت کے اس علاقائی ایجنڈے کے لیے ایک چیلنج ہے جس کا مقصد ہمیشہ اسلام آباد کو تنہا کرنا رہا ہے۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتا تعاون نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی نیک شگون ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی اقتصادی اور دفاعی شراکت داری کو ایک مضبوط فریم ورک میں ڈھال لیں تو جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔
دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ماضی کے اختلافات کو مٹانے اور مستقبل کے اہداف پر متحد ہونے کی حکمت عملی پر عمل کریں۔ باہمی احترام، مساوات اور خودمختاری کی بنیاد پر قائم یہ رشتہ ایک ایسا ماڈل بن سکتا ہے جو دیگر مسلم ممالک کے لیے مثال ہو۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی قربت اس بات کی علامت ہے کہ وقت آ گیا ہے جب برصغیر کے مسلمان ممالک اپنے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو اقتصادی اور تزویراتی طاقت میں بدلیں۔ حسینہ واجد کے دور میں جو دراڑ پیدا ہوئی تھی، وہ اب پر ہو رہی ہے، اور یہ تعلق ایک نئی بلندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس نئے دور میں اگر اسلام آباد اور ڈھاکہ مل کر چلنے کا عزم قائم رکھیں، تو کوئی طاقت انہیں ترقی، استحکام اور باہمی خوشحالی کی منزل سے دور نہیں رکھ سکتی۔ جنوب ایشیا کے مستقبل کی تعمیر اب انہی دو دارالحکومتوں کے باہمی اعتماد اور مشترکہ وژن پر منحصر ہے۔
