کوئی مانے یا نہ مانے مگر زمینی حقیقت یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن صرف شریف خاندان ہی نہیں بلکہ پوری ن لیگ کے محسن ہیں،اگر انہوں نے پنجاب میں مساجد کے ائماء کرام کو دس یا پچیس ہزار دینے کے حکومتی اعلان پر سوالات اٹھائے تھے تو یہ ان کا جمہوری حق تھا،مولانا فضل الرحمن نے پنجاب حکومت کا اعزازیہ مسترد کر کے یہ واضح کر دیا کہ وہ وقتی مفادات کے نہیں، اصولی موقف کے آدمی ہیں۔ اگر ن لیگ والوں کو’’منہ پر مارتے ہیں‘‘والے ان کے جملے پر اعتراض یا غصہ تھا تو اس کا جواب شائستگی کے ساتھ بھی دیا جاسکتا تھا،مگر افسوس کہ ن لیگی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور بعض ن لیگی دسترخوان کے راتب خور صحافیوں نے ’’مولانا‘‘کے خلاف وہ طوفان بدتمیزی اٹھایا کہ الامان و الحفیظ ،اس کار بد میں امریکن برانڈ اسلام کے ٹائوٹ قسم کے مذہبی یوتھیوں نے بھی ’’بھان متی کے کنبے‘‘کا کردار ادا کر کے نفرت و حقارت کی جس آگ کو سلگایا ہے وہ آگ نجانے اب کس کس کا دامن جلاے گی؟ گالیاں بکنے والے ن لیگی مولانا کے اسی ایک کارنامے کا حیاء کر لیتے کہ جب کراچی میں مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑ کر ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کیا گیا تھا تو تب امریکن برانڈ اسلام کے ’’بھان متی کے کنبے‘‘کے مذہبی یوتھیوں سمیت پوری ن لیگ کو سانپ سونگھ گیا تھا ،اس کڑے وقت میں مولانا فضل الرحمن ہی تھے کہ جنہوں نے بی بی مریم نواز کے سر پر ایک باپ اور سر پرست کی طرح دست شفقت رکھا، خم ٹھونک کر میدان میں اترے اور پوری جرات کے ساتھ ظلم کے خلاف ڈٹ گئے۔
یادش بخیر!جب عمران خانی فیض یافتہ مظالم سے بچانے کے لئے ’’مولانا‘‘شریف خاندان اور ن لیگ کی ڈھال بنے ہوئے تھے اس خاکسار نے تب ہی اپنے کالموں کے ذریعے مولانا کو آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ آپ کے ان احسانات کا انجام اچھا نہ ہوئے گا،لیکن نجانے یہ مولانا کا سیاسی مزاج ہے یا پھر خاندانی کہ جو سچ ہے، وہ کہیں گے، جو اصول ہے، وہ نبھائیں گے، یہ خاکسار گزشتہ تقریبا ًچالیس سالوں سے ان کی سیاسی زندگی کے اتار چڑھا ئودیکھتا چلا آرہا ہے، انہوں نے نہ تو کبھی کسی خاتون کی ذات کو ہدف تنقید بنایا اور نہ کسی شخصیت کی تضحیک کی، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صرف 25ہزار نہیں بلکہ ائماء حضرات کو ماہانہ پانچ،پانچ لاکھ روپے تنخواہ دے کر بھی دیکھ لیں ، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث پاکستان میں اسلام پسندوں کے ترجمان اور قائد مولانا فضل الرحمن ہی رہیں گے،اگر ’’فرقئہ عمرانی‘‘ کی طرف سے کی جانے والی لا محدود کردار کشی اور دی جانے والی گالیاں مولانا کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں،تو یہ بھان متی کا کنبہ کس باغ کی مولی ہے؟ نجانے اب وہ مشکوک دماغ ’’نابغے‘‘ کدھر ہیں کہ جو کل تک ’’مولانا‘‘پر نوٹوں کے بھرے بریف کیس وصولنے کے جھوٹے الزامات لگا کر اپنے خبث باطن پر دانت نکوسا کرتے تھے، انہیں کوئی بتائے کہ نوٹوں سے بھرے بریف کیس وصولنے والے کبھی حکمرانوں کے منہ پر مارنے کی بات نہیں کیا کرتے اورنہ ہی وہ جارحانہ انداز میں حکومتی پالیسیوں کو مسترد کیا کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن تو آج کل ’’ڈمی مدارس‘‘ اور حکومت کے خلاف جارحانہ بیٹنگ میں مصروف ہیں ، جامعہ خیر المدارس ملتان میں خدمات وتحفظ مدارس دینیہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ آج ہم دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے، برصغیر کے مسلمانوں نے لاکھوں قربانیاں اسلام کے لئے دی تھیں۔ علی گڑھ اور دیوبند میں تاریخ کے دو دھارے اپنے اپنے کردار کے ساتھ زندہ ہیں۔ علی گڑھ نے قرآن ،اسلام ، حدیث اور فقہ کو اپنے نصاب سے خارج کیا تو دارالعلوم دیوبند نے ان علوم کے تحفظ کے لئے انہیں نصاب کا حصہ بنایا۔بین الاقوامی ایجنڈا ہے کہ مذہبی نوجوانوں کو مشتعل کیاجائے اور اشتعال دلاکر ان کا خاتمہ کیا جائے۔ حکمران وفاق المدارس اور جمعیت پر ناراض ہیں کہ انہوں نے کیسے نوجوانوں کو اشتعال سے بچا لیا۔ مدرسہ پر الزام ہے کہ آپ تشدد پڑھا رہے ہیں اور تشدد سے دہشت گرد پیدا ہوتے ہیں اور یہ اصطلاحات نائن الیون کے بعد پیدا ہوئی ہیں۔ مذہب سے بے نیاز ہونے اور لاتعلقی کو روشن خیالی کہا جارہا ہے۔ جبکہ اصل روشن خیالی مدرسہ اور اس کی تعلیم فراہم کرتی ہے،مدرسہ کو اصحاب کہف کی غار کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ اسلام میں تو علوم کے جدید و قدیم اور عصری اور دینی علوم کی کوئی تقسیم نہیں ہے۔ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ فساد بھی مچاتی ہے تو معصوم جملوں کے ساتھ مچاتی ہے۔ اب کہتے ہیں کہ ہم تو مدارس کو قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں۔ قومی دھارے میں ہم آنے کے لئے تیار ہیں لیکن تم اسلامی دھارے میں آ جائو، ہم قومی دھارے میں آجائیں گے۔ مولانا نے بڑے دکھی دل کے ساتھ کہا کہ زنا کو آسان اور نکاح کو مشکل بنا دیا گیا ہے، حکمران مغرب کی پیروی میں قدم بقدم آگے بڑھتے جارہے ہیں اور ہر بیہودہ عمل میں ان کی پیروی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوقاف کا قانون لایا جارہا ہے جبکہ اوقاف کا پورا قانون شریعت کے ضابطوں کے خلاف ہے، اوقاف کا یہ قانون من و عن ہندوستان میں پاس ہوچکا ہے اور اب بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت پاکستان میں لایا جارہا ہے۔ مولانا نے کہا کہ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے علما پر کوئی اعتراض نہیں ان کی تنخواہ پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن مدرسہ سرکار کا تو نہیں ہے، پھر حکومت کس مد میں یہاں مدارس اور علماء کو خریدنے کی کوشش کررہی ہے؟ڈھائی سو سال کی تاریخ ہماری پشت پر ہے اور تاریخی کردار کی روشنی میں حکمت عملی مرتب کرنا ہمارے لئے مشکل نہیں ہوتا۔ اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے جو مکمل شریعت کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مدارس کے تحفظ کے لئے، علماء کے تحفظ کے لئے، دینی علوم کے تحفظ کے باہر نکلنے کے لئے تیار ہیں۔ ہمیں اتنا مجبور نہ کرو کہ ہم پورے ملک سے مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف روانہ ہو جائیں۔ ہمیں باہر نکلنے کے لئے کوئی وقت نہیں لگے گا صرف چوبیس گھنٹے کے اندر ہم نکل آئیں گے۔ اگر سیلاب میں قوم کے ساتھ علماء کھڑے ہیں تو پھر اقتدار بھی انہیں کا حق ہے۔’’وفاق المدارس‘‘سے وابستہ مدارس ہی اصل مدارس ہیں۔ باقی ڈمی مدارس ہیں۔ حکومت انہیں تحفظ دیتی ہے تو دے لیکن ہم سے یہ توقع نہ رکھے۔