Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

امن ، ترقی اور پارلیمانی عزم کا سنگِ میل

دنیا آج ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ طاقت کے توازن، عالمی مفادات کی کشمکش، علاقائی تنازعات اور انسانی ترقی کے مسائل نے دنیا کو غیر یقینی کی کیفیت میں ڈال دیا ہے۔پارلیمان جمہوری طرزِ حکمرانی کی بنیاد ہے،تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے پارلیمانی اداروں کو مضبوط رکھتی ہیں، وہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں بھی مستحکم رہتی ہیں۔ بین الاقوامی پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (ISC) اپریل 2025ء میں سیول، جنوبی کوریا میںسید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں قائم کی گئی۔دنیا کو درپیش چیلنجز جیسے مسلح تنازعات، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، غربت، مہاجرین کے بحران اور غیر مساوی ترقی اس امر کے متقاضی ہیں کہ پارلیمان معلومات کا تبادلہ کریں، قانون سازی میں ہم آہنگی پیدا کریں اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں۔ آئی ایس سی اس خلا کو پُرکرنے کے لیے ایک ایسا مخصوص فورم فراہم کرتی ہے جہاں اسپیکرز باہمی نقطۂ نظر کا تبادلہ کر سکیں، اتفاق رائے پیدا کریں اور مشترکہ حل تلاش کر سکیں۔ اس کا بنیادی مقصد باہمی انحصار، اجتماعی خوشحالی اور عالمگیر اقدار کو فروغ دینا ہے۔دنیا اس وقت بڑھتے ہوئے عالمی تنازعات، علاقائی کشیدگیوں اور ترقی میں پھیلتے ہوئے تفاوتوں سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں یہ لازم ہو گیا ہے کہ پارلیمان اور حکومت کی قیادت تنازعات کے تدارک، اچھی حکمرانی اور جامع ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں۔ آئی ایس سی کے بانی چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کے وژن کے مطابق، پارلیمانی سفارتکاری بین الاقوامی تعاون کو نئے سرے سے تشکیل دینے، اس کی سمت درست کرنے اور عملی نتائج کے حصول کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اسی وژن کے تحت، ISC نے عالمی پارلیمانی قیادت کو متحرک کرنے، مشترکہ حل تلاش کرنے اور انسانی فلاح و بہبود کے لیے عملی لائحہ عمل مرتب کرنے کا عہد کیا ہے۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جب بھی عالمی تنازعات اور بحرانوں کا سامنا ہوا، پارلیمانوں نے ایک فعال کردار ادا کیا۔ مثلاً دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپی ممالک نے پارلیمانی مذاکرات اور تعاون کے ذریعے معاشرتی استحکام اور اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح، جنوبی کوریا اور جاپان نے اپنے پارلیمانی اداروں کے ذریعے معاشرتی ترقی اور خطے میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی مثالیں آج ہمیں یہ باور کراتی ہیں کہ پارلیمانی قیادت نہ صرف قومی بلکہ عالمی مسائل کے حل میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔10 تا 12 نومبر 2025ء کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس ایک تاریخی سنگِ میل ہوگی۔ یہ اجلاس نہ صرف سیول اعلامیہ کے اصولوں کو عملی حکمت عملیوں میں ڈھالنے بلکہ باہمی تعاون کو فروغ دینے اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر قدم ثابت ہوگا۔ اس اجلاس کا مقصد باہمی ہم آہنگی کو گہرا کرنا، دیرپا شراکت داریوں کو استوار کرنا اور قانون سازی کے ذریعے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے موجودہ اور آئندہ تعاون کی بنیاد رکھنا ہے۔یہ اجلاس پارلیمانوں کی استعداد کار کو مضبوط کرنے کے لیے نگرانی، نمائندگی اور شفاف حکمرانی کے شعبوں میں مزید بہتری کے طریقہ کار پر بھی غور کا موقع فراہم کرے گا تاکہ عدم مساوات کے فرق کو کم کیا جا سکے اور ابھرتے ہوئے سلامتی کے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ کانفرنس کے دوران غور و فکر کے لیے درج ذیل سوالات رہنمائی فراہم کریں گے:1)آج ہمارے معاشروں کو درپیش امن، سلامتی اور ترقی کے سب سے سنگین چیلنجز کون سے ہیں؟2)پارلیمان قانون سازی کے ذرائع اور بین الاقوامی تعاون کو بروئے کار لا کر سلامتی کے خطرات اور ترقیاتی مسائل میں کمی کیسے لا سکتی ہیں؟3)پارلیمانی سفارتکاری جغرافیائی و سیاسی خلیجوں کو پُر کرنے اور انسانی حقوق کے تحفظ میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟یہ فکری مباحثے اس امر میں مددگار ہوں گے کہ ایک تقسیم شدہ دنیا میں پارلیمانوں کے قانون سازی، نگرانی اور نمائندگی کے کردار کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔شرکاء ایسے ٹھوس نتائج کی جانب پیش رفت کریں گے جو آئی ایس سی کے کردار کو مزید مضبوط بنائیں اور آئندہ کے لیے ایک واضح لائحہ عمل مرتب کریں۔ کانفرنس اسلام آباد اعلامیہ منظور کرے گی جو سیول اعلامیہ کی بنیاد پر تعمیر ہوگا اور اس میں مشترکہ عزم اور سفارشات شامل ہوں گی تاکہ قانون سازی کے ذریعے امن کے فروغ، اچھی حکمرانی اور جامع ترقی کو مضبوط بنایا جا سکے۔2025ء کی اسلام آباد کانفرنس ایک عزمِ اور عملی اقدامات کے آغاز کا اعلان کرے گی جو عالمی تعاون، ترقی اور انسانی فلاح کے لیے رہنما ثابت ہو گی۔یہ اجلاس ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ عالمی مسائل کا حل صرف نظریات یا مباحثوں سے ممکن نہیں، بلکہ مربوط حکمت عملی، عملی اقدامات اور مستحکم قیادت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد کانفرنس ایک ایسا موقع فراہم کرے گا جہاں پارلیمانی رہنما فعال کردار ادا کریں، قانون سازی کے ذریعے اختلافات ختم کریں، انسانی حقوق کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور ترقی کے مواقع سب کے لیے یکساں کریں۔ یہ اعلامیہ امن، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے لئے ایک عملی لائحہ عمل اور مشترکہ عزم کی روشن مثال قائم کرے گا۔ اجلاس اعتماد، باہمی احترام اور اجتماعی فہم کو فروغ دے گا، اختلافات کو مشترکہ عمل میں تبدیل کرے گا اور قانون سازی کو انصاف و مساوات کے فروغ کا حقیقی ذریعہ ثابت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں