Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

سیاسی خواب،تاریخی زخم

(گزشتہ سے پیوستہ)
جس کا اظہارباجوہ نے دو درجن صحافیوں کو بلاکرکشمیرپراپنی بزدلی کااظہارکردیاتھا۔اس طرح ٹرمپ نے امریکامیں مودی کی طرف سے اس کی انتخابی مہم میں دوبڑے جلسوں کے خطاب کے نتیجے میں انڈین امریکی ووٹروں کی حمائت وصول کرنے کاحق اداکردیااورمودی نے باقاعدہ امریکی شہہ پرآرٹیکل370کو منسوخ کرکے کشمیر کو ہندوستان کاحصہ قراردے دیا۔
عمران خان نے اپنے اقتدارکوبچانے اور امریکی دورے کوکامیاب ثابت کرنے کیلئے بھٹو کی نقل کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے مقامی سربراہان کو بڑی تعدادمیں لوگوں کوچک لالہ ائیر پورٹ پہنچنے کاکہاجہاں اپنے امریکی دورہ سے فاتح کے طورپر خودکوپیش کرنے کاڈرامہ رچایاگیا۔ہم نے تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے ٹرمپ کا کشمیر پرثالثی کادھوکہ قبول کرلیا۔ جب عمران خان اور اس وقت کے آرمی چیف امریکاجاکرلوٹے توان کے لبوں پرفخروانبساط تھا،جیسے قوم نے کوئی سفارتی معرکہ مارلیاہو۔عمران خان کی امریکی واپسی پر، چک لالہ کااستقبال گویاایک فتح کاجشن تھا،مگروہ فتح چندہفتوں بعد5اگست کواس وقت شکست میں بدل گئی جب مودی نے آرٹیکل370کاخاتمہ کر کے اقوام متحدہ کی ساری قراردادوں کوبھارتی آئین کی دفعہ میں تحلیل کردیا۔بھارت نے یکطرفہ طورپرکشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کردی، اورامریکا نے خاموشی اختیارکی۔
یہ کیساثالث تھاجوایک طرف ثالثی کی بات کرتاہے اوردوسری طرف دشمن کو کشمیر کو ہڑپ کرنے کاسیاسی آشیرواددیتاہے؟کیایہ ثالثی تھی یازمین کی نئی نیلامی کامقدمہ؟اگریہی ثالثی ہے،توپھرفلسطین کیلئے ان کاحل بھی سامنے ہے: غزہ کوامریکاکے حوالے کردیا جائے، امریکا اسے دنیاکے سیاحوں کیلئے ایک خوبصورت علاقہ بناکر یہاں جنگ کامکمل خاتمہ کردیا جائے گا اور یہاں رہنے والے تمام فلسطینیوں کوپڑوسی عرب ممالک اپنے ہاں آباد کاری کیلئے اجازت دیں۔ آخر ہم کب سمجھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں جن سے اب بھی مسلمانوںکووفاکی امیدہے؟
تاریخ کاجائزہ لیں توامریکانے دوسری جنگِ عظیم کے بعدسے اب تک تقریباًتین درجن سے زائد ممالک میں براہِ راست یابالواسطہ مداخلت کی ہے۔کوریا،ویتنام،افغانستان، عراق، لیبیا، شام، اور یمن جیسے ممالک امریکی مداخلت کی بھینٹ چڑھے اورآخرکارامریکاکوان خطوں سے یاتوبے عزتی کے ساتھ نکلناپڑایاشکست کونیم فتح کے پردے میں چھپانا پڑا۔افغانستان میں طالبان کی واپسی اورویتنام میں ساگون کے زوال کے مناظراس حقیقت کے ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔
ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران یہ اعلان کیاتھاکہ وہ امریکاکوغیرضروری جنگوں سے نکالیں گے۔مگرصدارت کے منصب پرفائز ہونے کے بعد ان کے طرزِ عمل میں نہ صرف تبدیلی آئی بلکہ کینیڈا، گرین لینڈاورچین کے خلاف دھمکی آمیز لب ولہجہ اختیارکیاگیا۔نیٹو اتحاد کے خلاف شکوہ وشکایت اوریورپی یونین پردباڈالناامریکی خارجہ پالیسی میں تناؤکی علامت بن کرابھرا۔فلسطین کے مسئلے پر اسرائیل کوکھلی چھوٹ دینااورغزہ میں انسانی حقوق کی پامالی پرخاموشی،نہ صرف ٹرمپ کے دوہرے معیارکوآشکارکرتی ہے بلکہ انتخابی وعدوں کی صریحا ًنفی اورانحراف کی بدترین مثال ہے۔
ٹرمپ نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ میں بالآخرپسپائی اختیارکی۔چینی اقتصادی ماڈل کی پائیداری اورعالمی سطح پراس کی توسیع نے امریکاکو گھٹنے ٹیکنے پرمجبورکردیا۔دوسری جانب حالیہ پاک-بھارت جنگ میں مغربی اسلحے کی برتری کابیانیہ بھی دم توڑگیا۔ بھارت اوراسرائیل کاگٹھ جوڑ عالمی سطح پرعیاں ہوگیا۔موجودہ جنگ میں جس طرح پاکستان نے اسرائیلی ہاروپ ڈرونزکونہ صرف مار گرایابلکہ ان کے آپریٹرزاوربیس اسٹیشنز کو بھی تباہ کیا،اس سے امریکااوراسرائیل کی عسکری برتری کاطلسم ٹوٹتادکھائی دیا۔اس فتح کے بعد امریکانے، اسرائیل کی ایماپر،فوری جنگ بندی کیلئے مداخلت کی تاکہ بھارت کومکمل ہزیمت سے بچایاجاسکے۔
اسرائیلی ہاروپ ڈرونز،جنہیں ناقابلِ شکست قراردیاگیاتھا،پاکستانی دفاعی قوت کے سامنے ناکام ہوگئے۔پاکستان نے نہ صرف ان ڈرونز کو مارگرایابلکہ بھارت میں ان کے آپریٹنگ مراکزکوبھی تباہ کردیا۔اسرائیل کے18ہلاک شدہ ماہرین کی واپسی خفیہ اندازمیں ہوئی،مگر دنیا جان چکی تھی کہ اسرائیل اوربھارت کی عسکری برتری کاافسانہ محض جھوٹ کا غبارہ تھا۔اس شکست کے بعدامریکاکوجنگ بندی کیلئے ہنگامی مداخلت کرناپڑی،اسرائیل اوربھارت کی اپیل پر امریکانے فوری طورپرثالثی کا کرداراداکرنے کی کوشش کی تاکہ اپنے اتحادیوں کو بچایا جاسکے۔ مگرپاکستان کیلئے یہ تجربہ نیانہ تھا۔1962ء ، 1965ء، 1999ء اورپھر 2019ء کے بعد، ہربار امریکا نے پاکستان کووقتی وعدوں اورلالی پاپوں سے بہلایامگرزمینی حقائق وہی کے وہی رہے۔ کشمیرکی صورتِ حال میں کوئی جوہری تبدیلی نہ آئی بلکہ صورتحال مزید الجھ گئی۔اب امریکانے ایک مرتبہ پھرپاکستان کوکشمیرپرثالثی کالالی پاپ دیاہے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکابھارت کوچین کے خلاف بطورایک ’’جوکرکارڈ‘‘استعمال کرنا چاہتا ہے۔کواڈاتحاد میں بھارت کی شمولیت اسی حکمتِ عملی کاحصہ ہے،لیکن امریکا دوبارہ اس کمزور اورغیر مستحکم شراکت دار پربھروسہ کرنے کی غلطی کررہاہے۔
امریکانے ویتنام، افغانستان، لیبیا، شام، عراق اوراب یوکرین وغزہ میں جو کردار ادا کیا، وہ اس کی ثالثی کی ساکھ پرسنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ٹرمپ نے یوکرین کومشورہ دیاکہ وہ اپنا 20فیصد علاقہ روس کودے دے اوربدلے میں امریکا امن قائم کرے گا۔غزہ میں ثالثی کامطلب یہ تجویزنکلاکہ اگرفلسطینی علاقہ خالی کردیں تو جنگ خودبخودختم ہوجائے گی۔یہ وہ طرزِثالثی ہے جو درحقیقت جبرکی نئی شکل ہے۔
مودی کی انتخابی مہم میں پاکستان کو مسلسل دھمکیاں دینا،اسی پرانے بیانیے کی تجدید ہے جس کے ذریعے بھارت میں ہندوقوم پرستی کو جلا دی جاتی ہے۔اس کامقصدصرف الیکشن میں فتح حاصل کرنانہیں،بلکہ چین کے خلاف امریکی منصوبے ’’کواڈ‘‘میں بھارت کی فعالیت کویقینی بنانا بھی ہے۔مگرامریکااس حقیقت کو نظرانداز کر رہا ہے کہ بھارت نہ1962 ء میں چین کامقابلہ کرسکا اورنہ آج اس قابل ہے۔ امریکا کا ’’لنگڑا گھوڑا‘‘ بھارت اپنی فوجی اورتزویراتی کمزوریوں کے سبب عالمی طاقتوں کے مہرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔امریکا کی ماضی کی روش،حالیہ اقدامات اورمستقبل کے اشارے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ عالمی طاقت محض مفادات کی اسیرہے۔اس کے وعدے،معاہدے،اورثالثی کی پیشکشیں صرف وقتی فائدے کیلئے ہوتی ہیں۔ وقت آگیاہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو ازسرِنوتشکیل دے اورخودانحصاری کی راہ اختیار کرے۔ ٹرمپ یاکسی بھی امریکی صدرکی ثالثی پر انحصارکرنااس فریب کے سوا کچھ نہیں کہ’’وہ سایہ جسے ہم منزل سمجھتے ہیں،سراب نکلتاہے‘‘۔
اگرفرض کریں کہ امریکاثالثی کے کسی فارمولے پرعملدرآمدکرتاہے،جیسے کہ کشمیر کو دو حصوں میں بانٹ دیاجائے،یاگلگت بلتستان پاکستان کو دے کر باقی انڈیاکو،یا پورے کشمیر کو غیر مسلح ریاست بنادیاجائے توکیایہ تجاویزکسی فریق کوقابلِ قبول ہوں گی؟اوراگرنہ ہوئیں، تو ٹرمپ کاریچھ نماغصہ کس پرگرے گا؟پاکستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خارجی ثالثی، خصوصاً امریکاکی ثالثی،ایک سراب ہے جو ہربار مایوسی کی چٹان سے ٹکرا کربکھرجاتاہے۔قوموں کے مسائل دوسروں کے رحم وکرم پرنہیں،اپنی خودی، حکمت اوراستقلال سے حل ہوتے ہیں۔ کشمیرکامسئلہ ہویا کسی اورقومی مفاد کا سوال، پاکستان کواپنی قوتِ فیصلہ،سفارتی حکمت اور اندرونی اتحادکوبنیادبنانا ہوگا کیونکہ ثالثی کی خوش فہمیاں بالآخرقومی وقاراورتاریخی سچائی کے سامنے سرنگوں ہوجاتی ہیں۔
واشنگٹن کی وہی کہانی ہے،جسے ہم باربار نئے کرداروں کے ساتھ دہراتے ہیں۔کل ضیاالحق نے مارشل لاکوجائزدکھانے کیلئے امریکا کی آشیربادلی،آج کوئی اورواشنگٹن کے استقبال پر اپنی سیاست کی قلعی چمکاتاہے۔مگرانکل سام کی انگلی تھامنے والاہرراہرو،بالآخر اس بازارِسیاست میں بے لباس پایاگیاجہاں سودے صرف طاقت کے ہوتے ہیں۔آج بھی اگرٹرمپ کی ثالثی پربھروسہ کیاجائے توممکنہ تجاویزیہی ہوں گی کہ جو کشمیر جس کے پاس ہے،اسے ہی تسلیم کرلو،یااسے پٹے پرہمیں دے دو،بیس سال بعدبات کرنا!کیایہ کسی خودمختارریاست کیلئے قابلِ قبول ہے؟اوراگرنہ مانا گیاتو؟ٹرمپ کاغصہ،جیساکہ دنیانے دیکھا، ریچھ کے جپھے جیساہوتاہے،جس سے نکلنامحال اورسانس لینادشوار۔
جنہیں سراب دکھاکرخوابوں میں الجھایا جائے،وہ یاتوخام خیالی کے اسیرہوتے ہیں یاتاریخ سے نابلد۔پاکستان کواب یہ تسلیم کرلیناچاہیے کہ مسئلہ کشمیرکاحل نہ توامریکاکے کسی ثالث کے ذریعے ممکن ہے اورنہ کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم سے،جب تک قوم خوداپنی خارجہ پالیسی میں خودمختاری،عزم،اورداخلی اتحادپیدانہ کرے۔ امریکا کے ہروعدے میں ایک پنہاں مفادہے اورہر ثالثی میں ایک پوشیدہ سودا۔وقت آچکاہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت،دفاعی صلاحیت، اور نظریاتی اساس کے بل پراپنی راہ متعین کرے، بصورت دیگر، ہربارکی طرح تاریخ فقط ایک اورفریب کااضافہ کرے گی۔
آخری بات،مگرسب سے کڑوی ہے کہ قومیں جوخواب بارباردیکھتی ہیں،وہ یاتونشے کی لت بن جاتے ہیں یاپھرمایوسی کی دہلیزپرلے جاکر چھوڑ دیتے ہیں۔ہم نے ہرباریہ گمان کیا کہ کوئی آئے گا،ہمارامقدمہ لڑے گا،ہماری شہ رگ چھڑائے گامگرجوشہ رگ اپنے ہی ہاتھوں کی بے توجہی سے زخمی ہو،اسے کوئی غیرکیسے سہارادے سکتا ہے؟ تاریخ کے ماتھے پر لکھی تحریرواضح ہے کہ ثالثی کے خواب صرف وہی دیکھتاہے جسے اپنی دلیل،اپنی قوت،اوراپنی حکمت پریقین نہ ہو۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم ماضی سے سبق لیں،دوستوں اوردشمنوں کوصرف جذبات کی بجائے حقیقت کی کسوٹی پرپرکھیں اور قومی مفادکواولین ترجیح دیں۔ورنہ ہربارلالی پاپ کی چمکدارپیکنگ میں زہرہمیں چکھناپڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں