(گزشتہ سے پیوستہ)
تاریخ میں اگرچہ سیاست دانوں نے جرات آمیزالفاظ کہے ہیں،مگرکبھی بھی اس حدتک شخصی انتقام کی آگ کوانتخابی ایندھن نہیں بنایا گیا۔اندراگاندھی نے1971ء میں مشرقی پاکستان کے خلاف جنگ سے قبل بھی اسی قسم کی تقاریرکی تھیں اور1971ء میں اندراگاندھی نے بنگلہ دیش کے تناظرمیں تلخ بیانات ضروردیے تھے،مگرایسی دنمکی آمیززبان استعمال کرنے سے انہوں نے بھی گریزکیاتھا۔مودی کی تقاریر،اس کے برعکس،ہندوتوانظریے،نفرت،اورذاتی غرور کا پرچا ربن چکی ہیں۔انتخابات جیتنے کیلئے مودی کا یہ نیاڈرامہ کوئی نیا نہیں،اس سے قبل بھی گجراتی قصاب نے بطورانڈین گجرات کے وزیراعلی ہوتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کانہ صرف حکم دیابلکہ اب بھی انڈیامیں مسلمانوں کے خاتمے کیلئے کھلم کھلابیان بازی کرتارہتاہے۔مودی کی گولی والی دھمکی نہ صرف اسی سیاسی سکرپٹ کاحصہ ہے بلکہ اس کی مکاری اورذہنی بیماری کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ ایٹمی ملک کے ایسے شدت پسند سربراہ سے دنیاکوکس قدرشدیدخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
بھارت کے اندرکانگریس جیسی جماعتیں اس موقع پربی جے پی کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس ساری صورتحال کو بی جے پی کی خارجہ پالیسی کی ناکامی سے تعبیرکر رہی ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کررہی ہیں کہ بھارت کی سفارتکاری، جوکبھی ایک عالمی مثال ہوا کرتی تھی،آج ردِعمل اوراشتعال انگیزی کی راہوں پرگامزن ہے اور بھارت کی جارحانہ پالیسی درحقیقت اس کے عالمی تنہائی کاباعث بن رہی ہے۔یہ احتجاج اس بات کی گواہی دیتاہے کہ معاملہ صرف عسکری یاسفارتی نہیں،بلکہ داخلی سیاسی حرکیات کابھی عکاس ہے ۔ خارجہ پالیسی کاناکام ہونادرحقیقت اندرونی سیاسی کشمکش کااظہارہے۔2002ء میں گجرات فسادات کے بعدبھی بھارت کو سفارتی سطح پر مشکلات کاسامناکرناپڑاتھااورآج تک بھارت کے چہرے کی بدترین کالک کے طورپرتاریخ میں رقم ہوچکا ہے۔
پاکستان اوربھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں اوران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیابھرکیلئے لمحہ فکریہ ہے۔کارگل جنگ کے دوران بھی عالمی برادری نے بروقت مداخلت کی تھی تاکہ دوایٹمی ریاستیں کسی حماقت میں نہ پڑجائیں۔کیاہم آج بھی اسی دہلیزپر کھڑے ہیں؟کیابرصغیرایک بارپھرتاریخ کی بھٹی میں جھونکاجائے گا؟
جہاں ایک طرف ’’رافال‘‘ بمقابلہ ’’جے10سی‘‘کی ہوائی جھڑپوں پردنیا کی نظریں مرکوز ہیں،وہیں سوال یہ بھی جنم لیتاہے کہ آیایہ سب ایٹمی جنگ کے دہانے کی طرف پیش قدمی ہے؟کیابرصغیرکی فضاؤں میں گونجتی ہوئی جنگی گرج مستقبل کی امن فاختاؤں کوہمیشہ کیلئے خاموش کردے گی؟
پاکستان میں گرائے گئے اسرائیلی ساختہ ہاروپ ڈرون ہویابراہموس میزائل کاراستہ بھٹک جانایہ سب نئی جنگی حکمتِ عملی کاحصہ ہیں،جہاں انسان کم اورمشینیں زیادہ بولتی ہیں۔یہ دراصل چوتھی نسل کی جنگ(فورتھ جنریشن وارفیئر)ہے جہاں دشمن کا چہرہ دھندمیں چھپاہوتاہے اورحملہ خاموش ہوتاہے۔ہاروپ ڈرون اب محض جاسوسی نہیں کرتے بلکہ وہ ’’لوئٹیرنگ ایمونیشن‘‘جیسے خفیہ ہتھیاروں میں تبدیل ہوچکے ہیں جوفضامیں شکارکی تلاش میں گردش کرتے ہیں۔یہ حکمتِ عملی نہ صرف دفاع بلکہ نفسیاتی برتری کابھی ایک آلہ بن چکی ہے۔ان ڈرونزکے ناقابل تسخیرہونے کے اسرائیلی جنگی مافیاکوشدیددھچکاپہنچاجب اس کاساراجنگی غرورخاک میں مل گیااورپاکستان نے نہ صرف درجنوں ڈرون مارگرائے بلکہ نصف درجن ڈرونزکوجام کرکے زمین پراتارلیاگیااور اب ان کے ماتھے پرخطرات کاپسینہ خشک ہونے کانام نہیں لے رہاکہ اس طرح ان کی یہ ٹیکنالوجی بھی پاکستان کے ہتھے لگ گئی ہے۔
اسرائیل اوربھارت تویہ سمجھتے تھے کہ یہ ڈرون دشمن کوناقابل تلافی نقصان پہنچاکراسے لاغرکردیتاہے لیکن اسرائیل کایہ دعویٰ بھی اقوام عالم کے دفاعی تجزیہ نگاروں کیلئے مذاق کا نشانہ بن گیا ہے۔پاکستان کی جانب سے گرائے گئے اسرائیلی ساختہ ڈرونز، براہموس میزائل کابھٹک جانا، اور فضائی حدود کی خلاف ورزیاں صرف عسکری معاملات نہیں،بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی اس جنگ کاحصہ ہیں جومستقبل کے محاذوں کی نقشہ کشی کررہی ہیں۔
عسکری سائنس میں اب یہ ممکن ہے کہ کسی فضائی حملے یادراندازی کوالیکٹرانک سگنیچر سے پرکھاجائے۔یہ طریقہ نیٹوافواج نے1991ء کی خلیجی جنگ میں استعمال کیاتھا۔ پاکستان پاکستان اور بھارت کے دعوے اسی جدیداصول پرپرکھے جارہے ہیں۔یادرہے کہ پاکستانی فضائیہ نے بالاکوٹ کی فضائی ڈاگ فائٹ کے بعدنہ صرف ایک مرتبہ پھرنئی فضائی تاریخ رقم کی،بلکہ عالمی میڈیا کی توجہ کامرکزبن گئی۔اس سے قبل بالاکوٹ کی جھڑپ میں پاکستانی فضائیہ نے نہ صرف بھارتی فضائیہ کے دواہم طیارے مار گرائے تھے بلکہ اپنی فضائی حدودمیں واضح برتری کاعملی مظاہرہ بھی کیا۔ آزادذرائع،سیٹلائٹ فوٹیج اور آزاد مبصرین کی رپورٹس نے تصدیق کی تھی کہ بھارت کوبھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
اب ایک مرتبہ پھربھارت کوپہلے سے بھی کہیں زیادہ نقصان اٹھاناپڑاہے۔مودی مسلسل اپنے گودی میڈیاپراپنی جھوٹی فتح کے نعرے لگواتا رہا، لیکن جب اس سے اگلے دن پاکستانی حملے نے مودی کے پروپیگنڈے کے غبارے کو پھوڑ کر رکھ دیا اوررافیل سمیت دوسرے جہازوں کی ارتھی اسی کی سرزمین پرسجادی تومودی اور اسرائیل کواپنے آقاٹرمپ کے پاؤں پکڑنے پڑے توتب جاکرسیزفائرہوا۔
اس مبینہ ڈاگ فائٹ پرانڈین حکام نے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیاجبکہ پاکستانی فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئرآپریشنزایئروائس مارشل اورنگزیب کاکہناتھاکہــ ’’یہ ایک بی وی آر( بیونڈ ویژیول رینج)لڑائی تھی جس میں انڈیاکے70جنگی طیاروں اورپاکستان کے40جنگی طیاروں نے حصہ لیا،یعنی کل100سے زیادہ طیارے تھے جوکہ ہوابازی کی تاریخ میں پہلی بارہواہے۔پاکستانی فضائیہ کی طرف سے اس کارروائی میں جے ایف17اور جے10طیاروں نے حصہ لیاتاہم انہوں نے اس حوالے سے تبصرہ نہیں کیاکہ آیاپاکستان نے چینی ساختہ پی ایل15استعمال کیا۔
(جاری ہے)