(گزشتہ سے پیوستہ)
اقوامِ متحدہ اورانسانی حقوق کی تنظیمیں جن کے دفتروں کی دیواروں پرانسانیت کے عظیم اصول آویزاں ہیں،وہ مودی کے ان بیانات پریا تو خاموش ہیں یاایسے دیکھ رہی ہیں جیسے کسی ناول کے کردارجومکالمہ نہیں، فقط تماشاکرتے ہیں۔ حالانکہ اقوام متحدہ کے چارٹرکی شق2(4)واضح طور پرکسی بھی ملک کودوسرے ملک کے خلاف طاقت یااس کی دھمکی سے باز رہنے کاپابندبناتی ہے۔ مگریہاں سوال اخلاقی جرات کاہے اورتاریخ گواہ ہے کہ طاقتورکے خلاف زبان کھولناہمیشہ کمزور دلوں کے بس کی بات نہیں رہی۔اگریہ بات دنیاکے سامنے پوری صداقت کے ساتھ لائی جاتی ہے تویہ صرف مودی کانہیں،بلکہ اسرائیل کے عسکری جنون اور امریکی خاموشی کا بھی پردہ چاک کرنے کالمحہ ہوگا۔اس سے قبل کہ اسرائیل کی مداخلت جنگ کانیامحاذ کھول دے تواس وقت تک بہت دیرہوجائے گی اوراس جنگ کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہ ہوگا۔
جب دشمن کھلی دھمکی دے اور دنیا خاموش رہے،توخاموشی کا تقاضہ یا مزاحمت کا بھرپور مظاہرہ اس لئے ضروری ہے کہ یہ خاموشی فقط حکمت نہیں بلکہ بزدلی کی چادراوڑھے ہوئے ظلم کی خاموش ساتھی بن جاتی ہے۔پاکستان،جس نے ہمیشہ امن کی بات کی،اورعالمی سطح پرسفارتی وقار کے ساتھ اپنے اصولی موقف کو اجاگر کیا سوال یہ ہے کیاعالمی برادری مودی کی دھمکیوں پر نوٹس لے سکتی ہے؟
مودی کی جانب سے پاکستانی شہریوں کوگولیوں سے اڑانے کی کھلی دھمکی بین الاقوامی قوانین،اقوام متحدہ کے منشور،اوربنیادی انسانی حقوق کے تمام معیارات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ بیان کسی سیاسی اختلاف کا اظہار نہیں بلکہ ایک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک کی جانب سے دوسرے ملک کے شہریوں کے خلاف نسلی وریاستی دہشت گردی کاکھلااعلان ہے۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی شق2(4)ہرملک کو اس بات سے روکتی ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی دے۔ اسی طرح انسانی حقوق کاعالمی اعلامیہ اور جنیوا کنونشنز بھی اس قسم کے بیانات کونسل کشی، اشتعال انگیزی اورجنگی جرائم کے زمرے میں شمارکرتے ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے:کیااقوام عالم ایسے بیانات پرکوئی عملی قدم اٹھائیں گی؟ماضی کاتجربہ بتاتا ہے کہ جب ایسے جارحانہ بیانات کسی بڑے تجارتی یادفاعی اتحادی ملک کی جانب سے آتے ہیںجیسے بھارت امریکا،اسرائیل اوریورپی طاقتوں کے ساتھ ہے تو ’’عالمی ضمیر‘‘اکثرمصلحت کا شکار ہو جاتاہے۔اس کے باوجوداقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اس معاملے کو اٹھایا جاسکتاہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پررپورٹس جاری کرسکتی ہیں۔یورپی پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کی جاسکتی ہے۔عالمی عدالتِ انصاف میں اسے جنگی نفرت انگیزی قراردیاجاسکتاہے لیکن اس سب کیلئے پاکستانی سفارت کاری،میڈیا،اورسول سوسائٹی کو فوری،متحداورسنجیدہ کوشش کرنی ہوگی تاکہ عالمی رائے عامہ کومودی کے جنگی جنون سے آگاہ کیا جاسکے۔عالمی میڈیامیں مودی کے بیانات کوجنگی اشتعال انگیزی کے طورپرپیش کرے اورسب سے بڑھ کر،قوم کے اندرسیاسی استحکام، یکجہتی، اور داخلی ہم آہنگی کوفروغ دے تاکہ ہر دھمکی، ہروار، ہرحملہ صرف قوم کی یکجہتی سے ہی پسپاہو۔
مودی کے حالیہ بیانات محض انتخابی جلسوں کی لفاظی نہیں بلکہ خطے کے امن کوتہہ وبالا کرنے والا ذہنی ونظریاتی خاکہ ہے۔اقوامِ عالم کو اگر واقعی خطے میں امن عزیزہے،توانہیں اس اشتعال انگیزی کا نوٹس لیناہوگا،ورنہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس یہ دو ممالک اگر جنگ کی جانب بڑھتے ہیں تواس کا ایندھن صرف جنوبی ایشیا نہیں بلکہ ساری دنیابن سکتی ہے۔
پاکستان کوچاہیے کہ سفارتی سطح پرمودی کے بیانات کواقوامِ متحدہ،اوآئی سی،یورپی یونین اورعالمی میڈیاکے سامنے بھرپورانداز میں اٹھائے۔ اسی طرح امریکا،اسرائیل اوربھارت کے درپردہ گٹھ جوڑکوبے نقاب کرکے دنیاکو بتایا جائے کہ یہ ’’امن کی ثالثی‘‘نہیں بلکہ’’جنگی جرائم پرپردہ ڈالنے‘‘ کی کوشش ہے۔
مستقبل کی راہ میں جارحیت اورنفرت کی بجائے حکمت،تحمل اورسفارتی آداب کو اپنانا ضروری ہے۔سیاسی قائدانہ صلاحیت اسی میں ہے کہ کشیدگی کوکم کیاجائے،بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جائیں اورخطے کی بھلائی کیلئے مشترکہ حل تلاش کیے جائیں۔
مودی کے دھمکی آمیزالفاظ شایدعارضی طور پرقومی جذبے کوجلابخشیں،مگرتاریخ انہیں یاد رکھے گی یاتوطاقت کی علامت کے طورپریاایک ایسی دھنک کے طورپرجوطوفان کے بعد غائب ہوجاتی ہے۔خاموشی تب ہی سنہری ہوتی ہے جب وہ طاقت کی علامت ہو،ورنہ وہ زوال کی پیشگی خبر ہوتی ہے اورکسی بھی ملک کی خودداری یاسلامتی کیلئے نقصان دہ ہے۔
بین الاقوامی برادری کوچاہیے کہ وہ بھارت کوسفارتی اوراخلاقی طورپرجوابدہ بنائے۔ اقوام متحدہ اوردیگرعالمی فورمزپر ایسے بیانات کی مذمت اورامن کے فروغ کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔
اب اقوام عالم کی ذمہ داری اورایک بڑاامتحان ہے کہ وہ بھارتی قیادت کوخبردارکرے کہ:
٭آئندہ وہ ایسے متنازعہ بیانات سے گریز کرے اورخطے میں امن قائم رکھنے کی کوشش کرے ۔
٭خطے کے ممالک میں اعتمادسازی کی کوششیں تیزکی جائیں۔بات چیت کے ذریعے اختلافات کوکم کرنے اوردیرپاامن قائم کرنے کی کوششوں کوبڑھایاجائے۔
٭بھارت،پاکستان اورچین کے درمیان اعتمادبڑھانے کیلئے مثبت اقدامات کیے جائیں۔
٭پاکستان اورچین کی حکمت عملی ماڈل سے استفادہ کیاجائے۔حکمت عملی اورتحمل کے ذریعے خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کوممکن بنایاجائے۔
٭عالمی برادری سے تعلقات بہتربنائے جائیں تاکہ خطے میں استحکام ممکن ہوسکے۔
٭بھارت کوچاہیے کہ وہ پاکستان اور چین کے ساتھ بات چیت کوترجیح دے تاکہ دیرپا امن کاراستہ کھلے۔
٭عوام میں امن اوررواداری کے فروغ کیلئے تعلیمی اورمیڈیاکی سطح پرپروگرام ترتیب دیے جائیں۔تاکہ نفرت اورجارحیت کی فضا کو کم کیاجاسکے۔
مودی کے حالیہ بیانات محض انتخابی جلسوں کی لفاظی نہیں بلکہ خطے کے امن کوتہہ وبالاکرنے والا ذہنی ونظریاتی خاکہ ہے۔اقوامِ عالم کو اگر واقعی خطے میں امن عزیزہے،توانہیں اس اشتعال انگیزی کانوٹس لیناہوگا،ورنہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس یہ دوممالک اگر جنگ کی جانب بڑھتے ہیں تو اس کاایندھن صرف جنوبی ایشیانہیں بلکہ ساری دنیا بن سکتی ہے۔
پاکستان کوچاہیے کہ سفارتی سطح پرمودی کے بیانات کواقوامِ متحدہ،اوآئی سی،یورپی یونین اورعالمی میڈیاکے سامنے بھرپورانداز میں اٹھائے۔اس طرح امریکا،اسرائیل اوربھارت کے درپردہ گٹھ جوڑکوبے نقاب کرکے دنیا کو بتایا جائے کہ یہ’’امن کی ثالثی‘‘نہیں بلکہ ’’جنگی جرائم‘‘ پرپردہ ڈالنے”کی کوشش ہے۔
اورآخرمیں،ایک حکایتِ دانش وقت جب بولتاہے،توقوموں کوتاریخ بنادیتاہے اورجوقومیں اس کی آوازکونظراندازکریں،وہ عبرت کا افسانہ بن جاتی ہیں۔پاکستان اورچین نے اس لمحے کو پہچان لیااور جو لمحے کوپہچان لے،وہ زمانے کابادشاہ ہوتاہے۔