خواتین وحضرات،اربابِ فکرودانش اور نظریاتی بصیرت کے امین ساتھیو انسانی تاریخ محض سلطنتوں کے عروج وزوال،جنگوں کے شور،اورسیاست کے ہنگاموں کانام نہیں؛یہ دراصل روح کی اس مسلسل جستجوکی داستان ہے جوخاک سے اٹھ کرافلاک کی طرف دیکھتی ہے۔کبھی یہ جستجوعشق کے لباس میں جلوہ گرہوتی ہے اورکبھی خودی کے شعورمیں ڈھل کرایک نئی دنیاکی بنیادرکھتی ہے۔آج ہم جس موضوع پرجمع ہوئے ہیں وہ محض ماضی کی ایک یادگارداستان نہیں،بلکہ حال کی بیچینی اورمستقبل کی سمت کاتعین ہے۔یہ گفتگورومی اور اقبالؒ کے ناموں سے عبارت ضرورہے،مگراس کا اصل مخاطب ہم خودہیں ، ہمارا دل،ہماری عقل، اور ہماری اجتماعی روح۔اس کامقصدنہ وجدانی سرشاری کی محض ایک ساعت فراہم کرناہے اورنہ ہی ماضی کی عظمت کے قصے دہراکرحال کی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنا۔یہ نشست دراصل ایک فکری احتساب ہے ،اپنے انفرادی شعورکابھی اوراپنے اجتماعی فہم کابھی۔ہم یہ سوال اٹھانے آئے ہیں کہ مسلمان فکرکی وہ روح کہاں گم ہوگئی ہے جوکبھی عشقِ سے جنم لیتی تھی اورخودی پرمنتج ہواکرتی تھی؟
اسی سوال کاسراغ ہمیں مولاناجلال الدین رومی کیؒ محبت اورعلامہ محمداقبالؒ کی خودی کے فکری رشتے میں ملتاہے۔ یہ رشتہ محض شاعرانہ عقیدت نہیں،بلکہ ایک مسلسل نظریاتی ارتقاہے ایک ایسافکری سفرجوانسان کوباطن کی گہرائیوں سے اٹھاکرتاریخ کے دھارے میں ذمہ دارکردار ادا کرنے کے قابل بناتاہے۔اسی تسلسل کاایک درخشاں باب مولاناجلال الدین رومیؒ کی محبتِ حقیقی سے شروع ہوکرہمیں علامہ محمداقبالؒ کی خودی کے توانااورمضبوط قلعے میں لاکھڑاکرتاہے۔
ہمارے معززدانشوروں نے ہمیں اس روحانی بیداری کی داستان سے روشناس کروایاجوتیرھویں صدی کے قونیہ میں عشق کی صورت ظاہرہوئی اوربیسویں صدی کے برصغیرمیں خودی کے شعورمیں ڈھل کرایک فکری تحریک بنی۔ایسا سفرجوقونیہ کی خاموش گلیوں سے اٹھ کربرصغیرکے فکری افق تک پھیل جاتاہے،اورجس میں صوفیانہ وجد،تاریخی شعور،اسلامی فکر،اور ادبی جمالیات ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔یہ وہ سفرہے جس میں محبت،معرفت،تاریخ، سیاست،اورتہذیب ایک دوسرے میں مدغم ہوکرایک زندہ پیغام بن جاتے ہیں۔ گویاآج کی مجلس اسی روحانی اورفکری سفرکے لئے سجائی گئی ہے۔
آج کامسلمان شدیدفکری انتشار کا شکار ہے۔ ایک طرف مادہ پرستی ہے،دوسری طرف جذباتی مذہبیت۔رومیؒ اوراقبالؒ ہمیں ایک تیسری راہ دکھاتے ہیںعشق اورخودی کی راہ۔یہ راہ نہ فرارسکھاتی ہے،نہ تصادم؛بلکہ تعمیر،توازن اور مقصدیت کاشعوردیتی ہے۔
اگرتاریخ کومحض واقعات کاانبارسمجھاجائے تووہ محض یادداشت بن کررہ جاتی ہے اوریہ دل کوچھو نہیں سکتی مگر جب تاریخ کوفکر کے تسلسل کے طورپر دیکھا جائے ،روح کی تلاش کی کہانی کے طورپرپڑھاجائے توہرصدی ایک زندہ انسان بن جاتی ہے اوروہ رہنمائی کاسرچشمہ بن جاتی ہے۔رومی ؒاوراقبالؒ اسی تسلسل کے دوروشن میناراورفکری سنگِ میل ہیں۔ان کے درمیان چھ صدیوں کافاصلہ ضرورہے،مگرسوال ایک ہی ہے:انسان اپنی حقیقت کوکیسے پہچانے؟
رومی ؒنے انسان کویہ سکھایاکہ وہ اپنے اندرکے صحرامیں محبت کاچشمہ پیداکرے،اوراقبالؒ نے یہ راز کھولا کہ اسی چشمے سے خودی کی نہربہاکرتمدن کوسیراب کیاجاسکتاہے۔
مولاناجلال الدین رومی ؒکانام آتے ہی دل پرایک غیرمرئی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔وہ محض شاعرنہیں،نہ ہی صرف صوفی؛وہ عشق کے وہ معلم ہیں جنہوں نے انسان کواس کے باطن سے روشناس کرایا۔ رومیؒ کے ہاں عشق کوئی جذباتی ہیجان نہیں بلکہ ایک ہمہ گیرکائناتی اصول ہے۔ان کے نزدیک عشق وہ قوت ہے جوخاک کوزر،اورانسان کوانسانِ کامل بناتی ہے۔ مثنویِ معنوی کے اوراق پلٹتے ہوئے یوں محسوس ہوتاہے جیسے تاریخ نہیں،روح خودگفتگوکررہی ہو۔رومیؒ فرماتے ہیں کہ عشق وہ آگ ہے جوہرشے کوجلاکربھی زندہ رکھتی ہے ۔ یہ وہی عشق ہے جوانسان کوخودفراموشی سے نکال کر خداآشنائی تک لے جاتاہے۔
قونیہ، ترکی کاوہ شہرہے جہاں رومی کی محبت آج بھی سانس لیتی ہے۔آج بھی قونیہ دنیابھرکے متلاشیوں کواپنی طرف کھینچتاہے۔رومیؒ کامزارمحض ایک قبرنہیں بلکہ ایک خاموش زندہ درسگاہ ہے جہاں مشرق ومغرب کے زائرین یکساں طورپرسر جھکاتے ہیں۔ جہاں مذہب،نسل اورزبان کے فرق مٹ جاتے ہیں اوردلوں کی دھڑکن ایک ہوجاتی ہے۔یہاں آ کر انسان محسوس کرتاہے کہ اصل عبادت دل کاجھک جاناہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں عشق’’مذہب، قوم،اورجغرافیے‘‘کی سرحدوں کوتوڑدیتاہے۔قونیہ کی فضامیں آج بھی مثنوی کے اشعارگونجتے محسوس ہوتے ہیں،اوریوں لگتاہے جیسے زائرین اپنے اندرکے کھوئے ہوئے انسان کوڈھونڈنے آئے ہوں۔
قونیہ محض جغرافیہ نہیں، ایک فکری علامت ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ محبت جب مرکزپالیتی ہے توسرحدیں مٹ جاتی ہیں۔رومی ؒکے مزارپرعقیدت سے جھکنے والاسراس بات کااعتراف کرتاہے کہ فکرکی اصل منزل انانہیں، انکسارہے۔ یہی قونیہ بعدمیں اقبالؒ کے فکری تخیل میں ایک روحانی مرکزبن کرابھرتاہے ،ایسامرکزجہاں سے عشق کی روشنی خودی کے سفر کو منور کرتی ہے۔یہی مقام بعدمیں اقبالؒ کے لئے بھی ایک ایسی علامت جس نے ان کی فکرکوبین الاقوامی اورآفاقی بنایا۔
یادرہے کہ رومیؒ کے عہدمیں مسلم دنیاسیاسی انتشاراورفکری جمودکاشکارتھی۔صلیبی جنگوں کی گونج، تاتاری یلغارکا خوف،اورمذہبی رسمیت نے روحانی زندگی کومحدودکردیاتھا۔رومیؒ نے اس جمودکوتوڑنے کے لئے عشق کومرکزبنایا۔ اقبالؒ کے زمانے میں استعمار،فکری غلامی اورتہذیبی مرعوبیت نے مسلم ذہن کومفلوج کردیاتھا۔اقبالؒ نے اسی جمودکو توڑنے کے لئے خودی کا نعرہ بلندکیا۔
اکثریہ سوال اٹھایاجاتاہے کہ رومیؒ کاعشق اوراقبالؒ کی خودی ایک دوسرے کی ضدہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عشق خودی کومقصد دیتاہے،اورخودی عشق کوسمت عطاکرتی ہے ۔ عشق کے بغیرخودی انابن جاتی ہے،اورخودی کے بغیرعشق محض جذبہ رہ جاتا ہے۔ یہ دونوں مل کرایک متوازن اسلامی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔اگررومیؒ عشق کے شاعرہیں تواقبالؒ عشق کے حکیم۔ اقبالؒ نے رومیؒ سے محبت کی،مگرتقلید نہیں کی؛انہوں نے رومیؒ کے چراغ سے اپنی خودی کاچراغ جلایا۔ اقبالؒ کے نزدیک عشق کامقصدفنا نہیں بلکہ بقاہے ،ایسی بقا جو انسان کوعمل، جرات، اورتخلیق کی راہ پر ڈال دے۔اقبالؒ نے رومیؒ کواپنامرشدِمعنوی کہا:
پیر ِرومی خاک را اکسیر کرد
ازغبارم جلوہ ہاتعمیر کرد
یہ محض عقیدت کااظہارنہیں بلکہ فکری رشتہ ہے۔رومیؒ نے اقبالؒ کوعشق دیا،اوراقبالؒ نے اس عشق کوخودی کی شکل دے کرامت کوعمل کاپیغام دیا۔خودی اقبالؒ ؒکے نزدیک انسان کی داخلی قوت کانام ہے،وہ قوت جواسے تقدیرکاغلام نہیں بلکہ تقدیرکاخالق بناتی ہے۔یہ خودی انسان کوذمہ داری کاشعوردیتی ہے۔ یہاں اقبالؒ کاتصوف رومیؒ کے تصوف سے جڑتا ضرور ہے مگرآگے بڑھ جاتاہے۔رومیؒ عشق کے شاعر ہیں، اقبالؒ عشق کے مجاہد۔اقبالؒ کی خودی کوئی اناپرستی نہیں بلکہ ذمہ داری کاشعورہے۔یہ وہ خودی ہے جوخداکے سامنے جھکتی ہے مگرباطل کے سامنے نہیں۔اقبالؒ کی خودی انسان کواس کی اصل پہچان دلاتی ہے،وہ پہچان جواسے خداکانائب بناتی ہے۔
یہاں اقبالؒ صوفی بھی ہیں اورمصلح بھی، شاعربھی اورمفکربھی۔ان کے کلام میں جہاں فکری تمکنت اورتاریخی وقار جھلکتاہے،وہاں ان کی فکرکااسلامی آہنگ بھی سنائی دیتاہے۔
خودی اقبالؒ کے ہاں محض نفسیاتی اصطلاح نہیں،بلکہ ایک مکمل نظریہ انسان ہے۔یہ انسان کوکائنات میں ایک فعال کردارعطاکرتی ہے۔خودی انسان کویہ شعوردیتی ہے کہ وہ محض حالات کاشکار نہیں، بلکہ حالات کامعماربھی ہے۔یہاں اقبالؒ کا اختلاف اس تصوف سے ہے جوانسان کوعمل سے کاٹ دے۔اقبالؒ کاانسان سجدہ بھی کرتاہے اورجہدبھی؛دعابھی مانگتاہے اورتدبیربھی کرتاہے۔
رومیؒ اوراقبالؒ کے درمیان صدیوں کافاصلہ ہے،مگرروحانی مکالمہ مسلسل جاری ہے۔رومیؒ کی محبت اقبالؒ کی خودی میں ڈھل کرایک نئی تہذیبی روح پیداکرتی ہے۔یہ مکالمہ ہمیں سکھاتاہے کہ عشق بغیرشعورکے محض جذبہ ہے،اور شعوربغیرعشق کے محض خشک عقل۔رومیؒ کے ہاں عشق کوئی ذاتی واردات نہیں،بلکہ ایک ہمہ گیرنظریہ حیات ہے۔وہ عشق کوعلم، اخلاق ،سیاست اور عبادت سب کامحوربناتے ہیں۔ان کے نزدیک وہ علم جودل کومنورنہ کرے،بوجھ ہے؛اوروہ عبادت جوانسان کوانسان سے نہ جوڑے،رسم ہے۔(جاری ہے)