(گزشتہ سے پیوستہ)
لیبیا2011ء سے اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کاشکارہے،جس کے تحت کسی بھی عسکری سامان کی ترسیل کیلئے اقوام متحدہ کی منظوری درکارہے۔ دسمبر 2024ء میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس پابندی کوغیرمؤثر قراردیا،تاہم قانونی حیثیت اب بھی برقرارہے۔ایل این اے کے سرکاری میڈیانے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کی تصدیق کی،جس میں ہتھیاروں کی فروخت، مشترکہ تربیت اورفوجی تیاری شامل ہے۔حفترنے اسے پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک فوجی تعاون کے نئے مرحلے کاآغازقراردیا۔
اقوام متحدہ کے پینل کے مطابق متعددغیر ملکی ریاستیں پابندیوں کے باوجودمشرقی ومغربی لیبیامیں عسکری تربیت اورمدد فراہم کررہی ہیں۔اس تناظرمیں پاکستان کامؤقف ہے کہ اس نے کسی پابندی کی خلاف ورزی نہیں کی۔دوسری جانب،مغربی لیبیامیں عبدالحمید دبیبہ کی حکومت اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ہے،جبکہ حفترکی ایل این اے مشرق اورجنوب، بشمول بڑے تیل کے ذخائرکوکنٹرول کرتی ہے۔یہ تقسیم دفاعی معاہدوں کی قانونی اوراخلاقی حیثیت پرسوالات اٹھاتی ہے اوریہ دواقتدار،ایک ملک،اورایک نہ ختم ہونے والابحران ہے۔
ایل این اے کے میڈیاچینل نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کی تصدیق کی،جبکہ حفترنے اسیاسٹریٹجک فوجی تعاون کے نئے مرحلے کاآغازقرار دیا، جس میں ہتھیاروں کی فروخت، مشترکہ تربیت اورفوجی تیاری شامل ہے۔پاکستانی حکام کامؤقف ہے کہ اس معاہدے سے اقوام متحدہ کی پابندی کی خلاف ورزی نہیں ہوئی اوریہ کہ پاکستان واحدملک نہیں جو لیبیاکے ساتھ دفاعی تعاون کررہاہے۔ان کے بقول بڑھتی ہوئی تیل برآمدات نے بن غازی کومغربی دنیاکے قریب لاکھڑاکیاہے۔پاکستان گزشتہ چندبرسوں سے دفاعی برآمدات کووسعت دینے کی حکمت عملی پرعمل پیراہے اوردفاعی منڈیوں میں اپنے قدم مضبوط کررہاہے۔ اس کی دفاعی صنعت طیارہ سازی،بکتربند گاڑیوں،جنگی سازوسامان اور بحری تعمیرات پرمحیط ہے۔ انسدادِبغاوت کی دہائیوں پرمحیط تجربہ،ملکی دفاعی صنعت کی خودکفالت،اورمئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں میں فضائیہ کی کارکردگی ،یہ سب پاکستان کی عسکری مارکیٹنگ کاسرمایہ بن چکے ہیں۔فیلڈمارشل عاصم منیرکے بقول، پاکستانی قیادت نے مئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں میں فضائیہ کی کارکردگی کوبطورمثال پیش کیاہے۔ اس جھڑپ نے پاکستان کی جدیدعسکری صلاحیتوں کوعالمی سطح پراجاگرکیا۔ بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ نے دنیاکوپاکستان کی جدیدعسکری صلاحیتوں کاعملی مظاہرہ دکھادیا۔یہی اعتماد اب برآمدات میں ڈھل رہاہے۔
پاکستان نہ صرف چین کے ساتھ دفاعی شراکت کوآگے بڑھارہاہے بلکہ خلیجی ریاستوں خصوصاً سعودی عرب اورقطرکے ساتھ بھی سکیورٹی تعلقات کووسعت دے رہاہے۔ ستمبر 2025 ء کاسعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔جے ایف17کو پاکستان ایک کم لاگت، ملٹی رول فائٹراسٹریٹجک پروڈکٹ کے طورپرپیش کرتاہے ، جو مغربی سپلائی چین سے باہرتربیت، دیکھ بھال اورآپریشنل خودمختاری فراہم کرتاہے۔ یہی پہلواسے ترقی پذیرریاستوں کے لئے پرکشش بناتاہے۔لیبیاکے ساتھ معاہدہ شمالی افریقا میں پاکستان کے اثرورسوخ کوبڑھاسکتاہے،جہاں عالمی طاقتیں تیل،سلامتی اورسیاست کے لئے صف آرا ہیں۔ خلیجی ریاستوں کے ساتھ دفاعی روابط، پاکستان سعودی عرب اورقطر کے ساتھ دفاعی تعاون کووسعت دے رہاہے۔ستمبر2025ء میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسی رجحان کی مثال ہے،جوپاکستان کوایک علاقائی سیکورٹی شراکت دارکے طورپرپیش کرتاہے۔
لیکن ایک سوال ابھرکرسامنے آتاہے، کیا عالمی اسلحہ سازاجارہ داریاں اس سودے کواپنے لئے چیلنج سمجھیں گی؟تاریخ گواہ ہے کہ جہاں طاقت کاتوازن بگڑتاہے،وہاں سازشوں کے سائے بھی گہرے ہو جاتے ہیں۔اوریوں،ایک طیارہ جوریڈارسے غائب ہوا، شائد محض ایک حادثہ نہ تھابلکہ عالمی سیاست کے افق پرایک ایسی لکیرتھی جوطاقت،مفاداورتاریخ کے پیچیدہ رشتے کو عیاں کرگئی۔بین الاقوامی سیاست میں یہ امربعیداز قیاس نہیں کہ بڑی اسلحہ ڈیلزکے بعدسیاسی دبا، قانونی پیچیدگیاں یابالواسطہ مزاحمت سامنے آئے۔تاریخ ایسے واقعات کی مثالوں،سازشی بیانیے اورتاریخی نظائرسے خالی نہیں۔
شمالی افریقامیں پاکستان کاابھرتا کردارلیبیا کے ساتھ معاہدہ شمالی افریقامیں پاکستان کے قدم جمانے کی کامیاب کوشش ہے،جہاں عالمی اورعلاقائی طاقتیں تیل،سلامتی اور اثر و رسوخ کے لئے مسابقت میں ہیں۔یہ معاہدہ عالمی اسلحہ سازکمپنیوں کے لئے ایک ممکنہ چیلنج بن سکتا ہے، خصوصاً ان کمپنیوں کے لئے جوروایتی طورپرافریقی منڈیوں پرحاوی رہی ہیں۔لیبیا کے عسکری سانحے اور پاکستان۔لیبیادفاعی معاہدے نے خطے کی سلامتی،عالمی اسلحہ سیاست اوراقوام متحدہ کی پابندیوں کی افادیت پرنئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔پاکستان کے لئے یہ معاہدہ ایک معاشی اوراسٹریٹجک موقع ہے،مگراس کے ساتھ قانونی شفافیت،سفارتی توازن اورطویل المدت علاقائی اثرات پرمسلسل نظررکھناناگزیرہوگا۔
لیبیامیں عسکری قیادت کے حالیہ فضائی حادثے اورپاکستان۔لیبیادفاعی معاہدے نے بیک وقت علاقائی سلامتی،عالمی اسلحہ سیاست،اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی عملی حیثیت کو ایک نئے زاوئیے سے نمایاں کردیاہے۔یہ پیش رفت پاکستان کے لئے معروف معاشی، اسٹریٹجک اورسفارتی مواقع بھی رکھتی ہے اورقانونی،سیاسی اورخطے میں تیزی سے ابھرتی ساکھ جیسی نوعیت کے خطرات بھی۔
پاکستان کی دفاعی صنعت پہلی بارشمالی افریقا میں ایک نمایاں اوربراہِ راست اسٹریٹجک کھلاڑی کے طورپرابھررہی ہے،تاہم لیبیاکی داخلی تقسیم،بین الاقوامی اجارہ داراسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات، اوراقوام متحدہ کی غیرموثرمگرموجود پابندیاں اس عمل کوحساس بنا دیتی ہیں۔ فیصلہ سازوں کے لئے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ اقتصادی فائدے اورعالمی قانونی ذمہ داریوں میں توازن قائم رکھاجائے۔ عسکری برآمدات کو سفارتی تنہائی کاسبب نہ بننے دیا جائیاورپاکستان کوایک ذمہ دار،قابل اعتماد اور اصولی دفاعی شراکت دارکے طورپرپیش کیا جائے۔
یقینااس نئی صورتحال پردفاعی مقتدرادارے بڑی تندہی سے موجودہ حالات میں اپنی پالیسیوں کی تشکیل میں مصروفِ کارہوں گے مگر ان حالات میں قانونی شفافیت اوردستاویزی تحفظ پرچند آراپر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کودفاعی معاہدوں کے ہرمرحلے میں اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندیوں سے متعلق قانونی رائے کو تحریری صورت میں محفوظ رکھناچاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بین الاقوامی فورم پرمؤقف کمزورنہ ہو۔قانون اگرچہ پابندی کوغیر موثر قرار دیاجاچکاہے،تاہم پاکستان کواقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ بیک ڈورڈپلومیسی چینل کے ذریعے پیشگی رابطہ رکھنا چاہیے تاکہ کسی ممکنہ تنازعے سے بچاجاسکے۔
(جاری ہے)