Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

تاریخ کے ترازو پر عدل اور سیاست

جب دل کی بستیوں میں اضطراب ٹھہرجائے، جب شہروں کی گلیاں صدائے فریادبن جائیں،اور جب امتِ مسلمہ کے چہرے پر فکرکی سلوٹیں گہری ہوجائیں،توتاریخ خاموش نہیں رہتی وہ پکاربن کربول اٹھتی ہے۔آج بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان ابھرتی ہوئی کشیدگی محض بین الاقوامی سیاست کاباب نہیں،بلکہ دلوں کے زخموں،یادوں کے کرب اور معاہدوں کے بکھرے ہوئے کاغذوں کی کہانی ہے۔
یہ وہ سرزمین ہے جس نے کبھی اخوت کے نغمے گنگنائے تھے،مگرآج نفرت کی گردنے ان نغموں کی لے کوگہنادیاہے۔ معصوم جانوں کا ناحق بہتاخون،سفارتی ایوانوں کی بے چین فضا، اقلیتوں کے لرزتے ہوئے دل،اورسیاست کے بازی گرسب مل کرہمیں اس حقیقت کااحساس دلاتے ہیں کہ جب عدل اٹھ جاتاہے توزمین کانپتی نہیں،دل کانپنے لگتے ہیں۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لواورتفرقہ نہ ڈالو۔
مگرافسوس،ہمارے عہدکی سیاست نے اسی رسی کوچھوڑکراختلافات کے خاردار جھاڑ جھنکار کوتھام لیاہے۔اس رپورٹ کا مقصدکسی نفرت کے شعلے کوہوادینانہیں،بلکہ ضمیرکے دروازوں پر دستک دیناہے کہاں گرے ہم؟ کب بھٹکے ہم؟ اورکب ہم پھرسے قرآن وسنت کی چھاؤں میں عادلانہ معاشروں کی طرف پلٹیں گے؟
بنگلہ دیش میں حالیہ شورش محض ایک واقعہ نہیں بلکہ کئی برسوں سے پلتے شکوؤں، تحفظات اورباہمی بدگمانیوں کا برآمدہ ہے۔ مظاہرے، ہنگامے، سفارتی احتجاج اورالزام تراشیوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات کے کچے دھاگے کومزیدنازک بنادیاہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ ماضی کی رفاقت کاقافلہ راہوں میں تھک گیاہے اورنئی سیاسی ہوا نے دوستی کے چراغ کو لرزادیا ہے۔سوال یہیں جاٹھہرتاہے کہ کیایہ تعلقات محض وقتی دھندہیں یادائمی خلیج میں بدل جائیں گے؟
یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش میں حالیہ پرتشدد مظاہروں نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجودکشیدگی کواورزیادہ گہراکردیاہے۔الزام تراشی کایہ تبادلہ صبحِ ازل سے شروع نہیں ہوا ، مگرآج صورتحال اس نہج تک آن پہنچی ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے سفارتی عملے کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈکراتے اور عوامی سطح پرسخت بیانات جاری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جوکبھی رفاقت کے سائے تلے ساتھ ساتھ چلتے تھے،کیاوہ پھرکبھی تاریخ کے کسی موڑپرشانہ بشانہ کھڑے ہوسکیں گے؟
ڈیپوچندراکی ہلاکت نے نہ صرف انسانی دلوں کودہلادیابلکہ فرقہ وارانہ حساسیت کوبھی جھنجھوڑ ڈالا۔چندراکی ہلاکت نے فضامیں مزید بارود گھول دیااوراس حادثے کی بازگشت ہندو تنگ نظرحلقوں میں سخت ردعمل کی صورت سنائی دی۔ دوسری طرف عثمان ہادی کاقتل اپنے ساتھ سیاسی معانی اورتہہ درتہہ سوال لے آیا۔عثمان ہادی کے قتل پربرپا ہونے والے پرتشدد مظاہرے پہلے ہی شہردرشہر بے قراری پھیلاچکے تھے۔قاتل کے مبینہ بیرونِ ملک فرارکی خبرخواہ درست ہویابے بنیاد، اس نے عوامی اذہان میں غصے اوربدگمانی کے بیج بودیے ۔معاشرے کی نبض نے اسی لمحے بتادیا کہ جذباتی اضطراب ریاستی بیانیے سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔الزام یہ بھی ابھراکہ مبینہ قاتل کاتعلق عوامی لیگ سے تھااوروہ بھارت فرارہوا، اگرچہ پولیس نے اس کی تردیدکی۔مگرجذبات کا دریا جب طغیانی پرہوتودلیل کی کشتی ہلکی پڑجاتی ہے۔
اسی تلخ فضامیں ویزاسروسزکی معطلی گویا دودلوں کے درمیان کھڑی نئی دیواربن گئی۔ دونوں طرف سے سفارتی مشنزکی سکیورٹی پر اعتراضات اٹھے، اورکمشنرزکی طلبی اس بے چینی کی علامت بن گئی۔ ویزہ سروس کی معطلی محض سفارتی اقدام نہیں ہوتی، یہ دراصل لوگوں کے ملنے ملانے کے پل منہدم کر دیتی ہے۔طالب علموں،تاجروں، مریضوں اور اہلِ خاندان کیلئے یہ ایک نفسیاتی دیوارکھڑی کردیتی ہے۔سفارتی کمشنروں کی طلبی گویارسمی لفاظی نہیں بلکہ اس تلخی کی علامت ہے جس نے دونوں حکومتوں کے اعصاب کوبوجھل کردیاہے۔یوں دکھائی دیتا ہے کہ سفارت کاری کی شطرنج میں اب نرم مہروں کی جگہ سخت چالیں چلائی جارہی ہیں۔سابق سفارت کاروں کی تشویش بھی اسی حقیقت کی غمازہے کہ حالات کس رخ جاپڑیں،کہنا دشوار ہو چلاہے۔
بنگلہ دیش میں بھارت مخالف جذبات نئی پود نہیں؛ یہ شجرپراناہے جس نے نئی شاخیں نکالی ہیں۔ شیخ حسینہ کے طویل دورِ اقتدارمیں بھارت کے اثرونفوذکی شکایتیں کچھ حلقوں میں پہلے ہی پل رہی تھیں۔بھارت مخالف جذبات محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ تاریخ کے طویل سلسلے کی پیداوار ہیں۔ 1971ء کے بعدکی سیاست،سرحدی معاملات ، پانی کی تقسیم،تجارتی توازن اورسیاسی مداخلت کے شبہات نے اس جذباتی فضاکوہمیشہ نمناک رکھا۔ شیخ حسینہ کے دورکوبعض حلقوں نے بھارت نوازی سے تعبیرکیا،جس کے نتیجے میں یہ تاثرراسخ ہواکہ قومی خودمختاری کاجذبہ کہیں دب کررہ گیاہے۔
معزولی کے بعدان کی بھارت میں پناہ نے ان جذبات کواوربھڑکادیا۔ڈھاکہ کی طرف سے بارہا درخواستوں کے باوجود حوالگی نہ ہوناعوامی حلقوں میں سوالات چھوڑگیااورشکوک کی آگ میں نیا ایندھن پڑگیا۔اقتدارسے علیحدگی کے بعد بھارت میں قیام نے سیاسی بیانیے میں نئی گرہیں ڈال دیں ۔ عوامی رائے عامہ کے کچھ حلقوں نے اسے بیرونی سرپرستی کی علامت کے طورپردیکھا۔ حوالگی سے متعلق مطالبات کاردہونا قانون وسفارت کے دائرے میں ہوسکتاہے،مگرعوامی جذبات کی عدالت میں فیصلے اکثراورطرح سے لکھے جاتے ہیں۔
نوجوان قیادت کالب ولہجہ قوم کے باطن کی دھڑکن ہوتاہے۔جب زبان میں شعلہ اوردل میں انگارہ اترآئے توسیاسی اعتدال پیچھے رہ جاتا ہے۔ بھارت مخالف تقاریراورنعرے اسی دبے ہوئے غصے کی علامت ہیں جوبرسوں تک سیاسی ادب وآداب کے پردوں میں چھپارہا۔عثمان ہادی کے قتل کے بعدبعض نوجوان رہنماں کے سخت بیانات نے فضا میں گرمی پیداکی۔زبان جب شعلہ بن جائے تو کان جلنے لگتے ہیں اورعقل دبک کرایک طرف ہوبیٹھتی ہے۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں