Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

گمراہی کے نئے طریقے

تفریح اور نئے سال کے جشن کے نام پر پاکستان کی نوجوان نسل کو گمراہی کے جن راستوں پر ڈال دیا گیا ہے وہاں اخلاق و کردار کی تباہی وبربادی کے سوا کچھ بھی نہیں،تفریح عربی زبان کا لفظ ہے جو خوشی، مسرت، دل لگی، ہنسی مذاق اور اطمینان کے معنی رکھتا ہے۔ خوشی اگر اللہ کی نعمتوں کے احساس، شکر گزاری اور اس کے فضل و کرم کی یاد کے ساتھ ہو تو یہ پسندیدہ عمل ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہونا چاہیے۔اسلام میں خوشی، تفریح اور جشن کا تصور مکمل طور پر قرآن و سنت کے تابع ہے۔ یہاں خوشی کے نام پر حرام و حلال کی تمیز ختم نہیں ہو جاتی، نہ ہی شرم و حیا اور اخلاقی حدود پامال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔جو تفریح اور جشن دین سے غفلت، اللہ کی نافرمانی، فحاشی، عریانی، شراب نوشی، جوئے بازی، بے ہنگم موسیقی اور غیر مسلم اقوام کی نقالی پر مبنی ہو، اسلام میں اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ آج بدقسمتی سے تفریح اور جشن کے نام پر ایسے اعمال عام ہو چکے ہیں جو انسان کی صحت، اخلاق اور ایمان کو تباہ کر رہے ہیں۔ انہیں آرٹ یا جدید تہذیب کا نام دے کر خوبصورت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ زوال کی علامت ہیں۔قرآن مجید میں اہل ایمان کی ایک نمایاں صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ لغو اور فضول کاموں سے دور رہتے ہیں۔ لغو سے مراد ہر وہ بات اور عمل ہے جس میں نہ کوئی دینی فائدہ ہو اور نہ دنیاوی، بلکہ نقصان ہی نقصان ہو۔ مومن کا شایانِ شان یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ بامقصد بنائے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا کیا ہے۔
زندگی اور موت اس لئے دی گئی ہیں تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون اچھے اعمال کرتا ہے۔ گویا یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور انسان کی پوری زندگی اس امتحان کا وقت ہے۔ زندگی اللہ کی ایک قیمتی امانت ہے، اگر اسے صحیح راستے میں استعمال کیا جائے تو کامیابی ہے، اور اگر غفلت میں ضائع کر دیا جائے تو ہلاکت ہے۔اللہ کے سامنے جواب دہی چاہے جشن سالِ نو ہو یا کوئی اور موقع، انسان کو ہر عمل سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ قیامت کے دن اسے اپنے رب کے سامنے جواب دینا ہے۔ حدیث کے مطابق قیامت کے دن انسان سے سب سے پہلے اس کی عمر کے بارے میں سوال ہوگا کہ اسے کہاں خرچ کیا؟ جوانی کہاں ضائع کی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا؟زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ اگر یہ لمحے اللہ کی نافرمانی میں ضائع ہو گئے تو آخرت میں سوائے حسرت کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اسی لئے انسان کو ہر عمل سے پہلے سوچنا چاہیے کہ وہ اللہ کے سامنے کیا جواب دے گا۔نئے سالِ کا جشن دراصل یہود و نصاریٰ کی ایک رسم ہے جو یورپ سے ہمارے معاشروں میں داخل ہوئی۔ رقص و موسیقی، فحاشی، عریانی، شراب نوشی ان کی تہذیب کا حصہ ہیں اور انہی چیزوں کے ساتھ یہ جشن منایا جاتا ہے۔ افسوس کہ مسلمان بھی بغیر سوچے سمجھے اس کی نقالی میں لگ گئے ہیں۔نبی کریم ﷺ نے دوسری قوموں کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں کفار کے مذہبی شعائر اور مخصوص رسم و رواج اپنانے کی اجازت نہیں۔اگر نئے سال کی مبارک باد اور جشن کی کوئی دینی حیثیت ہوتی تو سب سے پہلے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ اس پر عمل فرماتے، مگر تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ نہ محرم الحرام کے آغاز پر کوئی جشن منایا گیا اور نہ کسی اور سالانہ تبدیلی پر۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان بالخصوص نوجوان نسل کو تفریح اور خوشی کے اسلامی تصور سے روشناس کرایا جائے۔ اسلام زندگی کو بوجھ نہیں بناتا بلکہ اسے متوازن، پاکیزہ اور بامقصد بناتا ہے۔ اسلام میں خوشی کے مواقع موجود ہیں، مگر وہ حدودِ شریعت کے اندر رہ کر ہیں۔
عیدین، نکاح، کسی نعمت کے ملنے پر شکر اور خوشی کا اظہاریہ سب اسلام میں جائز بلکہ پسندیدہ ہیں، بشرطیکہ ان میں گناہ، فحاشی اور اللہ کی نافرمانی شامل نہ ہو۔بدقسمتی سے آج کے نوجوان کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اگر وہ مغربی طرزِ تفریح اختیار نہ کرے تو وہ بورنگ ہے، پسماندہ ہے یا زمانے سے پیچھے رہ گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب خود اخلاقی دیوالیہ پن، خاندانی نظام کی تباہی، ذہنی دبا اور خودکشی جیسے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ وہاں کی نام نہاد آزادی نے انسان کو سکون نہیں دیا بلکہ مزید بے چینی اور انتشار میں مبتلا کر دیا ہے۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دے رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں محض وقتی خوشیوں، مصنوعی مسرتوں اور چند لمحوں کی لذتوں کے حوالے کر رہے ہیں، یا انہیں کردار، حیا، ایمان اور مقصدِ حیات کا شعور بھی دے رہے ہیں؟ ماں باپ، اساتذہ، علماء اور معاشرے کے ذمہ دار افراد سب اس معاملے میں جواب دہ ہیں۔ اگر آج ہم نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو کل اس کے نتائج ہمیں بھگتنا ہوں گے۔اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ وقت کی قدر کرے، اپنے مقصد کو پہچانے اور ہر عمل میں اللہ کی رضا کو سامنے رکھے۔ جو قومیں وقت کی قدر کھو دیتی ہیں، وہ تاریخ کے صفحات میں محض عبرت کا نشان بن جاتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نئے سال کے آغاز کو جشن، شور شرابے اور غفلت کے بجائے محاسب نفس، توبہ، اصلاح اور آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کے عزم کے ساتھ گزاریں۔
نیا سال اگر واقعی کچھ نیا لانا ہے تو وہ ایمان کی تازگی، عمل کی درستگی، اخلاق کی مضبوطی اور اللہ سے تعلق کی تجدید ہونی چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو بھی سنوارتا ہے اور قوم کو بھی۔ بصورتِ دیگر، محض کیلنڈر کا بدل جانا نہ کسی کی تقدیر بدلتا ہے اور نہ ہی زوال پذیر قوموں کو عروج عطا کرتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مسلمان کی پہچان اس کا لباس، موسیقی یا جشن نہیں بلکہ اس کا کردار، اس کا ایمان اور اس کا طرزِ زندگی ہے۔ اگر ہم نے اپنی شناخت کھو دی تو دنیا کی کوئی تفریح، کوئی جشن اور کوئی نیا سال ہمیں حقیقی خوشی نہیں دے سکتا۔ حقیقی خوشی صرف اللہ کی اطاعت، اس کی رضا اور آخرت کی کامیابی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے، سنبھلنے اور صحیح راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں