Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

فضائی حادثات اور اقتدار کا المیہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ سانحہ اس موقع پرپیش آیاجب پاکستان عسکری اعتبارسے ایک نئے موڑپرکھڑاتھا، اورعلاقائی سیاست کے نقشے بدل رہے تھے۔ جنرل ضیاء الحق سوویت یونین کے ٹوٹنے اور چھ حصوں میں تقسیم کے بعدنئی چارمسلم ریاستوں کے قیام کے بعدان تمام ریاستوں سمیت پاک افغان کی شمولیت کے ساتھ نہ صرف ایک عظیم مسلم کنفڈریشن کے خواب دیکھ رہے تھے بلکہ دنیامیں ایک نئی توانامسلم طاقت کے ظہورکے لئے اپناہوم ورک مکمل کرکے اس پرعمل پیراہونے کے لئے اپنی عملی کوششوں کاآغازکرچکے تھے کہ حادثے کی گونج سرحدوں سے آگے تک پہنچ گئی۔حادثے کے بعد پورے ملک میں سوگ کی فضاچھاگئی اوراقتدارکی بساط بھی نئے اندازسے اس طرح بچھائی گئی کہ جنرل ضیاء الحق کامنصوبہ پروازسے پہلے ہی دفن کر دینے کاپیغام پہنچادیاگیا۔
تحقیقات کے باوجودحادثے کی حقیقت پر سوالات قائم رہے ،حادثہ تھایاسازش؟یہ عقدہ پوری طرح کبھی نہ کھلا۔واقعے کے بعدریاستی اداروں نے حادثے کے اسباب تلاش کرنے کی سعی کی،مگرہر رپورٹ کے باوجودایک سوال اضطراب کی طرح باقی رہاتحقیقات کے باوجودحادثے کی حقیقت پرسوالات قائم رہے حادثہ تھایاسازش؟یاکوئی پردہ نشین ہاتھ ملوث تھا؟یاپھرآنے والوں کی اقتدارکی مجبوریوں نے اس کی حقیقت سامنے لانے کی ہمت نہیں کی؟یہ عقدہ آج تک پوری طرح کبھی نہ کھلااورنہ ہی مستقبل قریب میں اس کی امیدہے بلکہ وقت کے ساتھ اس واقعے کوعوام کی یاداشتوں سے محوکردیاگیاہے ۔
عالمی میڈیانے مختلف امکانات کی نشان دہی کی مگرسچائی دھوئیں کی طرح اوجھل رہی۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی اس حادثے کے ممکنہ اسباب پرمختلف آراپیش کیں۔کہیں مکینیکل اورفنی خرابی کا ذکر ہوا،کہیں سازشوں کے تانے بانے بنے گئے مگر تاریخ نے فیصلہ نہ سنایایاپھرتاریخ کوبھی ظلمتوں کے رازافشا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اوراس نے بھی ہمیشہ کی طرح صرف سوالات محفوظ کرلئے۔
یہ سانحہ اس دورمیں پیش آیاجب الخالد ٹینک کے تجربات جاری تھے اورعسکری قیادت اسی پس منظرمیں بہاولپورپہنچی تھی۔الخالد ٹینک کی آزمائش کے پس منظرمیں فوجی قیادت بہاولپورمیں مجتمع تھی۔اسی تناظرمیں یہ فضائی سفراختیارکیاگیا تھاجس نے اب ابدی سفرکی صورت اختیارکرلی۔ الخالدٹینک چین اور پاکستان کی مشترکہ سعی کاانتہائی کامیاب نتیجہ تھا اورامریکی ایم ون ابراہم اس کا مدِمقابل۔ طاقت، ٹیکنالوجی اورسیاست کے دھاگے ایک دوسرے میں گویاالجھے ہوئے تھے۔جنرل اسلم بیگ بھی اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ اس دورمیں پاکستان اورچین کے اشتراک سے الخالدٹینک کی تشکیل جاری تھی۔امریکی ایم ون ابراہم ٹینک اس کا حریف سمجھاجارہاتھا۔طاقت اور ٹیکنالوجی کایہ مقابلہ بھی پسِ پردہ حالات کاحصہ تھا۔
ہندوستان نے بھی ٹینک سازی کاخواب دیکھا مگر اس کی تمام کوشش ناکام رہیں۔اس ناکامی نے یہ سبق دیاکہ تنہاانحصارنہیں،اشتراک اورحکمت کامیابی کازینہ ہیں۔نتیجہ یہ نکلاکہ صنعت تنہانہیں کھڑی ہوسکتی ،حکمت،تجربہ اوراشتراک اس کے ستون ہیں۔پاکستانی ماہرین نے مختلف ممالک کی ٹیکنالوجی کوجوڑتوڑاور تدبرسے یکجاکرکے الخالدکی شکل میں ایک کارگراور کارآمدٹینک تیار کیایہ محض صرف لوہے کی مشین نہ تھی،جس نے یہ کامیاب رستے نکالے بلکہ ایک قوم کے عزم کی تمثیل تھی۔
جنرل اخترعبدالرحمن نے شکوہ کیاکہ انہیں پہلے گروپ میں کیوں شامل نہیں کیاگیا۔جواب ملااصول یہ ہے کہ تمام سینیئرافرادایک ہی طیارے میں سفرنہیں کرتے لیکن تقدیراورقضاکو یہ اصول بھی منظورنہ تھاتاہم تقدیروقضا کے اصول کچھ اورہوتے ہیںزندگی موت کی امانت ہوتی ہے اوراس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی گوارہ نہیں ہوتی۔آخرکاروہ بھی قضاء کی انگلی تھامے اسی پروازمیں سوارہوگئے تھے۔
17اگست کوجنرل ضیاء الحق بہاولپورپہنچے تو جنرل اسلم بیگ پہلے سے منتظرتھے۔عسکری وغیرملکی شخصیات اس قافلے میں شامل تھیں۔کسی کوخبرتک نہیں تھی کہ یہ استقبال دراصل ایک الوداعی لمحے کاپیش خیمہ ہے۔کسی کو اندازہ نہ تھاکہ یہ استقبال، دراصل ایک الوداعی اثبات اوردائمی جدائی کاپیش خیمہ بن جائے گا۔ خودراقم نے جب جنرل بیگ کاتفصیلی انٹرویوکیا جو آج بھی سوشل میڈیاپرموجودہے،عوام الناس کے ذہنوں میں پائے جانے والے اس حادثے پرکئی سوالات کئے جس کے جوابات آپ وہاں سن سکتے ہیں۔
ٹامے والی فائرنگ رینج میں الخالداورایم ون ٹینک کاعملی مقابلہ ہوا۔الخالد کامیاب رہاگویاملکی محنت کی لاج رکھ لی گئی۔اس کامیابی کی خوشی ابھی ذہنوں میں پوری طرح اتری بھی نہ تھی کہ سانحے کی کالی گھٹاامڈآئی اورحادثے نے سب آوازیں ساکت کر دیں۔آزمائش کے بعدقافلہ واپس بہاولپورروانہ ہوا۔نماز،معمول کی مصروفیتیں جاری تھیں،اورپھر ایئر پورٹ کاقصدزندگی اپنی معمول کی رفتار میں جاری تھی،مگرجہاں وقت کی ریت آخری حد پرپہنچ چکی تھی وہاں تقدیرچپکے چپکے اپنافیصلہ لکھ چکی تھی جس پرقضانے اثبات اوریقین کی مہر لگادی تھی۔
ضیاء الحق نے روانگی سے پہلے مسکراتے ہوئے آخری جملہ کہا’’آپ بھی ساتھ چلیں‘‘گویا ایک خاموش وداع تھاجس کی معنویت بعدمیں سمجھی گئی۔یہ دراصل دنیاکی آخری دعوتِ سفر ثابت ہوئی۔وہ جہازمیں سوار ہو گئے اورکہانی نے نیاموڑلے لیا۔کچھ ہی دیر بعدپاکستان ون سے رابطہ منقطع ہوا۔ریڈیوخاموش ہوااوردلوں میں بے نام ساخوف اوراندیشے جاگ اٹھے۔وہ خوف جوآنے والے حادثے کی پیشگی آہٹ ہوتاہے۔ دورکہیں دھوائوں اٹھتانظرآیا۔قریب پہنچ کرمعلوم ہو اسی130تباہ ہوچکاہے۔آگ کے شعلے آسمان سے ہمکلام تھے اورپھرملبہ،پھر شعلے۔انسانی وجودراکھ ہوکربکھرچکے تھے اورپھرتاریخ کاایک باب بندہوگیا۔
جنرل اسلم بیگ نے فیصلہ کیاکہ اقتدارآئین کے مطابق منتقل ہوضمیرنے آوازدی اورقدم نے اس پرلبیک کہا۔جنرل اسلم بیگ کے مطابق فیصلہ کن لمحہ تھااقتدارسنبھالیں یاآئین کے حوالے کریں؟ضمیر نے دستک دی،باپ کی نصیحت یادآئی،اورطے پایاکہ اقتدار عوام کی امانت ہے اوربقول مرزا بیگ کہ انہوں نے اس اہم اورتاریخ سازموقع پرنصیحت پر لبیک کہنے کافیصلہ کرلیا۔چنانچہ آئینی تقاضوں کے مطابق چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کواقتدارمنتقل کرنے کافیصلہ ہوا۔رات دس بجے قوم سے خطاب ہوا،یوں چند گھنٹوں میں نظام حکومت نے خودکونئے سانچے میں ڈھالتے ہوئے دستوری عمل نے خودکوبحال کرلیا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں