پانچ جنوری کا دن کشمیریوں کے لیے ایک عام تاریخ نہیں، بلکہ ایک زندہ یاد، ایک درد کی مسلسل لڑی اور ایک ناقابلِ فراموش وعدے کی یاد دہانی ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1949 میں اقوامِ متحدہ کی کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان (UNCIP) نے وہ تاریخی قرارداد منظور کی تھی جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ جموں و کشمیر کی الحاق کی حتمی حیثیت ایک آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں منعقد ہونے والی رائے شماری سے طے کی جائے گی۔ یہ قرارداد محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں تھی، بلکہ ایک عالمی ضمانت تھی کہ کشمیری عوام کی آواز کو دبایا نہیں جائے گا، کہ ان کی تقدیر کا فیصلہ طاقت اور جبر کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ ان کی آزاد مرضی سے ہوگا۔ یہ وعدہ تھا کہ کشمیر کا مسئلہ سرحدی تنازعہ نہیں، بلکہ ایک قوم کی بقا اور سیاسی شناخت کا سوال ہے۔ مگر آج، جب ہم 2026 میں یہ دن منا رہے ہیں، تو یہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ آٹھ دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، اور کشمیر کا تنازعہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا سب سے پرانا، سب سے طویل اور سب سے نظر انداز شدہ قضیہ بنا ہوا ہے۔یہ دن علامتی ضرور ہے، مگر اس کی گہرائی میں ایک قوم کی چیخ، ایک زندہ امید اور ایک ابدی جدوجہد چھپی ہوئی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر دنیا بھر میں کشمیریوں نے اس دن کو ریلیوں، مظاہروں، سیمیناروں اور احتجاجی پروگراموں کے ذریعے منایا۔ آزاد کشمیر کے شہروں مظفرآباد، کوٹلی، راولاکوٹ اور میرپور میں مشعل بردار جلوس نکالے گئے، جہاں نوجوانوں نے بھارتی مظالم کے خلاف نعرے بلند کیے۔ پاکستان بھر میں سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی نے جلسے منعقد کیے۔ وزیراعظم، صدر مملکت اور دیگر رہنماؤں نے اپنے پیغامات میں کشمیریوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرے۔ یہ احتجاج محض غم و غصے کا اظہار نہیں، بلکہ ایک منظم پیغام ہیں کہ جنوبی ایشیا کا امن اور استحکام کشمیر کے منصفانہ حل سے جڑا ہوا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے اس پار، مقبوضہ وادی میں بھی کشمیریوں نے گھروں میں دعائیں مانگیں، خاموش احتجاج کیے، کیونکہ وہاں کرفیو، بلیک آؤٹ اور فوجی محاصرے نے کھلے مظاہروں کو ناممکن بنا رکھا ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بھارت کی ابتدائی قیادت نے بھی اس اصول کو تسلیم کیا تھا۔ مہاتما گاندھی سے لے کر جواہر لعل نہرو تک، بھارتی نمائندوں نے اقوامِ متحدہ کی مجلس میں بارہا کہا کہ کشمیری عوام کو اپنی تقدیر خود طے کرنے کا حق حاصل ہے۔ نہرو نے تو کھل کر وعدہ کیا تھا کہ رائے شماری ضرور ہوگی، اور کشمیر کے عوام آزادانہ فیصلہ کریں گے۔ مگر جیسے ہی یہ خدشہ پیدا ہوا کہ رائے شماری کا نتیجہ بھارت کے حق میں نہ ہو، وعدوں کی بنیاد ہلنے لگی۔ سیاسی انجینئرنگ شروع ہوئی، شیخ عبداللہ کو قید کیا گیا، جعلی انتخابات کروائے گئے، اور آہستہ آہستہ کشمیر کو “اٹوٹ انگ” کہنا شروع کر دیا گیا۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں اندرا گاندھی نے شیخ عبداللہ کے ساتھ معاہدے کیے، مگر وہ بھی محض بھارت کے تسلط کو قانونی جواز دینے کے لیے تھے۔جب کشمیریوں نے دیکھا کہ پرامن اور سیاسی جدوجہد سے بھی حق نہیں مل رہا، تو 1990 کی دہائی میں انہوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق مسلح مزاحمت کا راستہ اپنایا۔ جواب میں بھارت نے لاکھوں فوج کشمیر میں اتار دی۔ ایک چھوٹے سے خطے میں دس لاکھ فوجیوں کا نزول دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کہیں ملے۔ اس جبر کا نتیجہ ہزاروں شہادتیں، لاکھوں گرفتاریاں، ہزاروں گھروں کی تباہی، عزتوں کی پامالی اور لاکھوں یتیم اور بیوائیں ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں جیسے ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے بارہا رپورٹیں جاری کر چکے ہیں کہ کشمیر میں منظم ریاستی دہشت گردی ہو رہی ہے۔ کالے قوانین جیسے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ نے فوج کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ بغیر جوابدہی کے تشدد کرے۔2019 کا پانچ اگست تو ایک نیا باب تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے آئین کی دفعہ 370 اور 35A کو منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ اس اقدام نے نہ صرف کشمیر کی آئینی شناخت مٹا دی، بلکہ علاقے کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا۔ ماہوں تک کرفیو، انٹرنیٹ بندش، میڈیا بلیک آؤٹ اور ہزاروں گرفتاریاں ہوئیں۔ حریت قیادت، صحافی، وکلا، طلبہ اور تاجر سب کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد آبادیاتی تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ غیر ریاستی باشندوں کو ڈومیسائل دیے گئے، زمینیں ضبط کی گئیں، اور کشمیری شناخت کو مٹانے کی منظم مہم چلائی گئی۔ عالمی ماہرین نے اسے “سیٹلر کالونیلزم” قرار دیا ہے۔مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان جیسے ممالک کو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری سے آزادی ملی، مگر کشمیر—جو سلامتی کونسل کا سب سے پرانا قضیہ ہے—ابھی تک محرومی کا شکار ہے۔ یہ دوہرا معیار عالمی برادری کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کشمیری عوام نے نسل در نسل مزاحمت سے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے حقِ خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کی جدوجہد نہ صرف آزادی کی آرزو ہے، بلکہ انصاف، انسانی وقار اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی جدوجہد بھی ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سلامتی کونسل اپنی 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے۔ بھارت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ فوجی انخلا، پرامن ماحول اور رائے شماری کی راہ ہموار کرے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کی ہے، اور یہ حمایت آئندہ بھی جاری رہے گی۔ عالمی برادری کو سمجھنا ہوگا کہ کشمیر کا تنازعہ جنوبی ایشیا کا ایٹمی فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ اسے نظر انداز کرنے کا مطلب خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلنا ہے۔یومِ حقِ خودارادیت ایک یاد دہانی ہے کہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ یہ دن کشمیریوں کی استقامت، عزم اور امید کی علامت ہے۔ یہ دن عالمی ضمیر کو جھنجوڑتا ہے کہ التوا کی یہ آٹھ دہائیاں مزید برداشت نہیں کی جا سکتیں۔ کشمیر کا مسئلہ طاقت سے نہیں، عوامی رائے سے حل ہوگا۔ یہ نہ صرف کشمیریوں کا بنیادی حق ہے، بلکہ خطے کے پائیدار امن اور عالمی انصاف کی ضمانت بھی۔ آج ہم سب کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کی آواز بن کر کہتے ہیں کہ حق خودارادیت زندہ باد، کشمیر کی جدوجہد پا باد، اور انشاء اللہ وہ صبح ضرور آئے گی جب کشمیر کی وادیوں میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا اور ایک قوم اپنی تقدیر خود لکھے گی۔