بھارت ایک بار پھر اپنی دیرینہ روش پر قائم دکھائی دیتا ہے۔ جب بھی اسے عالمی سطح پر اپنے اندرونی مسائل، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی یا ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہوتا ہے، وہ پاکستان پر الزام تراشی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ حالیہ دنوں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اسی پالیسی کا تسلسل ہیں، جنہیں پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت ایک بار پھر اپنی دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام میں کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ خطے میں دہشت گردی کے فروغ میں بھارت کا کردار دستاویزی شواہد کے ساتھ دنیا کے سامنے موجود ہے۔ اس کے باوجود بھارت کا خود کو مظلوم اور پاکستان کو جارح ثابت کرنے کی کوشش دراصل سفارتی فریب کاری کے سوا کچھ نہیں۔کل بھوشن یادیو کا معاملہ بھارت کے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ ایک حاضر سروس بھارتی نیوی افسر کا پاکستان میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے گرفتار ہونا اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ بھارت محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث رہا ہے۔ اس کے باوجود بھارتی قیادت کا پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرنا کھلی منافقت ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے درست نشاندہی کی ہے کہ بھارت پر بیرون ملک ٹارگٹ کلنگز، تخریب کاری اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی معاونت کے سنگین الزامات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ کینیڈا اور دیگر ممالک میں ہونے والی تحقیقات نے بھارتی خفیہ اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں، مگر بھارت ان الزامات کا جواب دینے کے بجائے الزام تراشی کا سہارا لے رہا ہے۔بھارتی طرزِ عمل کے پیچھے ہندوتوا نظریہ کارفرما ہے، جو انتہا پسندی، نفرت اور تشدد کو فروغ دیتا ہے۔ یہی نظریہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیاد ہے۔ غیر قانونی فوجی قبضہ، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزائیں اور سیاسی آزادیوں کی مکمل پامالی بھارتی جمہوریت کے دعوں پر سوالیہ نشان ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔سندھ طاس معاہدہ بھی بھارتی بدنیتی کا نشانہ بنتا جا رہا ہے۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ نیک نیتی سے طے پانے والا ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی یکطرفہ خلاف ورزی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لئے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر پاکستان واقعی دہشت گردی کو فروغ دیتا، جیسا کہ بھارت دعویٰ کرتا ہے، تو پھر وہ خطے اور دنیا بھر میں امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی بات کیوں کرتا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں، اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اور سماجی سطح پر گہرے زخم پاکستان کے عزم اور قربانیوں کی گواہی دیتے ہیں۔اسی تناظر میں پاکستان کا یمن کے معاملے پر مقف قابلِ توجہ ہے۔ پاکستان نے یمن کی صدارتی لیڈرشپ کونسل کی جانب سے سعودی عرب میں جامع مذاکرات کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور یمن کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکراتی اور سیاسی حل کی طرف بڑھیں۔ یہ پاکستان کی متوازن اور ذمہ دار خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے بھی اسی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ خطے کی صورتحال پر مشاورت، مثبت پیش رفت پر اطمینان اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل پر زور اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، نہ کہ محاذ آرائی کا۔بھارت کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی پاسداری کی ہے۔ اختلافات کے باوجود مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور تصادم کے بجائے تعاون کو ترجیح دی ہے۔
بدقسمتی سے بھارت کی موجودہ قیادت داخلی سیاسی مفادات کے لیے خطے کے امن کو دا پر لگانے سے بھی گریز نہیں کر رہی۔ یہ محض بیان بازی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء کے مستقبل سے جڑا ایک سنگین معاملہ ہے۔ یہ خطہ پہلے ہی غربت، ماحولیاتی خطرات اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایسے میں اشتعال انگیز بیانات اور الزام تراشی حالات کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کی الزام تراشی نہ نئی ہے اور نہ مثر۔ عالمی برادری اب حقائق سے بخوبی آگاہ ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں، ذمہ دار اور اصولوں پر قائم ملک ہے۔ اگر واقعی خطے میں امن مطلوب ہے تو اس کا راستہ جھوٹے بیانیوں سے نہیں بلکہ سچ، انصاف اور سنجیدہ سفارت کاری سے ہو کر گزرتا ہے۔