Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

فضائی حادثات اور اقتدار کا المیہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
شدیدحادثے کے باعث شناخت مشکل ہوگئی تھی۔جوجسدِخاکی کے ٹکڑے اورباقیات میسر آئیں، انہیں جمع کرکے امانت سمجھ کرسپردِ خاک کیاگیا۔بعدکی میڈیکل رپورٹوں میں کسی کیمیکل یازہریلے مادے کی واضح نشاندہی نہ ہوسکی۔شکوک مگرباقی رہے تاہم باوجود شکوک کی راکھ کے نیچے کبھی کبھی چنگاری آج بھی سلگتی محسوس ہوتی ہے۔ متعدد انکوائریاں قائم ہوئیںملٹری انٹیلی جنس،آئی ایس آئی، ایئر فورس،سب نے اپنی اپنی آنکھ سے حقیقت کودیکھنے کی کوشش کی۔مگرحقیقت نے نہ توکبھی مکمل چہرہ دکھایااورنہ ہی تلاش کیاجاسکا اور نہ ہی کبھی مکمل طورپرمسکرائی ۔بس پردے کے پیچھے سے کئی رازآج تک جھلک رہے ہیں مگران کی حقیقت شائدہی کبھی سامنے آسکے۔تین ہفتوں کے اندراندررپورٹس حکومت کے حوالے کردی گئیں، اس کے بعدتاریخ نے اپنی گواہی کاباب بندکردیا، اورسیاست نے اپنااگلاباب کھول لیا۔
سی ون تھرٹی چونکہ فضائیہ کے سپردتھا،اس لئے اس کی ذمہ داریاں بھی اسی کے کاندھوں پرتھیں۔ سکیورٹی کے اصول سخت تھے ،تمام اصول اپنی جگہ، حادثہ اپنی جگہ۔مگرحادثات اصول نہیں دیکھتے، صرف موقع دیکھتے ہیں۔انکوائریوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کسی گیس یاکیمیکل کی واضح نشاندہی نہ ہوسکی۔پائلٹ کی خاموشی، ایس اوایس کانہ دیاجانا، اور اچانک جھکانے سازش کے شکوک کوزندہ رکھامگرثبوت کاہاتھ خالی رہا۔تاہم خاموشی کبھی کبھار سب سے بڑاسوال بن جاتی ہے،اسی لئے سازش کے خدشات کبھی مکمل ختم نہ ہو سکے بے نظیربھٹواور نوازشریف کے ادوارمیں کمیشن قائم ہوئے،بلکہ بے نظیربھٹونے بندیال کمیشن بنایا،نواز شریف نے شفیع الرحمن کمیشن مگرہرراستہ جاکرحادثہ ہی ثابت ہوا،اورشایدتاریخ نے بھی یہی مناسب سمجھاکہ فیصلہ وقت پرچھوڑدیا جائے، آخری حکم کسی اورعدالت نے سناناہے،فیصلہ آخری عدالت پرچھوڑ دیا گیاجہاں بے انصافی کبھی نہیں ہوتی۔
اب رخ اردن کی جانب مڑتاہے۔ فروری 1977ء میں شاہ حسین کی اہلیہ ملکہ عالیہ الحسین بھی ایک ہیلی کاپٹرحادثے میں اس دنیاسے رخصت ہوئیں۔اس حادثے نے صرف ایک ملکہ نہیں،کئی ریاستی ستونوں کولرزاڈالا۔اس حادثے میں وزیرِصحت اور دیگر شخصیات بھی ہلاک ہوئیں ایک پوراقافلہ لٹا۔گویاقدرت کایہ اعلان سامنے آیاکہ حادثات شاہی محلوں کی دیواروں سے بھی نہیں رکتے۔شاہی خاندان کے محل بھی حادثات کی آندھی سے محفوظ نہیں رہتے۔اس حادثے نے یہ واضح کیاکہ شاہی پروٹوکول،جدیدٹیکنالوجی اور حفاظتی انتظامات بھی تقدیرکی دیوارنہیں گراسکتے۔ چالیس دن بعدعمان ایئرپورٹ کوان کے نام سے منسوب کرنا قومی یادداشت کا استعارہ بنا۔یادرکھنے کاایک قومی عہد۔گویا ایک قومی خراجِِ عقیدت، جوپتھراورلوہے میں ڈھل کریادگاربن گیا۔
عراق کے صدرعبدالسلام عارف بھی اپریل 1966ء میں ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں انتقال کرگئے۔بصرہ کے قریب یہ حادثہ ہوااور ان کے بھائی عبدالرحمان عارف نے اقتدا ر سنبھالا، مختصر حکومت، مگرزیادہ دیرنہ ٹھہرسکے۔بہت سے اہلِ فکرنے اس حادثے کوپراسرار کہاتاریخ نے وہاں بھی سوال چھوڑ دئیے جوآج بھی تحقیق کے دروازے پردستک دیتے ہیں۔یہ سب حادثات خطے کی سیاست کوبراہِ راست متاثرکرتے رہے۔
مندرجہ بالایہ اشاریے نہیںیہ تاریخ کے بدنصیب چراغ ہیں جن کی حقیقت نہ صرف پراسرار بلکہ ناقابل یقین حدتک دنیاکی نظروں سے مستور رہے گی۔ ہرمقتدرچراغ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ طاقت عارضی ہے،پروازمحدودہے اورانجام یقینی ہے۔ان تمام نکات کی یہ رودادہمیں بتاتی ہے کہ آسمان کی وسعتوں میں پروازکرنے والے بھی تقدیرکے ایک اشارے کے محتاج ہیں۔طاقت ، اقتدار،شاہی جاہ و جلال،سب کچھ ایک لمحے کی خطایاایک جھٹکے کے ساتھ ریزہ ریزہ ہوسکتاہے۔ کل من علیہافان۔
فضائی حادثات میں عموما درج ذیل عوامل کارفرماپائے جاتے ہیں،موسمی رکاوٹیں دھند، آندھی، برفانی طوفان،مشینی خرابی،انجن فیل، ہائیڈرولک نقص،الیکٹرانک نظام کی ناکامی، انسانی غلطی،تربیت ونگرانی کی کمی لیکن جب مسافروں میں عالمی قیادت شامل ہوتو اس فہرست میں ایک اورعنصرشامل ہوجاتاہے اوروہ ہے سیاسی مفاد،اسی لیے محققین حادثے اور سازش کے درمیان فرق کوہمیشہ کھلارکھتے ہیں اوریہی فرق ان تمام حادثات میں دکھائی دیتاہے۔
جس حادثے میں ریاست کاسربراہ،انٹیلی جنس کاچیف یافوجی کمانڈرہلاک ہوجائے،وہاں حادثہ محض حادثہ نہیں رہتا۔عوامی ذہن میں کچھ سوال مستقل جنم لیتے ہیں۔کس کوفائدہ ہو ا ؟ کیاحفاظتی نظام ناکام تھا؟کیایہ قدرتی واقعہ تھا؟یاطاقت کی بساط پرچلی گئی چال؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سچ ہمیشہ دستاویزمیں محفوظ نہیں رہتاکبھی قبرمیں بھی دفن ہوجاتاہے۔
اس تحقیق سے چندبنیادی حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔ قیادت کی موت قوموں کی تقدیرکارخ موڑ دیتی ہے،فضائی حادثات جدیدسیاست کے اہم موڑثابت ہوئے۔سائنسی تحقیق کے باوجودبعض سوال غیرحل شدہ رہتے ہیں،طاقت کی معراج بھی انسانی کمزوری کے سامنے بے بس ہوجاتی ہے، تاریخ کے بڑے فیصلے آسمانوں میں بھی لکھے جاتے ہیں۔
بہاولپورکے آسمان سے لے کرعمان کے ہوائی اڈے تک،اردن کی ملکہ عالیہ سے عراق کے صدر عبدالسلام عارف تک ہرحادثہ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ اقتدار،قوت اورجاہ وجلال سب پروازکی مانندہیں، ایک جھونکا،اورسب کچھ ریزہ ریزہ،ان سب نکات کوآپ کی فراہم کردہ ترتیب کے مطابق محفوظ کیاگیاہے کہیں معاملہ عسکری حکمتِ عملی کا ہے، کہیں سیاست کے تخت وتاج کا اورکہیں انسانی تقدیرکے اس نہ بدلنے والے قانون کا۔ان تمام واقعات کویکجاکرکے دیکھیں توایک دل گرفتہ منظر ہماری آنکھوں کے سامنے ابھرتا ہے۔ طیاروں کا ملبہ،سیاہ دھواں،بین کرتی ہوئی مائیں، خاموش ہوتی ہوئی فوجی چوکیاں،اوراقتدارکے ایوانوں میں پھیلی ہوئی سرد وحشت۔یہ محض افسوسناک حادثات نہیں بلکہ وہ موڑ ہیں جنہوں نے قوموں کی تقدیر بدل دی،سیاسی نقشے الٹ دیے،اورتاریخ کے دھارے کودوسری طرف موڑدیا۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں