Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

محمدﷺ کی غلامی کامیابی کی نشانی

اسلام ایک مکمل ضابط حیات ہے جس کی بنیاد محبت، اطاعت اور غلامیِ رسول ﷺ پر قائم ہے۔ تاریخِ انسانی میں کوئی ہستی ایسی نہیں گزری جس نے اپنے کردار، اخلاق، تعلیمات اور اسوئہ حسنہ کے ذریعے انسانیت کو وہ رفعت عطا کی ہو جو نبی کریم ﷺ کے حصے میں آئی۔ آپ ﷺ کی ذات اقدس صرف ایک نبی یا رہنما ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت، ہدایت اور نجات کا سرچشمہ ہے۔ اسی لیے ایمان کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دل میں رسول اکرم ﷺ کی محبت، تعظیم اور اطاعت ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر خواہش پر غالب نہ ہو جائے۔محمد ﷺ کی غلامی دراصل انسان کی حقیقی آزادی اور کامیابی کی علامت ہے، کیونکہ یہ غلامی کسی انسان کی نہیں بلکہ اس ہستی کی ہے جسے ربِ کائنات نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام اور افراد نے اس غلامی کو اپنا شعار بنایا، وہ عزت، وقار اور سربلندی کے منصب پر فائز ہوئے، اور جنہوں نے اس تعلق کو کمزور کیا وہ ذلت، انتشار اور زوال کا شکار ہو گئے۔ رسول اکرم ﷺ سے وابستگی محض ایک جذباتی تعلق نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت عملی رشتہ ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو منور کرتا ہے۔ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ دراصل دینِ اسلام کے تحفظ کا نام ہے، کیونکہ رسول کی عزت، عظمت اور شان پر آنچ آنا ایمان کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔ مسلمانوں کے دلوں میں نبی کریم ﷺ کی محبت کوئی اختیاری شے نہیں بلکہ ایمان کا لازمی جزو ہے۔
قرآن و سنت نے بار بار اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اطاعتِ رسول ﷺ ہی اطاعتِ الہی ہے اور رسول ﷺ کے فیصلے کے بعد کسی مومن کے لیے انکار یا تردد کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔عصرِ حاضر میں جب فکری انتشار، اخلاقی زوال اور دینی اقدار پر حملے عام ہیں، اس بات کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے کہ امتِ مسلمہ سیرتِ رسول ﷺ سے اپنے تعلق کو ازسرِ نو مضبوط کرے۔ غلامیِ محمد ﷺ ہی وہ راستہ ہے جو فرد کو کردار کی بلندی، معاشرے کو عدل و امن اور امت کو وحدت و استحکام عطا کرتا ہے۔ یہی غلامی اصل کامیابی، حقیقی فلاح اور دائمی نجات کی ضامن ہے، اور یہی مضمون اس حقیقت کو واضح کرنے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے۔ نبی کریمﷺ کی ناموس کا تحفظ دراصل دین اسلام کا تحفظ ہے،اللہ کریم کے بعد جس ہستی کا ہم پر سب سے زیادہ احسان ہے وہ سرور کائنات رحمت عالم حضرت محمد ﷺکی ذات اقدس ہے، مسلمانوں کا نبی کریم ﷺ سے جو تعلق ہے وہ تمام دوسرے انسانی تعلقات سے بہت بڑا ہے۔ دنیا کا کوئی رشتہ اس رشتے سے اور کوئی تعلق، اس تعلق سے جو نبی کریم اور اہل ایمان کے درمیان ہے، ذرہ برابر بھی کوئی نسبت نہیں رکھتا نبی کریمﷺ مسلمانوں کے لئے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بڑھ کر خیر خواہ ہیں،لہذا وہی سب سے زیادہ قریب بھی ہیں یہاں تک کہ جان سے بھی زیادہ قریب، حقدار اور ولی بھی ہیں،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام الانبیا ﷺ نے ارشاد فرمایا میں دنیا اور آخرت میں ہر مومن کا سب سے زیادہ قریبی ہوں تو جس مسلمان کا انتقال ہو جائے اور مال چھوڑے تو وہ اس کے عصبہ (یعنی وارثوں)کا ہے اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں کہ میں ان کا مددگار ہوں (صحیح بخاری)جب رسول اللہﷺ کا حق تمام ایمان والوں پر سب سے زیادہ ہے تو ان کی محبت بھی اہل ایمان کے دلوں میں سب سے زیادہ ہونی چاہیے،یہاں تک کہ اپنی ذات سے، اپنے ماں باپ سے، اپنی اولاد سے بلکہ تمام انسانوں سے زیادہ محبت رسول اللہ ﷺ کی ذات سے کرنا لازم ہے ارشاد ہے تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے دل میں میری محبت اپنے والد اپنے لڑکے اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو(بخاری، مسلم) اسی طرح یہ بھی روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یارسول اللہﷺ! آپ کی محبت میرے دل میں کائنات کے تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے، سوائے میرے نفس کے تو آقا نے فرمایا کہ اپنے نفس سے بھی زیادہ میری محبت ہونی چاہیے، تو انہوں نے کہا کہ اب اپنے نفس سے زیادہ آپ سے محبت کرتا ہوں،ناموس سے مراد آبرو، عزت، شہرت، عظمت اور شان ہے۔
ناموس رسالت سے مراد رسول کی آبرو، عزت، شہرت، عظمت اور شان ہے اور تحفظ ناموس رسالت سے مراد ہے کہ کسی بھی رسول کی آبرو، شہرت، عزت، عظمت یا شان کا لحاظ کرنا،ہر قسم کی عیب جوئی اور ایسے کلام سے پرہیز کرنا جس میں بے ادبی ہو ان تمام امور کا لحاظ رکھنا فرض ہے اور مخالفت کرنا کفرہے اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کے لئے سیدنا محمدﷺ کو رسول، رہنما و رہبر بنا کر مبعوث فرمایاآپ ﷺ نے اپنوں اور بیگانوں میں تریسٹھ سالہ ظاہری زندگی بسر کی وہ بھی بھر پور تمام کے ساتھ لین دین کیا مسجد کے مصلی سے لے کر سربراہ ریاست تک آپ نے معاملات سر انجام دیئے اپنے تو کجا بیگانوں اور مخالفوں نے بھی تسلیم کیا کہ ان کی ذات اقدس کے معاملات بھی اس قدر امین وپاکیزہ ہیں کہ اس کی مثال نہیں ملتی لیکن اس کے باوجود کفار نے آپﷺ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔آپﷺ نے اپنی ساری ظاہری حیات میں کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا ہاں حدود الٰہی توڑنے اور مخلوق پر ظلم و ستم کرنے والوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ حضور اقدس ﷺکی ذاتِ اقدس میں اللہ جل شانہ نے وہ تمام انسانی بلند اوصاف و اخلاق جمع فرمادیئے، جن پر شرف انسانی کی بنیاد قائم ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں