Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

تاریخ کی کروٹ،وقت کی کڑواہٹ

زمانہ کب کروٹ بدلتاہے،یہ اہلِ اقتدار جاننے سے قاصررہتے ہیں۔قومیں خوابوں میں جیتی ہیں اورتاریخ ہوش کی گواہی میں لکھی جاتی ہے۔تاریخ کی رفتارتیزترہوچکی ہے۔ قوموں کی تقدیریں اب فقط معرکہ میدان میں نہیں،بلکہ عسکری بیانیے،سفارتی چالوں،اور جغرافیائی علامتوں میں لکھی جاتی ہیں۔ قومیں صرف الفاظ سے نہیں،عمل سے پہچانی جاتی ہیں اورجب قومیں صرف نعرے سناتی ہیں،مگرجب عمل کامیدان سجے تودم سادھ لیتی ہیں،توتاریخ ان سے سوال کرتی ہیکیاتم صرف نعرہ فروش تھے؟یاکچھ کرنے کا بھی ہنررکھتے تھے؟
برصغیرکی دوبڑی ریاستوںپاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ فضائی جھڑپ جہاں بظاہرایک علاقائی تناتھا،وہیں ایک عالمی طاقت چین نے اس قضیے میں جس اندازسے خاموشی سے برتری حاصل کی،وہ بذاتِ خودایک تاریخی وجیو،اسٹریٹجک مطالعے کاتقاضاکرتا ہے۔ ہندوپاک کے مابین حالیہ فضائی کشاکش بظاہر دو ریاستوں کے درمیان تھی،مگر اگر آنکھیں کھلی ہوں اور بصیرت موجود ہو، تویہ صرف برصغیرکے افق پرنہیں،بلکہ ایشیاکی جیواسٹریٹجک تصویرپرکندہ ایک فیصلہ کن لمحہ تھااوراس تصویرکااصل معمار بیجنگ تھایاپاکستان؟
یہ محض دوہمسایہ ایٹمی طاقتوں کی روایتی گرما گرمی نہ تھی،بلکہ یہ معرکہ چینی عسکری صنعت،نظریہِ پرجوش قوم پرستی،اور سفارتی ہنرکی کامیاب مشق تھی جس نے نہ صرف ایشیابلکہ دنیاکو بھی متوجہ کیاکہ اب سپرپاورزکی نئی صف بندی میں فولادی دوست کہاں کھڑاہے۔برصغیرمیں پاکستان کے خلاف طبلِ جنگ بجانے والی انڈین فوج جب چین کی برفیلی چوٹیوں پر خاموشی کی چادر اوڑھ لیتی ہے،توسوال یہ نہیں ہوتاکہ وہ کیوں خاموش ہے،سوال یہ ہوتاہے کہ کیایہ خاموشی دراصل شکست کاپردہ تونہیں؟
یہ مقالہ ان جھڑپوں کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ اصل فاتح چین رہایاپاکستان نہ فقط عسکری صنعت کے اعتبار سے بلکہ نظریاتی اور سفارتی فضاپراپنی بالادستی کے ذریعہ ۔میری کوشش ہوگی کہ آج کے آرٹیکل میں بھارت وپاکستان کی حالیہ فضائی جھڑپ کاتاریخی وعسکری تناظر،چین کاغیراعلانیہ مگرکلیدی کردار، چینی دفاعی صنعت کی عالمی مارکیٹ میں ساکھ ، اروناچل پردیش میں ناموں کی تبدیلی کاجغرافیائی مفہوم اورخاص وقت کے تعین اوربھارت کاسہ طرفہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ محاذ کھولنے کاتفصیلی ذکرکروں۔
معرکہ آسمان پرتھا،مگراس کی گونج بازارِ دنیا میں سنی گئی۔پاکستان نے جب چین کے اشتراک سے تیارکردہ جے10اورجے17 طیارے فضامیں بلند کئے،تویہ صرف لڑاکاپرندے نہ تھے، بلکہ یہ پاک چین کی دفاعی صنعت کے اعتماد کے پرتھے،جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ ’’پاک فوج‘‘ اور’’پیپلزلبریشن آرمی‘‘کی پیداوار اب صرف پریڈگراؤنڈکی زینت نہیں، بلکہ جنگی میدان کی تسخیرکاہنربھی رکھتی ہے۔ چینی کرنل ژوبونے یہ بات یوں کہی،جیسے تاریخ کے کسی نئے صفحے پردستخط ہورہے ہوں۔
یہ لڑائی چین کی دفاعی صنعت کے لئے ایک تشہیرتھی،ایسی تشہیرجوکتب خانوں میں نہیں،بلکہ پاک فوج نے میدانِ جنگ میں لکھی۔ واقعی،یہ پہلی بارتھاکہ چین کے لڑاکاطیارے حقیقی جنگی صورتِ حال میں آزمائے گئے،اوربقول مشرقی حکمت، پتھرپر لکیریں تبھی کھنچتی ہیں جب فولادحرکت میں آئے۔
پاکستان اوربھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت شدت اختیارکرگئی جب بھارت نے اپنے فضائی حملے کو’’آپریشن سندور‘‘کانام دیا۔دونوں جانب سے ڈرونز،میزائل، اور لڑاکاطیارے استعمال ہوئے۔ بھارت نے فرانسیسی ساختہ رافیل اورروسی طیاروں کوتعینات کیا جبکہ پاکستان نے چین کے تعاون سے تیارکردہ -10جے اور -17جے طیاروں سے بھرپورجوابی کارروائی کی۔
پاکستانی فضائیہ نے سرحدپارکیے بغیرمیزائل حملے کیے جن میں چھ بھارتی طیاروں کی تباہی کے دعوے شامل ہیں۔اگرچہ بھارت کی جانب سے باضابطہ تردیدکی گئی،لیکن رافیل کمپنی نے تین طیاروں کی تباہی کی تصدیق کردی،جوبذاتِ خودایک تاریخی موڑکی حیثیت رکھتاہے۔رافیل کمپنی کے سربراہ کواپنی کمپنی کی سبکی اور خفت مٹانے کے لئے یہ تسلیم کرناپڑا کہ ہم طیارے فروخت کرتے ہیں،لڑنے کے لئے حوصلہ نہیں لیکن اس کے باوجودعالمی مارکیٹ کے سٹاک ایکسچینج میں اپنی کمپنی کے حصص کی گرتی قیمتوں کو سہارا دینے میں ناکم رہے اوراس کے مقابلے میں رافیل کاشکارکرنے والے پاک چین کی مشترکہ کاوش جے ایف17تھنڈرکی حصص کی اچانک بڑھتی قیمت نے عالمی خریداروں تک یہ بھرپور اعتمادکاپیغام پہنچادیا۔
ہندوستانی میڈیااوراس کاعسکری بیانیہ جب پاکستان کے خلاف انگارے اگلتاہے،تویوں محسوس ہوتاہے کہ شایداگلے لمحے فتحِ کابل و اسلام آبادکااعلان کردیاجائے گالیکن جب یہی سپہ سالارمشرقی لداخ کی برف پوش وادیوں میں چینی سائے دیکھتے ہیں توزبانیں گنگ، توپیں خاموش، اوربیانات غائب ہوجاتے ہیں۔ سابق سیکرٹری خارجہ شیام سرن کایہ اعتراف،کہ انڈین فوج یاتوکارروائی کرنانہیں چاہتی یا پھراس کی سکت نہیں رکھتی،دراصل بزدلی کاسفارتی اعتراف ہے۔یہ وہی زبان ہے،جوپاکستان پرگرجتی تھی،اب چین کے سامنے لرزاں ہے،آخرکیوں؟
چینی پیپلزلبریشن آرمی کے سابق کرنل ژوبو نے عالمی میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ فضائی لڑائی چین کی دفاعی صنعت کے لئے بڑی تشہیر تھی۔اس سے قبل چین کوکبھی اپنے پلیٹ فارمزکوجنگی صورتحال میں آزمانے کاموقع نہیں ملاتھا۔ واقعی، -10جے کی میدانِ جنگ میں کامیاب آزمائش کے بعدچینی کمپنی ’’چنگڈوایئرکرافٹ‘‘کے حصص میں40 فیصد اضافہ ہوا،اس تناظرمیں فتح و کامیابی کاسہرا پاکستان کے بہادر اورجری کردار کیلائیوڈیمانسٹریشن کوجاتاہے جواس بات کاواضح ثبوت ہے کہ معرکہ صرف میدان میں نہیں،بلکہ عالمی اقتصادی منڈیوں میں بھی جیتاگیا۔ یہ کارکردگی چین کے ہتھیاروں کونہ صرف ایشیابلکہ افریقا،مشرقِ وسطی اورلاطینی امریکا کی مارکیٹوں میں معتبربناسکتی ہے۔
انڈین فضائیہ کے ترجمان ایئرمارشل اے کے بھارتی کایہ اعتراف کہ جنگ میں نقصان معمول کی بات ہے دراصل خاموش اعترافِ شکست تھا۔ بھارتی حکومت کااس معاملے میں محتاط رویہ،عالمی میڈیا کی رپورٹس اور رافیل کمپنی کی تصدیق سب مل کر یہ اشارہ دیتے ہیں کہ حقائق اب بیانیے سے بڑے ہوگئے ہیں۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں چین نے سفارتی محاذپر بھی بھارت کوپیچھے چھوڑا۔ نہ بیان،نہ تقاریر،نہ الزاماتفقط نتائج۔اوریہی خاموشی چینی سفارت کاری کاخاصہ ہے۔
انڈین فضائیہ کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے، جن کی خریدپراربوں کے سودے کئے گئے، پاکستانی میزائلوں کے سامنے عاجز نکلے۔تین طیاروں کی تباہی کی تصدیق رافیل کمپنی کے ترجمان نے کردی،مگر دہلی کے ایوانِ اقتدارمیں سکوت ایساچھایاجیسے آگرہ کالال قلعہ ماتم کررہاہو۔ایئرمارشل اے کے بھارتی کایہ کہناکہ جنگ میں نقصان معمول کی بات ہے،دراصل اعترافِ شکست کاایسا پردہ ہے جوقوم پرستی کے دبیزہالے میں لپیٹ دیاگیا۔یہ بیان چیخ چیخ کرکہتاہے کہ تم نے زخم چھپانے کی کوشش کی،مگرخون رستا رہااوردنیا دیکھتی رہی۔
پاکستانی طیارے،جن کی پروازیں پاک سرزمین پرمحدودرہیں،مگرجن کے میزائلوں نے سرحد پار دشمن کونشانِ عبرت بنایا،صرف عسکری مہارت کامظہرنہیں تھے، بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ،پاک چین حکمت عملی کاغیرعلانیہ تجربہ تھا۔پاکستان کی فتح دراصل چین کی کامیاب عسکری مارکیٹنگ تھی۔اسی تجربے کے بعدچنگڈو ایئرکرافٹ کمپنی کے حصص میں40 فیصداضافہ محض اقتصادی اشاریہ نہیں،بلکہ اس بات کابین ثبوت ہے کہ اب معرکہ صرف بندوق اوربارودکانہیں،برانڈاوربیانیے کابھی ہے۔
یادرہے کہ جب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے خوداعتراف کیاکہ بڑی تعداد میں چینی فوجی ایکچوئل کنٹرول لائن پارکرکے انڈین حدود میں آگئے ہیںتویوں محسوس ہواجیسے ہندوستان کی جغرافیائی خودداری کوبرفانی بوٹوں تلے رونددیاگیاہو۔یہ صرف ایک سرحدی خلاف ورزی نہ تھی،بلکہ چینی خوداعتمادی کی فتح اورانڈین دعوں کی پسپائی تھی۔اس پوری پیش قدمی پر اگرکوئی چیز نمایاں نہیں تھی،تووہ انڈیاکاعسکری ردِعمل تھا۔زبانیں جو پاکستان کے خلاف دہکتی تھیں،وہ چین کے آگے سہم گئیں۔
اس سلسلے میں ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی،گویاایک ایسابادشاہ جسے دوشہزادوں کی لڑائی میں صلح کرانے کا شوق ہو،مگرچین نے اس پیشکش کویوں مستردکیاجیسے کوئی کہے ہم اپنے معاملات خودسلجھانے کے قابل ہیں،تم اپناراستہ لو۔یہ رداس بات کااعلان تھا کہ چین خودمختاربھی ہے،خودکفیل بھی اورخودمدبربھی۔ یہی متانت،یہی خوداعتمادی اسے اس خطے کا بلاشرکتِ غیرے قوت بنانے جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں