کبھی ہمارا معاشرہ شرم و حیاء، عفت و عصمت اور عزتِ نفس کی روشن علامت ہوا کرتا تھا۔ گھروں میں تربیت کا پہلا سبق اخلاقیات ہوتا تھا۔ گفتگو میں ادب، لہجے میں نرمی، نگاہ میں پاکیزگی اور عمل میں کردار کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ حیاء کسی خاص لباس، صنف یا رسم تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ پورے معاشرے کی کیفیت تھی۔ مرد ہو یا عورت، بوڑھا ہو یا جوان، سب کے اندر ایک خود ساختہ حد اور ایک باطنی وقار موجود تھا جو انہیں برائی سے روک دیتا تھا۔ اس وقت عزت، صداقت، امانت اور خدمت ہی کسی شخص کی اصل پہچان سمجھی جاتی تھی۔ مگر وقت کے دھارے نے ہماری اقدار کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج کے معاشرے میں دکھاوا کردار پر غالب آ چکا ہے، شہرت نے وقار کو نگل لیا ہے، اور لمحاتی توجہ نے مستقل اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید تہذیب نے ظاہری طور پر ترقی کا تاثر تو دیا ہے لیکن دلوں سے وہ سادگی اور روحانیت چھین لی ہے جو ایک صالح معاشرے کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ آج انسان کی قیمت اس کے اخلاق یا علم سے نہیں بلکہ ویوز، لائکس اور فالورز سے لگائی جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ضمیر خاموش ہو جاتا ہے اور معاشرہ برائی پر ہنسنے لگتا ہے۔عمیرہ کی ویڈیو کے حالیہ واقعے نے اس گراوٹ کو عیاں کر دیا ہے۔ المیہ صرف یہ نہیں کہ ایک نامناسب ویڈیو بنی یا وائرل ہوئی، بلکہ اصل دکھ یہ ہے کہ لاکھوں لوگوں نے اسے دیکھا، آگے پھیلایا اور اس پر تبصرے کیے۔ کسی کی لغزش، ایک خاندان کی عزت اور ایک انسان کی زندگی کو ہم نے تفریح بنا لیا۔ ہم بھول گئے کہ ایمان کا حصہ حیاء ہے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ “مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔
” آج ہمارا ہاتھ موبائل ہے اور زبان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم۔ انہی کے ذریعے ہم دوسروں کے جذبات، عزت اور زندگیوں پر حملے کرتے ہیں۔سوشل میڈیا کا وائرل کلچر ہمارے فکری زوال کی آئینہ دار حقیقت ہے۔ خود کار نظام Algorithm صرف وہی چیز بلند اور نمایاں کرتا ہے جو سنسنی خیز یا جذباتی ہو جبکہ سنجیدہ گفتگو، اصلاحی پیغام، یا علمی باتیں سوشل میڈیا پر پس منظر میں گم ہو جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بگاڑ عام ہو جاتا ہے اور نیکی غیر دلچسپ قرار پاتی ہے۔ یوں ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں اور ہم احساس بھی نہیں کرتے کہ جو ہمیں “تفریح” لگتا ہے وہ دراصل اخلاقی تباہی کی ایک شکل ہے۔ اسلام نے معاشرت کی بنیاد “پاکیزہ کردار” پر رکھی۔ معاشرہ اُس وقت سنورتا ہے جب فرد اپنے دل، نگاہ اور زبان کو پاک رکھتا ہے۔ مگر آج دین کو صرف عبادات تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ہم نماز پڑھتے ہیں مگر جھوٹ سے باز نہیں آتے، تلاوت کرتے ہیں مگر کردار میں جھلک نہیں پیدا ہوتی۔ یہی تضاد ہماری اجتماعی کمزوری کی اصل جڑ ہے۔ اگر علم، عبادت اور اخلاق ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں تو معاشرہ خود بخود درست سمت اختیار کر لیتا ہے۔ والدین جدیدیت پر فخر کرتے ہیں مگر گھر کے ماحول سے شرم و حیاء کے سبق کو نکال دیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں علم تو ہے مگر کردار سازی کو ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے۔ علما تبلیغ کرتے ہیں مگر سامعین اب سننا نہیں چاہتے۔ اس خلا نے ہماری اقدار کو کمزور کر دیا ہے۔ قرآن نے واضح اعلان کیا ہے کہ “اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے”۔ اس میں ایک امید ہے کہ اگر ہم چاہیں تو اپنے رویّے، اپنی ترجیحات اور اپنی تربیت کو درست کر کے پھر سے روشنی کی راہ اختیار کر سکتے ہیں۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اخلاقی زوال کسی بھی قوم کے عروج کو مٹا دیتا ہے۔
رومن سلطنت عیش پرستی سے زوال کا شکار ہوئی، یونان انصاف کے خاتمے سے گر گیا، اندلس کا زوال اس وقت شروع ہوا جب علم اور کردار کا ربط ٹوٹ گیا۔ جب اصول کمزور پڑ جائیں، جب حیا کو فرسودہ کہا جانے لگے، جب گناہ کو بہادری اور نیکی کو کمزوری سمجھا جائے تو پھر قومیں علم، طاقت اور دولت کے باوجود بکھر جاتی ہیں۔آج پاکستان اسی خطرناک موڑ پر ہے۔ نئی نسل آزادی کے نام پر حدود کو بھولتی جا رہی ہے۔ لباس، زبان، تعلقات اور طرز زندگی میں جدت کے پردے میں حیاء کی چادر اترتی جا رہی ہے۔ دن رات کا بیشتر حصہ سوشل میڈیا پر گزرتا ہے، جہاں نہ تعمیری گفتگو ہے نہ فکری گہرائی۔ نتیجتاً نوجوانوں کا اخلاقی اور نفسیاتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔ ایک پوری نسل دل کے سکون سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔مگر ابھی دیر نہیں ہوئی۔ اگر ہم اپنے گھروں میں تربیت کو عبادت کا درجہ دے دیں، تعلیم کے ساتھ کردار سازی کو لازم سمجھیں، میڈیا پر اخلاقی ذمہ داری کو فروغ دیں اور اپنے دین کو محض الفاظ نہیں بلکہ عمل کی حقیقت بنا لیں تو حالات بدل سکتے ہیں۔ حیاء محض پردے یا لباس کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایمان کی روح ہے۔ وہ کیفیت جو دل کو بیدار رکھتی ہے، گناہ کو شرمناک بناتی ہے اور نیکی کو حسین بنا دیتی ہے۔ جب حیاء زندہ ہوتی ہے تو غلطی سے پہلے دل کانپ اٹھتا ہے اور جب حیاء مر جاتی ہے تو گناہ بھی معمولی لگتا ہے۔آج کی اصل جنگ میدانوں میں تلواروں سے نہیں بلکہ اسکرینوں پر لڑی جا رہی ہے۔ اگر ہم نے وہاں ایمان، اخلاق اور حیاء کا جھنڈا بلند نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں ایک عبرت ناک قوم کے طور پر یاد کریں گی۔ لیکن اگر ہم نے دل کے اندر کا چراغ دوبارہ جلا لیا، اگر ہم نے کلک کرنے سے پہلے ضمیر کو جگا لیا اور دیکھنے سے پہلے ایمان کو یاد کر لیا تو یہی قوم ایک نئی روشنی بن سکتی ہے۔ اللہ ہمیں وہ بصیرت اور حوصلہ دے کہ ہم آزاد بھی رہیں مگر حدود کے اندر، جدید بھی بنیں مگر اخلاق کے ساتھ اور ٹیکنالوجی کو شر نہیں بلکہ خیر کا ذریعہ بنائیں۔ آمین۔