Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

محمدﷺ کی غلامی کامیابی کی نشانی

(گزشتہ سےپیوستہ)
آنحضرت ﷺکی نبوت ورسالت اس لحاظ سے بھی تمام انبیا سے بلند تر ہے کہ باقی انبیا محض نبی ہیں جبکہ حضورﷺ خاتم النبیین ہیں،ہر نبی اپنے سے پیشرو پیغمبر کے لئے مصدق اور بعد میں آنے والے نبی کے لئے مبشر ہوتا تھا یعنی اپنے سے پہلے گزرنے والے نبی کی تصدیق کرتا تھا اور جس نبی نے بعد میں مبعوث ہونا ہوتا اس کی آمد کی بشارت دیتا لیکن آپﷺ کی ذات اقدس پر نبوت کا سلسلہ چونکہ ختم ہو چکا ہے اور آپﷺ کی نبوی تعلیمات قیامت تک کی انسانیت کے لئے باعث رشدو ہدایت ہیں، آپ ﷺ کی نبوت کے بعداب قیامت کا مرحلہ ہے،اس دوران مزید کسی نبی،وحی اور آسمانی کتاب کی نہ گنجائش ہے اور نہ اس کا قائل مسلمان ہے۔
قرآن کریم میں سابقہ انبیا کی بعثت کا تذکرہ کرتے ہوئے قری یعنی بستی کا ذکر کیا گیا ہے جو اس بات کی صریح اور بین دلیل ہے کہ ان سب کی نبوت،نبوت ِخاصہ تھی جومحدود زمان و مکاں پر تھی جبکہ آنحضرتﷺ کی نبوت،نبوتِ تامہ تھی جیساکہ ارشاد خداوندی ہے (اے پیغمبرﷺ)فرما دیجیے!میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوںآپﷺ کے وصف رسالت کا یہ عموم بھی آپﷺ کی تمام انبیا پر برتری اور سرداری کو ثابت کرتا ہے۔ نبی کریمﷺ کی زندگی میں جب عام الحزن یعنی غم کا سال آیاتو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے دل کے اطمینان اور تسلی کے لئے آپﷺ کوسفر معراج کروا کر اپنی ملاقات کے شرف سے مشرف فرمایا، اس سفر میں جب آپ ﷺکا پہلا پڑائو مسجد اقصی میں ہوا تواللہ رب العزت نے آپﷺ کے استقبال کے لئے تمام انبیا کرام کومسجد اقصیٰ میں جمع فرمایا،یہ اعزاز بھی حضور اقدس ﷺ کے حصے میں آیا کہ آپﷺ کے علاوہ کسی نبی کے لئے بغرض استقبال سب نبیوں کو جمع نہیں کیا گیا پھر اس سے بڑھ کر اس اعزاز سے نوازا گیا کہ جب تمام انبیا صف باندھے کھڑے تھے اور کسی امام کے انتظار میں متجسسانہ نگاہوں ادھ ادھر دیکھ رہے تھے تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے آکر آپﷺ کو مصلی امامت پر لا کھڑا کیااور یوں آپﷺ کو امام الانبیاﷺ کے عظیم منصب سے سرفراز کیا گیا۔یہ عظیم منصب بھی آپﷺ کو علو و مرتبت میں تمام انبیا سے ممتاز کرتا ہے۔حضور ﷺہی اس کے لئے عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز و محور ہیں اور ان ہی کے نام سے اس کی آبرو قائم ہے،ایک اور آیت میں حضور ﷺکی اتباع کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے اور رسول جو کچھ تمہیں دے دیا کریں،وہ لے لیا کرو اور جس سے وہ تمہیں روک دیں، رک جایا کرو، اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سزا دینے میں بڑا سخت ہے (سورہ الحشر:7 )
ایک دوسری آیت میں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے سر تسلیم خم کرنے کو مومنین کا شیوہ بتاتے ہوئے کہا گیاایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب وہ بلائے جاتے ہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف کہ(رسول)ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو وہ(ایمان والے)کہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا(سورہ النور:15) ایک اور جگہ وضاحت کردی ہے کہ اللہ اور رسولﷺ کے فیصلے اور حکم آنے کے بعد کسی مومن مرد، عورت کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اس کے برعکس من مانی کریں، ایسی صورت میں سوائے تعمیل حکم کے اس کے لئے کسی اور راہ کو اختیار کرنے کی گنجائش نہیں، ہر دور میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بدبخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شاتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے یہی وجہ ہے کہ عالم کفر ہمیشہ مسلمانوں کے دل سے رسول اللہﷺ کی محبت و عقیدت کو ختم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے،خاتم النبیینﷺ کی اطاعت ہی اسلام ہے، قرآن مجید میں اطاعت و اتباع کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی تعظیم، تکریم اور ادب کی بھی تاکید کی گئی ہے۔قرآن کریم میں تعظیم و ادب بجا لانے والوں کی تحسین کی گئی، انہیں اجر عظیم اور بخشش کی نوید سنائی گئی جبکہ اس کے بر عکس آداب و تعظیم سے غفلت برتنے والوں کو تنبیہ بھی کی گئی اور درد ناک عذاب کا انجام بھی سنایا گیا،آپ ﷺ کو ایذا پہنچانے والوں اور گستاخی کرنے والوں کے لئے سخت احکامات نازل ہوئے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام ؓکی زندگیاں عشق مصطفی اور ادب مصطفی سے عبارت ہیں، مثلاً آپﷺ کا خون مبارک زمین پہ نہ گرانا، وضو کا پانی نیچے نہ گرنے دینا بلکہ اسے اپنے اجسام پہ ملنا، موئے مبارک سنبھال کر رکھنا حتیٰ کہ آقا کریم ﷺ کے لعاب شریف سے شفا اور برکت حاصل کرنا اور اس کے علا وہ اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں صحابہ کرام ؓ کا عشق و محبت ملتی ہے،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولائے کریم ہمیں اپنے پیا رے آقاسید الکونین،امام الانبیاء،خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی اتباع و پیروی کر نے کی توفیق نصیب فرمائیں۔
آخر میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے کہ محمد ﷺ کی غلامی محض ایک عقیدے کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر طرزِ حیات ہے جو فرد کی سوچ، کردار اور عمل کو سنوار دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ سے وابستگی ایمان کی روح، دین کی اساس اور امتِ مسلمہ کی پہچان ہے۔ جس دل میں عشقِ رسول ﷺ جاگزیں ہو جائے، وہاں گمراہی، بے ادبی اور فکری انتشار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہی وہ تعلق ہے جو انسان کو خواہشاتِ نفس کی غلامی سے نکال کر ربِ کائنات کی رضا کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ ہر دور میں اہلِ ایمان کی ذمہ داری رہا ہے اور رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی کوشش کی گئی، امتِ مسلمہ نے اپنے ایمان، غیرت اور عشقِ رسول ﷺ کا عملی ثبوت پیش کیا۔ یہ تحفظ محض جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ پر عمل، اخلاقِ مصطفی ﷺ کو اپنانے اور آپ ﷺ کے احکامات کی مکمل پیروی سے ممکن ہے۔ درحقیقت رسول ﷺ کی عزت و عظمت کا سب سے مضبوط دفاع یہی ہے کہ ہم اپنی عملی زندگی کو سنت کے سانچے میں ڈھال دیں۔آج امتِ مسلمہ کو جن فکری، اخلاقی اور سماجی بحرانوں کا سامنا ہے، ان کا حل بھی اسی غلامیِ محمد ﷺ میں پوشیدہ ہے۔ جب فرد اپنی ذات میں نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو زندہ کرتا ہے تو گھر سنورتے ہیں، معاشرے میں عدل و رحم کو فروغ ملتا ہے اور امت میں وحدت پیدا ہوتی ہے۔ کامیابی کا وہی تصور دیرپا اور بامقصد ہے جو اطاعتِ رسول ﷺ کے ساتھ جڑا ہو، ورنہ دنیاوی ترقی بھی روحانی کھوکھلاپن کے سوا کچھ نہیں رہتی۔مزید یہ کہ ہمیں اس حقیقت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غلامیِ محمد ﷺ کا تقاضا صرف زبان سے محبت کے دعوے کرنا نہیں بلکہ اپنے کردار، معاملات اور رویوں میں اس محبت کا عملی اظہار کرنا ہے۔ جب ہمارا قول و فعل سیرتِ مصطفی ﷺ کے مطابق ہو جائے تو یہی طرزِ عمل سب سے مثر دعوتِ اسلام بن جاتا ہے۔ دشمنانِ دین کے اعتراضات اور گستاخانہ رویوں کا جواب بھی بلند اخلاق، صبر، حکمت اور عملی نمونہ بن کر دینا ہی نبی کریم ﷺ کی تعلیم ہے۔آج کے نوجوانوں کے لیے خصوصاً یہ پیغام نہایت اہم ہے کہ وہ اپنی شناخت کو غلامیِ رسول ﷺ سے وابستہ کریں۔

یہی شناخت انہیں فکری گمراہی، اخلاقی بے راہ روی اور تہذیبی غلامی سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اگر ہم اپنی نسلوں کو سیرتِ نبوی ﷺ سے جوڑ دیں، تو ایمان مضبوط ہوگا، کردار بلند ہوگا اور امت کا مستقبل روشن ہو جائے گا۔آخرکار یہ یقین ہمارے دلوں میں راسخ ہونا چاہیے کہ حضور اکرم ﷺ کی محبت، تعظیم اور اطاعت ہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سچی غلامی کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے دلوں میں اپنے محبوب ﷺ کی بے پناہ محبت پیدا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کے بارے میں ارشاد ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی اصل کامیابی ہے اور یہی مومن کی پہچان۔ہمیں اس حقیقت کو دل و جان سے تسلیم کرنا ہوگا کہ نجات، عزت اور سربلندی کا واحد راستہ حضور اکرم ﷺ کی بے لوث محبت، کامل اطاعت اور سچی غلامی ہے۔ یہی غلامی ہمیں دنیا میں باوقار زندگی اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عشقِ رسول ﷺ سے سرشار رکھے، ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے محبوب ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے والا سچا امتی بنائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین

یہ بھی پڑھیں