Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

تاریخ کی کروٹ،وقت کی کڑواہٹ

(گزشتہ سے پیوستہ)
انڈین فضائیہ کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے، جن کی خریدپراربوں کے سودے کئے گئے، پاکستانی میزائلوں کے سامنے عاجز نکلے۔تین طیاروں کی تباہی کی تصدیق رافیل کمپنی کے ترجمان نے کردی،مگر دہلی کے ایوانِ اقتدارمیں سکوت ایساچھایاجیسے آگرہ کالال قلعہ ماتم کررہاہو۔ ایئرمارشل اے کے بھارتی کایہ کہناکہ جنگ میں نقصان معمول کی بات ہے،دراصل اعترافِ شکست کاایسا پردہ ہے جوقوم پرستی کے دبیزہالے میں لپیٹ دیاگیا۔یہ بیان چیخ چیخ کرکہتاہے کہ تم نے زخم چھپانے کی کوشش کی،مگرخون رستا رہااوردنیا دیکھتی رہی۔
پاکستانی طیارے،جن کی پروازیں پاک سرزمین پرمحدودرہیں،مگرجن کے میزائلوں نے سرحد پار دشمن کونشانِ عبرت بنایا،صرف عسکری مہارت کامظہرنہیں تھے، بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ،پاک چین حکمت عملی کاغیرعلانیہ تجربہ تھا۔پاکستان کی فتح دراصل چین کی کامیاب عسکری مارکیٹنگ تھی۔اسی تجربے کے بعدچنگڈو ایئرکرافٹ کمپنی کے حصص میں40 فیصداضافہ محض اقتصادی اشاریہ نہیں،بلکہ اس بات کابین ثبوت ہے کہ اب معرکہ صرف بندوق اور بارودکانہیں،برانڈاوربیانیے کابھی ہے۔
یادرہے کہ جب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے خوداعتراف کیاکہ بڑی تعداد میں چینی فوجی ایکچوئل کنٹرول لائن پارکرکے انڈین حدود میں آگئے ہیںتویوں محسوس ہواجیسے ہندوستان کی جغرافیائی خودداری کوبرفانی بوٹوں تلے رونددیاگیاہو۔یہ صرف ایک سرحدی خلاف ورزی نہ تھی،بلکہ چینی خوداعتمادی کی فتح اورانڈین دعوں کی پسپائی تھی۔اس پوری پیش قدمی پر اگرکوئی چیز نمایاں نہیں تھی،تووہ انڈیاکاعسکری ردِعمل تھا۔زبانیں جو پاکستان کے خلاف دہکتی تھیں،وہ چین کے آگے سہم گئیں۔
اس سلسلے میں ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی،گویاایک ایسابادشاہ جسے دوشہزادوں کی لڑائی میں صلح کرانے کا شوق ہو،مگرچین نے اس پیشکش کویوں مستردکیاجیسے کوئی کہے ہم اپنے معاملات خودسلجھانے کے قابل ہیں،تم اپناراستہ لو۔یہ رداس بات کااعلان تھا کہ چین خودمختاربھی ہے،خودکفیل بھی اورخودمدبر بھی۔ یہی متانت،یہی خوداعتمادی اسے اس خطے کا بلاشرکتِ غیرے قوت بنانے جا رہی ہے۔
اب ضرورت اس امرکی ہے کہ چین کی اس خوداعتمادی سے پاکستان کے مقتدربھی سبق حاصل کریں۔ اپنے دل سے عالمی مالیاتی اداروں کا خوف دل سے نکال کرباہرپھینکیں جس طرح پاکستان نے پہلی مرتبہ امریکی اورمغربی اسلحہ سازکمپنیوں کے سفاکانہ روئیے کودیکھتے ہوئے اپنارخ مغرب سے مشرق کی طرف کیا جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ یزفائرکے چنددن بعدچین نے ایک نئی سفارتی اورنفسیاتی حکمتِ عملی اپنائی،جب انڈیا،پاکستان سے نمٹنے میں مصروف تھا،چین نے ایک خاموش مگرفکری حملہ کیا،اروناچل پردیش کے27مقامات کے نام چینی اورتبتی زبانوں میں تبدیل کردئیے۔ان میں پہاڑ، درے، ندیاں، جھیلیں،بستیاں اوررہائشی علاقے شامل ہیں۔یہ اقدام نہ صرف انڈیاکے جغرافیائی دعوں پرعلامتی ضرب تھابلکہ اس طرح بیجنگ نے دنیاکو ایک بارپھریہ پیغام دیاکہ نقشے صرف کاغذپرنہیں،حکمرانی کے ذہنوں میں بنتے ہیں۔اس عمل سے یہ ثابت ہواکہ چین اور پاکستان صرف علامتی طاقت نہیں بلکہ سافٹ پاورکے میدان میں بھی پوری قوت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔یہ ناموں کی تبدیلی فقط لسانی مشق نہیں،بلکہ تاریخی دعوے کا آہنی اظہارتھی،جواس وقت کی گئی جب انڈیاکی عسکری توجہ مغرب میں پاکستان پرمرکوزتھی۔یہ عمل گویاٹرائیکا (انڈیا، اسرائیل،امریکا)کویہ کہہ رہاتھاجب تم مشرق کی طرف دیکھو گے،تمہیں زمین پروہ نام دکھائی دیں گے جو تمہارے نہیںاورجب تم نقشہ کھولوگے، تمہارے لفظ تمہارے نہیں رہیں گے۔
نیپال،پاکستان اورچینیہ تینوں ممالک انڈیا کے تین جانب واقع ہیں،اورتینوں سے اس وقت تناؤکی کیفیت ہے۔مگرسوال یہ ہے کہ انڈیا تین طرفہ محاذ کھول کرکس خواب اور جغرافیائی خوش فہمی میں مبتلاہے؟ نیپال ایک چھوٹاساملک سہی،مگراس کی سفارتی خودداری نے انڈین پالیسی سازوں کے ہوش اڑادئیے۔پاکستان عسکری ونظریاتی لحاظ سے مضبوط تر ہوچکاہے،اورچین ایک عالمی طاقت ہے جومعاشی وعسکری ہرمیدان میں انڈیاکومات دے چکاہے۔یہ ایساہی ہے جیسے ایک مچھر،تین شیرکی کمین گاہوں میں جا گھسے اورسمجھے کہ بادل ہوں،برس کرنکل جاؤں گا۔بادی النظرمیں یہ جھڑپ انڈیااورپاکستان کے درمیان تھی،مگردرحقیقت یہ پاک چین کی سہ فریقی حکمتِ عملی کی کامیابی تھی۔عسکری سطح پرپاکستانی افواج کی میدانِ عمل میں خصوصیسٹریٹیجک کارکردگی میں چینی ہتھیاروں -10 جے،اور-17جے کی کامیاب آزمائش کی کامیاب جانچ اورعالمی مارکیٹ میں تشہیر،چینی ایوی ایشن کمپنی کے حصص میں غیرمعمولی ایوی ایشن کمپنی کے حصص میں غیرمعمولی اضافہ اوردوسراسفارتی سکوت میں نفسیاتی بالادستی پربھارت کودومحاذوں(پاکستان واروناچل) پرالجھاکر عالمی سطح پراس کی علاقائی طاقت کی تصویر کودھندلاکرنااورتیسرادنیاکویہ باور کرواناکہ پاکستان کے عملی مظاہرے کے بعدچین اب نہ صرف صنعتی طاقت ہے،بلکہ جنگی بیانیے کاقائدبھی بن گیاہے اوریقینا یہ ٹارگٹ دونوں ملکوں کے اشتراک سے حاصل ہواہے۔ یہ تمام پہلواس امرکاواضح اشارہ ہیں کہ چین نے ایک غیرعلانیہ جنگ پاکستان کے میدانِ جنگ میں کارکردگی کی بناپربغیرفائرنگ کیے جیتی ہے۔انڈیاکی خاموشی کوبعض حلقے حکمت کہتے ہیں، مگرتاریخ کہتی ہے کہ حکمت وہی جووقت پرہو،جوابی ہو،اورجیت پرمنتج ہو۔اگر دشمن تمھاری حدودمیں داخل ہوجائے،اورتم زبان سے بھی ردنہ کرسکو،تو یہ خاموشی نہیں،بزدلی ہے۔پاکستان کے خلاف ہرروز جنگی نغمے گانے والے ٹی وی چینلزاورجرنیل،چین کے خلاف گویاگنگامیں ڈبکی لگاکرپرہیزگارہوگئے ۔ یہ خاموشی بتارہی ہے کہ دشمن کوجانچنے کی نہیں، پہچاننے کی ضرورت ہے۔انڈیاکی سرحدی شجاعت کاچین کے آگے دم سادھ لیناخاموشی کاجغرافیہ نہیں بلکہ ہندوئوں کے مکار سیاسی گروچانکیہ کااصول ہے کہ طاقتورکوفوری خدامان کرسجدے میں پڑجاؤ،یہی وجہ ہے کہ دنیاکایہ واحد مذہب ہے جس کے خداں کی تعدادکروڑوں میں ہے جس میں چوہے اورسانپ بھی شامل ہیں اورجونہی اس کوکمزوردیکھوتواسی خداجس کے آگے سجدہ ریز ہوتے رہے ہو،انہیں ٹھوکروں کی زدمیں لاتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں ایک لمحہ تاخیرنہ کرو۔یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیامیں خودمودی کواسلحے کے ڈھیرکے سامنے خاص قسم کی پوجااورسجدوں کی تصاویرعام بھی ہوئیں اوررافیل طیاروں کی حفاظت کے لئے پوجاکے طورپرانڈیاکا وزیردفاع ان جہازوں کے ٹائروں کے نیچے انڈے اوردیگراشیا رکھ کرعبادت کرتا رہااورعالمی میڈیا اب ایک مرتبہ پھران جاہلانہ رسوم کواپنے ناظرین کودکھارہاہے۔یہ صرف انڈیاکامسئلہ نہیں،ہراس قوم کاہے جہاں میڈیامصلحت کا، سیاسی نعرے کا،اورعوام خاموشی کاشکارہو۔ پاکستان اورچین کی برف پوش وادیوں میں توپیں شایدنہ بولیں،مگرتاریخ اورسچائی برف میں بھی بولتی ہے اوروہ تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ تم وہ ہوجوکمزور کے خلاف بپھرے،اور طاقتور کے سامنے سہم گئے ۔تم وہ ہوجوجغرافیے پردعوی تورکھتے ہومگرجغرافیائی حکمت سے نابلدہو۔تم وہ ہوجوچین کوچیلنج نہیں، خاموشی میں سلام کرتے ہواورپاکستان کوکھلے عام دھمکیاں دے کراپنے اقتدارکادوام چاہتے ہو۔ انڈیاکاپاکستان کے خلاف عسکری جوش خطے میں عدم استحکام کاباعث ہے،جبکہ چین کے سامنے اس کی خاموشی دوعملی سیاست اورنعرہ فروش عسکریت کی عکاس ہے۔ان حالات میں برصغیر میں توازنِ طاقت تیزی سے مشرق کی طرف جھک رہاہے اورپاک چین دوستی وہ آفتاب بن رہاہے،جس کی روشنی نہ صرف مشرق بلکہ جنوب ایشیاکی تاریخ کوبھی نئے سانچے میں منوراورڈھال رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں