(گزشتہ سے پیوستہ)
نئی نسل کے بدلتے مزاج نے انڈین لہرکے خلاف انتخابات کے ذریعے اقوام عالم کواضح پیغام دینے کافیصلہ کررکھاہے۔بنگلہ دیش کی نئی نسل 1971 ء کے جذبات سے آزاد،خود آگاہ،سوشل میڈیا کے وسیع کینوس پرپلی ہوئی۔جب ان سے کہا جاتاہے،تم ہمارے مرہونِ منت ہوتو وہ جواب دیتی ہے،ہم آزادہیںکسی کے مرہونِ منت نہیں۔یہی وہ لہرہے جس نے انڈیا کیلئے مشکلات بڑھائیں اور بنگلہ دیش کی سیاست کارخ بدلا۔انڈیانے یہ سمجھنے میں دیرکی کہ بنگلہ دیش میں طلبہ ونگ ہی اصل سیاسی لیبارٹری ہے،نوجوان ہی کل کی قیادت ہوتی ہے۔ جب طلبہ کونظر اندازکیاگیاتوبے اعتمادی کے بیج بودیے گئے۔وہی بیج آج تناوردرخت بن چکے ہیں۔کیاعجب منظرہے کہ جونہی وقت نے رخ بدلا، دہلی کواب بی این پی قابلِ قبول لگ رہی ہے، خالدہ ضیاکے ساتھ خیرسگالی پیغام اسی حکمت کا حصہ تھا مگر تاریخ کی جبر دیکھیے، خالدہ ضیا رخصت ہو چکیں، اب قیادت طارق کے ہاتھ میں ہے۔ انڈیا اب تعلقات کی نئی بنیاد تلاش کر رہا ہے مگر دیر ہو چکی ہے اور فضا پہلے جیسی سازگار نہیں رہی۔
حسینہ واجد انڈیا میں پناہ گزیں، سزائے موت کی سزا یافتہ، جماعتوں کے دبا میں ان کے بیانات، قوم کے زخموں کو تازہ بھی کر سکتے ہیں اور مستقبل کے تعلقات کو مشکل بھی، انڈیا کیلئے سبق یہی ہے، بیانات کا بازار بھی سفارت کا میدان ہے، یہاں نادان لفظ بھی حادثہ بن جاتا ہے۔شیخ حسینہ کے جاری بیان بازی کی تلوار اور خطرناک دھار بھی انڈین مخالفت میں اضافہ کر رہی ہے۔
پچاس برس بعد پاک بنگلہ دیش کے تجارتی روابط، عسکری تعاون، تہذیبی و مذہبی رشتوں کا احیا دوبارہ منظر پر آ رہا ہے ۔یہ قربت اگر تدبر سے آگے بڑھی تو خطے کا توازن بدل سکتا ہے۔ انڈیا کی اجارہ داری چیلنج ہو سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ قربت روز بروز بڑھ رہی ہے۔بڑی تعداد میں وہ عناصر بھی ابھر رہے ہیں جو پاک بنگلہ مضبوط عسکری، معاشی تعلقات کے حامی ہیں۔ یہ عمل قدرتی ہے کیونکہ زبانوں کا رشتہ، تہذیب کا رشتہ، عقیدہ و تاریخ کا رشتہ،ان رشتوں کی خوشبو دیر تک باقی رہتی ہے۔ حالات نے بی این پی کو سیاسی مرکز، سفارتی محور، انتخابی قوت بنا کر کھڑا کر دیا ہے۔ انڈیا اب اس کے ساتھ مفاہمت کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے مگر دیر ہو چکی ہے، لہجے بدل چکے ، فضا تبدیل ہو چکی ہے۔خالدہ ضیا کی رحلت نے سیاست میں جذباتی باب بھی شامل کر دیا ہے اور اب قیادت طارق کے ہاتھ میں ہے۔
انتخابات سے پہلے پرتشدد واقعات، انڈیا مخالف مظاہرے، ایک دوسرے پر مداخلت کے الزامات، ایسے ماحول میں انڈیا خود ایک انتخابی نعرہ بن چکاہے اورشایددہلی کی پالیسیوں نے یہ نعرہ خودجنم دیاہے اورانڈین پالیسی کایہ خمیازہ بھی انڈیاکو مہنگاپڑرہاہے۔
اب اصل سوال، پاکستان کیا کرے؟ اگرتاریخ سے سبق لیاجائے توجواب یہ ہے کہ شعلوں پرتیل نہیں،زخموں پرمرہم رکھے، اتحادِ امت کاچراغ روشن کرے۔ پاکستان کیلئے مناسب اقدامات تیزترین اورمضبوط سفارتی تعاون، تجارتی راہداریوں کی بحالی،تعلیمی وثقافتی تبادلے ، دفاعی رابطوں کا وقارمگراحتیاط کے ساتھ باہمی احترام پرمبنی خارجہ پالیسی،غیرضروری بیان بازی سے اجتناب اورسب سے بڑھ کرباہم خیرخواہی کی فضاقائم کی جائے نہ کہ محاذ آرائی کی سیاست۔ پاکستان کیلئے درست راستہ یہ ہے کہ وہ محاذ آرائی کی بجائے دانشمندانہ مفاہمت کاراستہ اپنائے۔دہلی مخالف اشتعال سے گریزکرتے ہوئے انڈین پروپیگنڈہ کافوری مدلل جواب،سوشل میڈیاپر انتہائی تجربہ کار افرادکے توسط سے کئی عالمی زبانوں میں موثر جوابات،جس کی اشاعت اقوام عالم تک ہو۔ ڈھاکہ کے ساتھ وقارپرمبنی تعلقات، اقتصادی تعاون اولین ترجیح، تعلیمی وثقافتی تبادلے،دفاعی تعاون مگرشائستگی کے ساتھ،سیاست کے ساتھ ساتھ تہذیب کوبھی بولناچاہیے کیونکہ تہذیب کے مکالمے کی عمرسیاست سے زیادہ ہوتی ہے۔
موجودہ مقتدراداروں کیلئے عملی سفارشات اور تجاویزتحریرکرنے کامقصدیہ ہے کہ جس طرح انڈیااپنے سوشل میڈیاکے ذریعے ہرروز پاکستان کے خلاف آگ اگل رہاہے،اس کے تدارک کیلئے ہمیں ان اقدامت کی اشدضرورت ہے۔غیراعلانیہ مداخلت سے اجتناب،علاقائی تعاون کی تنظیموں کوفعال کرنا،میڈیامیں ذمہ دارانہ بیانیہ فروغ دینا،طلبہ ونوجوان قیادت سے روابط، اقتصادی اشتراک کواولین ترجیح، انڈیامخالف جذبات کوبھڑکانے نہیں،سنبھالنے کی حکمت، اسلامی اخوت کوسیاسی ہتھیارنہیں،تہذیبی رشتہ سمجھا جائے۔دانش مندانہ سفارت کاری، غیر اعلانیہ مداخلت سے احتراز،مشترکہ اقتصادی کمیشن کی تشکیل،نوجوان قیادت سے روابط، میڈیا بیانیہ میں ذمہ داری،اوآئی سی اورسارک پلیٹ فارم کافعال استعمال اوراسٹیبلشمنٹ سول ہم آہنگی میں اضافہ کامکمل پلان تیارکرکے میدانِ عمل میں اترے کہ اب وقت بہت کم ہے۔
مستقبل کے انتخابی منظرنامہ پرممکنہ صورتحال پر نظردوڑاتے ہوئے یہ کہناازحدضروری ہے کہ اگربی این پی واضح اکثریت لے آئے ،دہلی محتاط اور خطے میں نئی صف بندی پر مجبورہو گا، بظاہرانڈیامحتاط مفاہمت اپنائے گالیکن خطے میں نئی صف بندی کیلئے یقینابنگلہ دیش میں سیاسی ابتری اورانارکی پھیلانے کیلئے اپنی خفیہ کاروائیاں جاری رکھے گا،اگرمخلوط حکومت حکومت بنتی ہے توپالیسیوں میں توازن لانے کیلئے اپنے حامی گروپوں سے پاک بنگلہ تعلقات میں رخنہ ڈالنے کیلئے دباؤبڑھانے کی کوششیں کرے گااوراگر کشمکش بڑھی تومعیشت وامن دونوں متاثرہوں گے اورانڈیایقینااس کا فائدہ اٹھانے کی بھرپورکوشش کرے گااوریہی اس کامطمع نظرہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی افراتفری، تشدداورانارکی قائم رہے۔سب سے روشن امکان یہ ہے کہ بنگلہ دیش ایک نئے سماجی معاہدے کی طرف بڑھ رہاہے جہاں نئی نسل فیصلہ کرے گی کہ اسے کس کے ساتھ کھڑا ہوناہے اورسب سے زیادہ امکان یہی ہے کہ نئی نسل اپنی سمت خودمتعین کرے گی اورتاریخ کاپہیہ نئے راستے پرچل پڑے گا۔
آج بنگلہ دیش باہمی تعلقات میں پاکستان کے ساتھ اپنی محبت،عسکری وتجارتی رشتوں کو ایک نئے باب میں ڈالنے جارہاہے۔اس سیاسی منظرنامے میں،پاکستان کوچاہیے کہ وہ دونوں مسلم ریاستوں کے درمیان تاریخی وتہذیبی سنگِ میل کوتقویت دے،انڈیاکی سیاسی سازشوں ومداخلتوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمتِ عملی طے کرے، اورایک مضبوط سول و عسکری ہم آہنگی قائم کرے جوعلاقائی سلامتی و ترقی کوفروغ دے۔ یہ وہ وقت ہے جب سیاسی استقلال،خارجہ حکمت عملی، اورکثیرقطبی تعاون کے اصولوں کوایک عہدِنوکے طورپر اپنانے کی ضرورت ہے ورنہ وہ قوتیں جوخودغرضی وطمع کی راہوں پرگامزن ہیں،اس خطے کے امن کوپیچ وخم میں جھونک سکتی ہیں۔
(جاری ہے)