Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

جب دعائیں قبول ہونے لگیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
آج بنگلہ دیش باہمی تعلقات میں پاکستان کے ساتھ اپنی محبت،عسکری وتجارتی رشتوں کو ایک نئے باب میں ڈالنے جارہاہے۔اس سیاسی منظرنامے میں،پاکستان کوچاہیے کہ وہ دونوں مسلم ریاستوں کے درمیان تاریخی وتہذیبی سنگِ میل کوتقویت دے،انڈیاکی سیاسی سازشوں ومداخلتوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمتِ عملی طے کرے، اورایک مضبوط سول و عسکری ہم آہنگی قائم کرے جوعلاقائی سلامتی و ترقی کوفروغ دے۔ یہ وہ وقت ہے جب سیاسی استقلال،خارجہ حکمت عملی، اور کثیرقطبی تعاون کے اصولوں کوایک عہدِنوکے طورپر اپنانے کی ضرورت ہے ورنہ وہ قوتیں جوخودغرضی وطمع کی راہوں پرگامزن ہیں،اس خطے کے امن کوپیچ وخم میں جھونک سکتی ہیں۔
یہ رپورٹ تاریخ کے دریا میں پڑی ہوئی ایک نئی لہرہے جوتاریخ وسیاست کے دھاروں کو ایک فکری توازن میں ڈالنے کی اہم کوشش ہے۔ طارق رحمن کی واپسی،بنگلہ دیش کے سیاسی موسم کی گردش،انڈیاکی مخمصہ زدہ پالیسی، اور پاک-بنگلہ تعلقات سب ایک ایسی فکرانگیزلڑی میں بندھے ہوئے ہیں جونہ صرف ماضی کی بازگشت ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بصیرت کامنبع بھی بن سکتی ہیں۔ اسی تناظرمیں یہ رپورٹ ایک ادبی، تاریخی، تہذیبی اورسیاسی تنزیل ہے جس کے اندر حقائق اورتشریحات ایک فلسفیانہ،تحقیقی،اور معنوی ہم آہنگی میں پروئے گئے ہیں تاکہ ترجمانی محض لفظی نہ رہے بلکہ ایک نیاادبی تاثروسیاسی ادراک پیداہو۔
یہ کہانی محض اقتدارکی کشمکش نہیں،یہ شعورِ سیاست کی بیداری ہے۔اس میں طاقت کا کھیل بھی ہے،تہذیب کادردبھی اورملت کی امید بھی۔ یاد رکھیں قومیں جب اپنی تقدیرکے چراغ خودجلانا سیکھ لیں توپھرتاریخ ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی،رہنمابنتی ہے۔قومیں جب ماضی سے سبق، حال سے آگہی،اورمستقبل سے امید جوڑ لیں تو پھر زمانہ ان کاہوجاتاہے۔موجودہ صورتِ حال اس حقیقت کی حامل ہے کہ بنگلہ دیش کے انتخابات اورسیاسی تبدیلیاں صرف ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں رہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیاکے سیاسی توازن پراثراندازہوں گی۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں قربت،اقتصادی تعاون اور عوامی سطح پردوستی کے جذبات نے ایک نئے سفارتی مرحلے کی بنیادرکھ دی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تاریخی،مذہبی اورتہذیبی رشتوں نے اس تعلق کومزیدمضبوط بنانے کیلئے سازگارماحول فراہم کیاہے۔ریاستی سطح پر دانشمندانہ فیصلے، سفارتی سطح پرمتوازن حکمتِ عملی،اورعوامی سطح پرخیرسگالی کے جذبات ،یہ تین عناصرآئندہ برسوں میں پاک بنگلہ تعلقات کی سمت متعین کریں گے۔ اگر دونوں ممالک نے ذمہ داری اوردوراندیشی کا مظاہرہ کیاتوخطے میں تعاون، تجارت،سلامتی اور ترقی کیلئے وسیع امکانات پیداہو سکتے ہیں۔
آخرمیں بات پھروہیں آکررکتی ہے جہاں سے سفرشروع ہواتھا۔یہ داستان اپنے اس موڑ پر آٹھہرتی ہے جہاں عقل کے حساب کتاب سے زیادہ دلوں کے رشتے اوردلوں کی دھڑکنیں بولتی ہیں۔ پاکستان اوربنگلہ دیش کی تہذیبی اورروحانی قربت کوئی وقتی کیفیت نہیں،یہ تاریخ کی گہرائیوں میں اترا ہواسچ ہے۔جدائی کے باوجود نہ ہماراایمان بدلا، نہ ہماری دعائیں ایک دوسرے کیلئے کم ہوئیں ۔ دونوں ملکوں کے عوام نے دکھ بھی دیکھے، محرومیاں بھی جھیلیں،مگردل کے ایک گوشے میں ہمیشہ یہ احساس زندہ رکھاکہ ہم ایک دوسرے کے اپنے ہیں۔پاکستان اوربنگلہ دیش کے درمیان جورشتہ ہے وہ نہ ماضی کی خطاں سے ٹوٹا،نہ سیاست کی کشاکش سے بکھراوہ رشتہ ایمان، تہذیب، مشترکہ آنسوئوں اورسانجھی دعاؤں کا ہے۔ہم جدا ضرور ہوئے،مگر اجنبی کبھی نہیں بن سکے۔وقت نے گواہی دی کہ دل اپنوں کوپہچان لیتے ہیں، چاہے ان کے درمیان کتنی ہی سرحدیں حائل کیوں نہ کردی جائیں۔
آج جب بنگلہ دیش کے سیاسی افق پرنئی تبدیلی کے نمایاں آثاراور روشنیاں پھوٹ رہی ہیں۔ پاکستان کے قلوب میں محبت اورخیرسگالی کے چراغ پھرسے جل رہے ہیں توایسالگتا ہے کہ تاریخ کی کڑی دھوپ کے بعدکسی نے آہستہ سے چھاؤں ڈال دی ہو۔ماضی کی تلخیاں اب سبق بنتی جارہی ہیں،دشمنی کے سائے سمٹتے محسوس ہوتے ہیں اور بھائی چارے کی نرم سی ہوادلوں کو چھوکر گزر رہی ہے۔خطہ نئے انتخابی و سفارتی منظرنامے کی طرف بڑھ رہاہے،تواس کے ساتھ ساتھ ایک اور خوش آئندحقیقت بھی ابھررہی ہے،پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں گرمجوشی کانیا باب رقم ہونے جارہاہے۔
دونوں طرف کے عوام کے اندریہ خواہش پھرسے جاگ اٹھی ہے کہ ہم فاصلے کم کریں، گلے شکوے پیچھے رکھیں،اورمحبت وتعاون کے سفرکو آگے بڑھائیں۔یہ وہ جذبہ ہے جوریاستی پالیسیوں سے زیادہ مضبوط ہوتاہے،کیونکہ یہ قوموں کے دلوں میں جنم لیتاہے اور وہیں پروان چڑھتاہے۔اگردونوں قومیں تدبر،اخلاص اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھیں تو نہ صرف غلط فہمیاں دورہوں گی بلکہ جنوبی ایشیامیں امن، تجارت، سیاست اورتہذیبی ہم آہنگی کاایک نیادور شروع ہوسکتاہے۔آنے والازمانہ ان کیلئے نئی محبتوں،نئے معاہدوں اور نئی کامیابیوں کی بشارت دے سکتاہے۔شایدوہ وقت دورنہیں جب بنگلہ دیش اورپاکستان کے عوام پھرپورے یقین سے یہ کہہ سکیں گے:ہم جدانہیںصرف آزمائے گئے تھے۔
یہ وقت تلخ یادوں کوبھلاکرمشترکہ مستقبل کی بنیادرکھنے کاہے ایسامستقبل جس میں دشمنی کی دیواریں نہیں،اعتمادکے پل ہوں؛جس میں نفرت کے نعرے نہیں،اخوت کی صدا،اور عوام کی دعائیں صرف یہ کہتی سنائی دیں:ہم ایک تھے،ایک ہیں،اور بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔
یہی وہ جذبہ ہے جوجدائی کے باوجودزندہ رہااورجوآج ایک بارپھردونوں ملکوں کوقریب لانے کاذریعہ بن رہاہے۔دوستی کے ایک نئے عہد نامے کی تمہیدہے۔تاریخ پلٹ رہی ہے، دعائیں قبول ہورہی ہیں،اور دل ایک دوسرے کی طرف پھرسے رواں دواں ہیں۔یہ مضمون اسی آرزو،اسی خواب اوراسی دعاکاتحریری اظہارہے۔تاریخ کے دریانے ایک بار ہمیں جداکر دیاتھا،مگراب لگاہے کہ موجیں پلٹ رہی ہیں۔شایدوہ وقت زیادہ دورنہیں جب دونوں قومیں پھرسے قریب آکریہ کہہ سکیں گی کہ فاصلے صرف نقشوں میں تھے،دل تو کبھی جدانہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں