تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی،تاریخ ہر لمحے قلم کی زبان میں لکھتی ہے،اوروقت کے مقررہ لمحے پراس کے فیصلے سامنے آتے ہیں۔ آج دنیاایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں طاقت کے دعوے، نظریات کے جال اورعلاقائی مفادات نے عالمی امن وسلامتی کے توازن کو جھنجھوڑکررکھ دیا ہے۔ تاریخ بارباریہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے گھوڑے جوسرحدوں سے باہر دوڑتے ہیں، اکثر اندرونی دیواروں کے رخنے سے شکست کھاجاتے ہیں۔کوئی قوم یاریاست،چاہے کتنی بھی مضبوط نظرآئے ، جب تک داخلی یکجہتی اورمضبوط قیادت نہ رکھے،اس کی بنیادیں لرزاں رہتی ہیں۔
تاریخ کبھی بہری نہیں رہتی؛ہرلمحہ اس کی قلم کاری کی گونج سنتے ہوئے انسانی اعمال کے فیصلے سامنے آتے ہیں۔ہرقوم کی عظمت یا زوال کی کہانی صفحاتِ تاریخ میں محفوظ ہے،اور عالمی طاقتوں کی حرکات وسکنات ہمیشہ ایک سبق کے طورپرباقی رہتی ہیں۔تاریخ کے طویل وپیچیدہ کارواں میں بعض ایسے موڑآتے ہیں جہاں کمزورسمجھی جانے والی اقوام بھی قوت وجرأت کی ایسی داستان رقم کر جاتی ہیں کہ سپر پاورزکی پیشانی پرشکن اور دلوں میں اضطراب پیداہوجاتاہے۔
یہ بھی یادرہے کہ تاریخ کبھی خالی ہاتھ بھی نہیں رہتی،اورنہ ہی طاقت کے مراکزاپنی ہرحرکت کاحساب چھپاتے ہیں۔ ہر اقدام، ہر فیصلہ، اور ہرمحاذ کی کہانی قلم کی زبانی محفوظ رہتی ہے۔ برصغیر کے اس خطے میں قائم پاکستان نے نہ صرف اپنی خودمختاری کی حفاظت کی بلکہ عالمی طاقتوں کیلئے ایک ایساسبق قائم کیاجسے صرف علم وحکمت کے ترازومیں ناپاجا سکتاہے ۔ طاقت محض عسکری یا جسمانی نہیں بلکہ ایمان،حکمت اورعقل کے ساتھ مربوط ہوتی ہے۔یہی سبق نائن الیون کیواقعہ کے بعدپاکستان نے تاریخ میں رقم کیاکہ آج خودمغرب اور امریکی دفاعی وسیاسی تجزیہ نگار بھی پاکستان کی اس حکمت عملی پرانگشت بدنداں ہیں۔
برصغیرکے اس خطے میں قائم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ بھی کچھ ایسی ہی داستانِ عزیمت سے عبارت ہے۔یہ وہ ملک ہے جس نے محض وسائل کی کمی کے باوجود،عزم وارادہ اورحکمت وتدبر کے ہتھیارسے دنیاکی عظیم طاقتوں کے حسابِ سودوزیاں میں ہلچل پیدا کردی۔ پاکستان کی تاریخ کایہ باب خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس نے نہ صرف اپنی خود مختاری کی حفاظت کی بلکہ عالمی طاقتوں کوایسے سبق سکھائے جوتاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے رقم ہوں گے۔افغانستان کی جنگ،ایٹمی دھماکے،اسامہ بن لادن کا معاملہ ، شمالی کوریاکے میزائل،اورایبٹ آباد میں سٹیلتھ ہیلی کاپٹرکاواقعہ،یہ سب ایسے مواقع ہیں جہاں پاکستان نے عالمی طاقتوں کے دبائوکوناکام بنایااور قومی مفادکومقدم رکھا۔
یہ رپورٹ ان حکمت عملیوں،سیاسی تدابیر اورعسکری واقتصادی فیصلوں کامفصل تجزیہ ہے جس نے پاکستان کوخطے میں ایک مستحکم اورمحفوظ ایٹمی طاقت کے طورپرقائم رکھا۔یہ بات تاریخ کے اوراق میں کسی مبالغے کے بغیردرج کی جا سکتی ہے کہ جس قدراسٹریٹجک اورنفسیاتی نقصان پاکستان نے امریکا جیسی متکبرطاقت کوپہنچایا،اس کی مثال کسی اورریاست کے ہاں مشکل ہی سے ملتی ہے۔ پاکستان نے اس لحاظ سے تاریخ رقم کی کہ پاکستان نے دنیاکی کسی بھی ریاست کے برعکس امریکاکووہ نقصان پہنچایاجس کاتصوربھی مشکل تھابلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگاکہ جس قدرنقصان سپرپاور امریکا کو پہنچایا،وہ کسی اورریاست کے بس کی بات نہیں۔کہیں وہ میدانِ سیاست میں مہرہ بنا،کہیں معمہ‘کہیں اتحادی کہلاکربھی امتحان بنارہا۔
سردجنگ کے بعدامریکاعالمی سیاست میں بالادستی کادعویدارتھا،مگرپاکستان نے افغانستان میں گڈاوربیڈ طالبان کے کھیل سے امریکاکی منصوبہ بندی کوناکام بنایا۔کھربوں ڈالر امریکی خزانے سے خرچ ہوئے،مگر نتائج صرف پاکستان کے حق میں گئے۔یہ اسٹیبلشمنٹ کی مہارت کامنہ بولتاثبوت ہے کہ وہ چھوٹے مگرعسکری دانشمندانہ اقدامات سے عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کوکس طرح ناکام کر سکتے ہیں۔تاریخ کاآئینہ جب ہم پرپڑتا ہے،توایک حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ طاقت کے بلندمیناربھی ایک عاقل دشمن کی حکمت عملی کے سامنے لرزسکتے ہیں۔پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ کسی بھی عالمی سپرپاورکوصرف طاقت اوروسائل کے ذریعے شکست دیناممکن نہیں،بلکہ عقل،حکمت اورداخلی استحکام کی ضرورت ہے ۔
1979ء سے شروع ہونے والی سردجنگ کی کشمکش میں امریکانے پاکستان کوافغانستان میں ایک اہم کھلاڑی کے طورپراستعمال کیا۔ امریکا کا مقصد محض صرف سوویت یونین کے مقابلہ کیلئے پاکستان کواستعمال کرنانہیں تھا بلکہ اس خطے کی معدنیات اور پٹرول پر اپنا تسلط قائم کرنا مقصود تھامگرپاکستان نے اس جنگ میں امریکی دھمکی کے بعد شمولیت تواختیارکر لی مگرامریکی منصوبہ بندی کو اپنے قومی مفادکے مطابق موڑدیا۔طالبان کے دو دھڑے ’’گڈطالبان اوربیڈطالبان‘‘کے کھیل میں پاکستان نے امریکی منصوبوں کو الجھا کر کھربوں ڈالرامریکی خزانے سے ضائع کر دیے۔ گویاامریکاکی طاقت کا کمرہ سیاست ایک خالی کمرے میں گونجتارہا،اورپاکستان نے ہرکمرے کی دیوارپراپنے نقوش ثبت کردیے۔
امریکا کی طاقت کے بلندمینارکے سائے میں پاکستان کی حکمت عملی نے خاموشی سے اپنی بنیادیں مضبوط کیں،اورہرقدم پرامریکی منصوبوں کی دیواریں کھچکیاں کھاتی رہیں۔ امریکی عوام اور کانگریس میں حیرت واضطراب پیداہواکہ اتنے بڑے وسائل کے باوجودکامیابی حاصل کیوں نہیں ہورہی۔عالمی تجزیہ نگاروں نے پاکستان کی حکمت عملی کو ’’اسٹیلتھ سٹرٹیجی‘‘قراردیا،یعنی ایسی حکمت عملی جونظرنہ آئے مگراثرڈالے۔
پاکستان نے’’گڈطالبان اوربیڈ طالبان‘‘ کی امریکی سازش کے اس کھیل کواپنے قومی مفادکے مطابق موڑدیا۔گویاامریکی منصوبہ خودان کے گلے پڑگیااورپاکستان نے امریکاکو افغانستان میںــگڈ طالبان،بیڈطالبان‘‘کے کھیل میں الجھا کر اربوں ڈالرخرچ کروائے اورعالمی مقروض بنادیا۔ پاکستان کی اس حکمت عملی نے نہ صرف امریکا کو ناکام بنایابلکہ اس کے خزانے سے کھربوں ڈالر خرچ کروادیے،جس سے عالمی مالیاتی توازن بھی متاثرہوا۔
چین نے امریکی بانڈز خریدکر امریکا کو مزید اقتصادی طورپرکمزورکیامگراس کارنامے میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کاکردارسب سے اہم رہا۔ عالمی میڈیانے پاکستان کی حکمت عملی کو ’’شطرنج کااستاد‘‘قراردیا۔امریکی تجزیہ نگارحیران تھے کہ اتنے بڑے وسائل کے باوجود افغانستان میں کامیابی کیوں حاصل نہیں ہورہی۔گویاایک تجربہ کارشاگردنے استادکے کھیل میں چھپی چالوں کو سمجھ کرمات دے دی۔ پاکستان کی خاموش حکمت نے امریکی منصوبوں کوالجھادیااورعالمی منظرنامے پرگہراناقابل تلافی اثرچھوڑا۔
چین نے اگراربوں ڈالرکے امریکی بانڈز خرید کراسے اپنامقروض بنایاتواس داستان کاایک باب پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بھی لکھا گیا۔یہ بھی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے طویل مدتی کھیل کی کامیابی تھی۔دودہائیوں تک افغانستان کے دشت وکوہ میں گڈطالبان اور بیڈطالبان کی شطرنج نے امریکاکو اس قدرالجھائے رکھاکہ اس کی جھولی سے خزاں کی برگِ گل کی طرح کھربوں ڈالر جھڑگئے۔پاکستان نے دو دہائیوں تک امریکا کو افغانستان میں الجھایا اورمعاشی بوجھ ڈالا۔امریکا قرض لیتارہا،چین اس کافائدہ اٹھاتا رہا، اور پاکستان نے اپنے قومی مفاداورملک سلامتی کیلئے اس کھیل کوبخوبی کھیلا۔پاکستان نے ایک قومی حکمت عملی کے تحت سب سے بڑامالی اورسیاسی فائدہ حاصل کیا۔لیکن دوسری طرف نتیجہ یہ نکلا کہ طاقت کا ترازو ایک روزاچانک پلٹ گیا۔ گویا امریکاایک میدان میں خالی ہاتھ کھیلنے آیا، مگر پاکستان کی عمدہ تدابیرنے ہرقدم پرایساالجھایاکہ چین کی سرمایہ کاری نے امریکی طاقت کے پاؤں تلے زمین کھینچ دی۔
امریکی عوام اورکانگریس میں یہ بات زیر بحث رہی کہ پاکستان اورچین نے امریکاکے عالمی منصوبوں پرکس حدتک اثرڈالا۔عالمی تجزیہ نگاروں نے کہا ’’پاکستان نے نہ صرف اپنی پوزیشن مضبوط کی بلکہ چین کے ذریعے امریکاکومقروض کرکے عالمی طاقت کے توازن کوبدل دیا۔چین نے امریکی بانڈز میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کی، جس سے امریکا کی مالی آزادی محدودہوگئی‘‘۔جیسے شیخ سعدی کے مطابق کارداناکوبادشاہ بھی اپنا فرمانبردار مانے، مگر کھیل عقل وحکمت سے ہی جیتاجاسکتاہے۔
جب امریکاکوہوش آیاتواقتصادی منظرنامہ بدل چکا تھا۔وہ قرض خواہ نہیں،مقروض بن چکاتھا، اورچین بالفعل ایک اقتصادی سپرپاورکے طورپر افق پرابھرآیاتھا۔اسی اثنامیں جنوبی ایشیا میں ایک اورباب رقم ہوا،بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے،اور پاکستان نے پوری جرأت اور خوداعتمادی سے جواب دیا۔تمام ترعالمی دباؤکے باوجود،طاقت کے تمام حربے آزما لیے گئے،مگرپاکستان نے اپناراستہ خودمتعین کیا۔ (جاری ہے)