جب تاریخ اپنے سخت ترین سوال پوچھتی ہے تو وہ کسی عدالت، کسی اسمبلی یا کسی ٹی وی ٹاک شو میں نہیں پوچھے جاتے، وہ سڑکوں، بازاروں اور ضمیر کے دروازوں پر دستک دیتے ہیں۔ آج ایسا ہی ایک سوال آزاد کشمیر اور اسلام آباد کے در و دیوار سے ٹکرا رہا ہے، مگر جواب میں صرف ایک چیز سنائی دیتی ہے: خاموشی۔کشمیر کی بیٹی آسیہ اندرابی کو سزا سنا دی گئی ہے۔ یہ سزا محض ایک فرد کے خلاف نہیں، یہ ایک نظریے، ایک مزاحمت، اور ایک ایسی آواز کے خلاف ہے جو برسوں سے دہلی کے ایوانوں میں گونجتی رہی۔ خدا نخواستہ اگر یہ سزا عمر قید یا موت تک جاتی ہے تو یہ صرف ایک عورت کی زندگی کا معاملہ نہیں رہے گا، یہ پوری کشمیری جدوجہد کے منہ پر طمانچہ ہوگا۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر!جو خود کو آزاد کہلاتا ہے,اس پر مکمل خاموش ہے۔یہ وہی آزاد کشمیر ہے جو بجلی کے چند یونٹ کم ہوں تو پورا خطہ جام کر دیتا ہے۔ آٹا مہنگا ہو جائے تو سڑکیں بند، بازار سیل، ٹائر جلتے ہیں، نعرے گونجتے ہیں، دھرنے سجتے ہیں، حکومتیں ہل جاتی ہیں۔ یہ سب حق ہے، عوامی حق۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کشمیری ہونے کا حق صرف بجلی اور آٹے تک محدود ہے؟ کیا غیرت کا پیمانہ صرف بلوں اور راشن کی قیمت سے ناپا جائے گا؟
دہلی کی ایک بدنام زمانہ ایجنسی این آئی اے کی عدالت کی جانب سے کشمیری خواتین رہنمائوں آسیہ اندرابی،صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت سزا سنایا جانا،مقبوضہ جموں و کشمیر میں پرامن سیاسی جدوجہد کوبھی منظم انداز میں جرم بنانے کی ایک خوفناک مثال ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ مذکورہ خواتین دختران ملت سے وابستہ ہیں اور ان کی تمام سرگرمیاں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مسئلہ کشمیر سے متعلق قراردادوں کے نفاذ کے مطالبے تک محدود رہی ہیں‘بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دینا اور ان پر عمل درآمد کیلئے جدوجہد کرنا کسی بھی طور دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔ یہ فیصلہ آزادی اظہار اور منصفانہ عدالتی عمل کی بنیادی ضمانتوں سے صریحا متصادم ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ جموں و کشمیرعالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے، اور ایسے خطے میں حق خودارادیت کی وکالت اور اس کیلئے پرامن جدوجہد کو بغاوت یا دہشت گردی قرار دینا قانونی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے ناقابل قبول ہے۔
جب مقبوضہ کشمیر کی ایک بیٹی دہلی کی جیل میں سزا کاٹ رہی ہو، جب اس پر غداری، بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات ٹھونسے جا رہے ہوں، جب اس کی واحد خطا یہ ہو کہ اس نے غلامی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، تو پھر اسلام آباد اور مظفر آباد کی زبانیں کیوں گنگ ہو جاتی ہیں، کیا آسیہ اندرابی آٹے سے کم اہم ہے؟ کیا اس کی آزادی بجلی کے یونٹ سے سستی ہے؟یہ سوال تکلیف دہ ہیں، مگر ضروری ہیں۔آسیہ اندرابی کا جرم کوئی بم نہیں، کوئی بندوق نہیں، کوئی قتل نہیں۔ اس کا جرم یہ ہے کہ اس نے کشمیری عورت کو سر اٹھا کر جینا سکھایا۔ اس نے یہ کہا کہ آزادی مانگنا گناہ نہیں۔ اس نے یہ باور کرایا کہ کشمیری عورت صرف ماتم کی تصویر نہیں، مزاحمت کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ اسی جرم کی سزا آج اسے دی جا رہی ہے۔اور آزاد کشمیر؟ وہی آزاد کشمیر جو ہر عالمی فورم پر مقبوضہ کشمیر کے لیے قراردادوں، بیانات اور دعوئوں کا انبار لگاتا ہے، آج عملی طور پر خاموش ہے۔ نہ کوئی بڑا احتجاج، نہ کوئی علامتی شٹر ڈائون، نہ کوئی سڑکوں پر عوامی ردِعمل۔ چند بیانات، چند سوشل میڈیا پوسٹس، اور بس۔یہ خاموشی بے خبری نہیں۔ یہ بے بسی بھی نہیں۔ یہ ترجیح ہے۔ہم نے اجتماعی طور پر یہ طے کر لیا ہے کہ ہمارے لیے فوری معاشی مسائل، طویل قومی اور نظریاتی مسائل سے زیادہ اہم ہیں۔ یہ فیصلہ شاید وقتی طور پر سہولت دیتا ہو، مگر تاریخ میں اس کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔ قومیں صرف روٹی سے نہیں زندہ رہتیں، وہ نظریے سے زندہ رہتی ہیں۔ اور جب نظریہ ہی بے آواز ہو جائے تو پھر روٹی بھی دیر تک نصیب نہیں رہتی۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج آسیہ اندرابی ہے، کل کوئی اور ہوگا۔ آج وہ دہلی کی جیل میں ہے، کل کوئی اور کشمیری عورت یا مرد ہوگا۔ اگر آج آزاد کشمیر نے آواز نہ اٹھائی تو کل کسی اور کی باری پر بھی یہی خاموشی ہمارا مقدر ہوگی۔ کیونکہ ظلم ہمیشہ خاموشی کو دعوت دیتا ہے۔یہاں سوال حکومتوں سے بھی ہے اور عوام سے بھی۔
حکومت اگر سفارتی مجبوریوں کا بہانہ بنائے، تو عوام کس مجبوری کے تحت خاموش ہیں؟ کیا ہم صرف اسی وقت سڑک پر نکلتے ہیں جب ہمارے گھروں کا میٹر تیز چلنے لگے؟ کیا کشمیر صرف ایک نعرہ ہے جو مخصوص دنوں میں لگایا جاتا ہے، یا ایک زندہ مسئلہ ہے جو ہر دن کا تقاضا کرتا ہے؟کشمیر کی آزادی کا مقدمہ صرف اقوامِ متحدہ میں نہیں لڑا جاتا، یہ دلوں، سڑکوں اور اجتماعی ضمیر میں لڑا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر اگر واقعی آزاد ہے تو اسے سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کے لیے آواز بننا چاہیے۔ ورنہ آزادی محض ایک جغرافیائی لفظ رہ جاتا ہے، ایک خالی دعویٰ۔آج بھی وقت ہے۔ احتجاج صرف پتھر اور نعرے نہیں ہوتے، احتجاج ایک واضح اخلاقی موقف کا نام ہے۔ ایک اجتماعی اعلان کہ ہم ظلم کو معمول نہیں سمجھتے۔ اگر آزاد کشمیر نے یہ اعلان نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہم سے یہ نہیں پوچھیں گی کہ بجلی کتنی مہنگی تھی، وہ یہ پوچھیں گی کہ جب تاریخ نے تم سے آواز مانگی تھی، تم خاموش کیوں رہے؟سوال سیدھا ہے، اور جواب بھی: کیا آزاد کشمیر کی غیرت صرف بلوں اور راشن تک محدود ہے؟ یا پھر ہم نے کشمیر کو صرف نعروں تک دفن کر دیا ہے؟یہ خاموشی اگر نہ ٹوٹی تو کل یہ خاموشی ہی ہمارا تعارف بن جائے گی۔
