Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
آج بھی اگر انہیں مزاحمت کا سامنا نہ ہو تو قادیانی اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ تھوڑے سے عرصے میں پاکستان میں وہ پوزیشن حاصل کر سکتےہیں جو امریکہ میں یہودیوں کو حاصل ہے، اسی لیے وہ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
خیر یہودیوں نے امریکہ پر کنٹرول حاصل کر لیا، امریکہ کی پالیسیاں یہود کے اشارے پر چلتی ہیں، یعنی اس وقت یہود کی پوزیشن یہ ہے کہ وہ امریکہ کو چلا رہے ہیں اور امریکہ باقی دنیا کو چلا رہا ہے۔یہود کی اس تگ و دو کے پیچھے ایک تو ان کا وہ پرانا خواب ہے کہ فلسطین ان کا وطن ہے انہوں نے واپس لینا ہے، یروشلم کو دوبارہ قبضے میں لینا ہے، ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر کرنا ہے اور اسرائیل کو بحال کرنا ہے، حضرت سلیمانؑ کے زمانے کی اسرائیلی ریاست کو دوبارہ قائم کرنا ہے۔دوسرے یہ کہ یہودیت نسلی مذہب ہے صرف بنی اسرائیل کے لیے ہے، ان کی نسلی برتری کے احساس کا ذکر قرآن کریم نے بھی متعدد مقامات پر کیا ہے۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں یہود اور عیسائیوں کو جو رکاوٹ تھی وہ نہ پہچاننا نہیں تھی، بلکہ وہ آپؐ کو پہچانتے تھے ”الذین اتیناھم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابنائھم“ (البقرہ ۱۴۶) پھر ان کے انکار کی وجہ کیا بنی؟ قرآن مجید میں ہے ”حسدًا من عند انفسھم من بعد ما تبین لھم الحق“ (البقرہ ۱۰۹)۔ ان کے انکار کی بڑی وجہ حسد تھی۔ حسد اس بات پر کہ یہ نبیؐ بنی اسرائیل میں کیوں نہیں آئے، بنی اسماعیل میں کیوں آئے ہیں۔ جس کو پنجابی زبان میں ہم ”شریکا“ کہتے ہیں کہ چچا زاد بھائیوں میں کیوں آئے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے ”قالوا نؤمن بما انزل علینا ویکفرون بما ورآۂ“ (البقرہ ۹۱)۔ بنی اسرائیل سے ہٹ کر ہر وحی کا انکار کرتے ہیں، یہ ان کی نسلی برتری اور فوقیت کا احساس تھا جس کی بنیاد حسد ہے۔
عیسائیوں میں بھی یہی بات تھی، اس وقت میں حوالے کے لیے بخاری شریف کی ایک روایت کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ قیصر روم کے سامنے جب جناب نبی کریمؐ کا گرامی نامہ پیش ہوا اور قیصر روم نے جناب ابو سفیان سے، جو اس علاقے میں آئے ہوئے تھے، بلا کر جناب نبی کریمؐ کے بارے میں طویل انٹرویو کیا تھا، وہ بڑا دلچسپ مکالمہ ہے۔ حضورؐ کی ذات و قوم، آپ کے اخلاق اور آپ کی دعوت کے بارے میں سوالات کیے تھے۔ ابو سفیان جواب دیتے گئے، آخر میں اس نے کہا تھا کہ میں بھی نبی آخر الزمان کے انتظار میں ہوں، لگتا ہے کہ یہ وہی ہیں۔ اور جناب ابوسفیانؓ سے کہا تھا جو تم کہہ رہے ہو اگر یہ درست باتیں ہیں تو ”انہ لنبی“ بے شک وہ نبی ہیں۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ان کے پاؤں اپنے ہاتھوں سے دھوتا، لیکن مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ تم بدوؤں میں آ جائے گا۔ چنانچہ یہ بات اس کے ایمان لانے میں رکاوٹ بنی۔ یہود کے راستے میں بھی یہی نسلی حسد رکاوٹ بنا چنانچہ اس وقت یہود کا ایجنڈا صرف اسرائیل قائم کرنے کا نہیں ہے، وہ تو ہے ہی، ساتھ ہی اسرائیل قائم کر کے دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کا ایجنڈا بھی ہے۔ اس بنیاد پر کہ ”نحن ابناء اللّٰہ واحباۂ“ (المائدہ ۸۱)۔ ان کا عقیدہ ہے کہ بنی اسرائیل برتر نسل ہیں اور ان کو نسلی بنیاد پر دنیا پر حکمرانی کا حق حاصل ہے چنانچہ دنیا اسرائیل کو ایک نسلی مذہب کہتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جنوبی افریقہ میں گوروں کی حکومت نسلی بنیاد پر تھی۔ گوروں نے قبضہ کیا ہوا تھا اور وہ کالوں کو قریب نہیں آنے دیتے تھے۔ اور اقوام متحدہ کے کاغذات میں، بین الاقوامی برادری کے کاغذات میں بھی، جنوبی افریقہ اور اسرائیل کو نسل پرست ریاستیں کہا جاتا تھا۔ اب تو جنوبی افریقہ بدل گیا ہے، وہاں حکومت تبدیل ہو گئی، اب وہ دور ختم ہوا اور اب سیاہ فام اکثریت کی حکومت ہے۔ لیکن اسرائیل ابھی تک اسی نسلی برتری میں ہے۔
تو میں نے دو باتیں عرض کی ہیں کہ یہودی حضرت سلیمانؑ کی ریاست اسرائیل کے قیام کے لیے کوشاں ہیں،اور دوسرے یہ کہ یہود نسلی برتری کے خبط کا شکار ہیں اور پوری دنیا پر عالمی قیادت اور کنٹرول کے دعویدار ہیں۔ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ چونکہ خود ان کے اپنے پاس طاقت نہیں ہے، انہوں نے پہلے ہمیں استعمال کرنے کی کوشش کی تھی، سلطان عبد الحمید ثانی کے ساتھ ان کے مذاکرات اور پیشکشیں ہوئیں۔ سلطان ساری بات کو سمجھتے تھے اس لیے ان کے قابو نہیں آئےجبکہ برطانوی حکومت کے ذریعے، جو اس وقت سب سے بڑی مسیحی قوت تھی، عیسائی ان کے قابو آ گئے۔ انہوں نے ساری پلاننگ کر کے عیسائی وسائل کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا۔ مختصر طور پر خلاصہ بات کا یہ ہے کہ یہودی دماغ اور عیسائی وسائل مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں اور اس وقت عالم اسلام اور اسلام ان کا ٹارگٹ ہے۔ جہادِ افغانستان کے مکمل ہونے پر، روس کے شکست کھانے پر امریکہ اور روس کے درمیان محاذ آرائی کا ماحول ختم ہو گیا تھا۔ اب روس طاقت ہے لیکن سامنے کی طاقت نہیں ہے، یہ امریکہ کو کسی معاملے میں چیلنج نہیں کر رہا۔ نیٹو کے سیکرٹری نے افغانستان کی جنگ کے خاتمے پر کہا تھا، ایک حریف ہمارے راستے سے ہٹا ہے، اسلام ابھی باقی ہے۔ یہودی اسلام کو مغرب سے لڑا کر اور مغرب کو اسلام کے خلاف استعمال کر کے اپنا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں