Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

ایک خواب،ایک چیخ،اورایک امت کانوحہ

آج کی یہ محفل کوئی رسمی اجتماع نہیں،یہ الفاظ کاکھیل نہیں،یہ وقتی جوش کی آگ نہیں،بلکہ یہ دلوں کے دروازے کھٹکھٹانے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے۔آج میں آپ سے وہ بات کرنے آیاہوں جوسنی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے۔جوعقل کونہیں،روح کو جھنجھوڑتی ہے۔جو صرف کانوں تک نہیں جاتی بلکہ دل کی گہرائیوں میں اترکرضمیرکو بے چین کردیتی ہے۔ آج میں کوئی خبرنہیں سنارہا،نہ ہی تجزیہ کرنے آیاہوں،آج میں کوئی نعرہ بھی نہیں لگانے آیابلکہ آج میں آپ کے سامنے ایک خواب رکھناچاہتاہوں۔آج میں آپ سے سوال کرنے آیاہوں،اورخبردار،کہ یہ سوال آسان نہیں،یہ سوال آرام دہ نہیں،یہ سوال نیندحرام کردینے والا ہے۔ آج میں آپ کے سامنے کوئی تقریر نہیں کرنے آیا بلکہ آج میں آپ کے سامنے ایک آئینہ رکھ رہاہوں،جس میں اگرہم نے خودکودیکھ لیاتوشایدہم چین سے نہ سوسکیں۔
میرے عزیزو!اگرآپ سمجھتے ہیں کہ یہ اجتماع ایک نارمل پروگرام ہے،توآپ غلط ہیں،یہ ایک احتسابی عدالت ہے اوراس عدالت میں ملزم کوئی اورنہیں ہم خودہیں۔آج میں آپ کوکہانی نہیں سناؤں گا،بلکہ خواب سنانے اوراس کے نتائج دکھاؤں گالیکن ایساخواب جودنیاکے لاکھوں مسلمانوں کے لئے ڈراؤنا خواب نہیں، روزمرہ کی حقیقت ہے لیکن ایساخواب جو دراصل ہماری اجتماعی حقیقت ہے،ایک چیخ جوصدیوں سے دبائی جارہی ہے،اور ایک نوحہ جوپوری امت کی سانسوں میں گھلاہواہے۔
سوچئے!اگرآج رات آپ کے گھرکی چھت نہ بچے،اگرآپ کے بچوں کے بستروں پر میزائل برسیں، اگرآپ کی ماں کی چیخ ٹی وی اسکرین تک نہ پہنچے توکیاتب بھی آپ کہیں گے یہ ہمارامسئلہ نہیں؟اس لیے میں آپ سے گزارش کرتاہوں کہ چندلمحوں کے لئے دنیاکی آوازوں کوخاموش کردیجیے،موبائل بندکردیجیے،دل کوحاضررکھیے اورضمیرکوجگالیجیے کیونکہ آج کی بات سننے کی نہیں،محسوس کرنے کی ہے اورتاریخ کے کٹہرے میں ہم سب کانام پکارنے والی ہے۔یہ خطاب غزہ کے بچوں کی طرف سے ہے، یہ فریادکشمیرکی ماؤں کی طرف سے ہے ،یہ آہیں ان یتیموں کی ہیں جنہوں نے اپنے باپ نہیں،صرف کفن دیکھے ہیں اورآج یہ سوال پوری طاقت سے آپ کے ضمیرپردستک دے رہاہے کیاہم واقعی ایک امت ہیں؟
آج میں آپ کے سامنے کوئی سیاسی تقریرکرنے نہیں آیا،کوئی جذباتی نعرہ لگانے نہیں آیا،کوئی وقتی جوش پیداکرنے نہیں آیا۔آج میں آپ کے سامنے ایک خواب رکھنے آیاہوں ۔ ایساخواب جودراصل ہماری اجتماعی حقیقت ہے۔ذراایک لمحے کیلئے،وہ تمام لوگ جن کے سینوں میں اب بھی دل دھڑکتاہے،میں آپ سے گزارش کرتاہوں،بس ایک لمحے کے لئے اپنی آنکھیں بند کرلیجیے اورمیرے ساتھ اس لمحے میں آئیے جہاں ایک فردنہیں، ایک پوری امت جاگ اٹھی تھی۔ سوچئے، رات کاآخری پہرہے۔دن بھرکی تھکن کے بعد، خاموشی پورے گھرپر چھائی ہوئی ہے۔ کمرے میں مدھم روشنی ہے،ایسی روشنی جونیندکو اور گہراکردیتی ہے،۔خاموشی ایسی ہے جیسے وقت رک گیاہو۔بچے اپنے بستروں میں گہری نیند سورہے ہیں۔ایسی خاموشی کہ اگرسانس ذراتیزہو جائے تو خودہی سنائی دے۔ پرسکون چہروں پرمعصوم مسکراہٹیں ہیں، سانسوں کی آمدورفت زندگی کی علامت بن کرچل رہی ہیں جوزندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہیں،وہ مسکراہٹیں جوایک باپ،ایک ماں،ایک دادا،ایک ناناکی زندگی کاسرمایہ ہوتی ہیں اورایک ناقابل یقین خوشی کی گھڑیاں بھی جب ان کی اولادبڑے پر سکون اندازمیں خوبصورت خوابوں کی طرح،ان کی دعاؤں کی قبولیت کے بدلے میں ان کودکھائی دے رہی ہوتی ہیں۔
اچانک آنکھ کھلتی ہے۔اورآنکھ سب سے پہلے بچوں کے چہروں کوڈھونڈتی ہے لیکن جونظرآتاہے،وہ خواب نہیں، قیامت کامنظرہوتاہے۔ گردمیں اٹے چہرے، خون میں ترمعصوم صورتیں،زخموں سے چوربدن، ٹوٹاہوا ملبہ،گرتی ہوئی دیواریں،سردہوامیں کانپتاوجود۔ دل چیخنا چاہتاہے،لیکن چیخ حلق میں پھنس جاتی ہے۔ہاتھ کانپ رہے ہیں،انگلیاں بچوں کوچھوناچاہتی ہیں،یہ یقین کرنے کے لئے کہ شایدوہ زندہ ہوں لیکن دل ڈررہاہے کہ کہیں یہ لمس آخری نہ ہو۔جسم میں دردہے،ہڈیاں ٹوٹی ہوئی محسوس ہوتی ہیں،سانس بھاری ہے ،مگر ان سب سے بڑھ کرایک ہی فکرہے،میرے بچے کہاں ہیں؟
پھراچانک آنکھ پوری طرح کھلتی ہے۔کمرہ اپنی جگہ ہے۔دیواریں سلامت ہیں۔چھت موجودہے۔ بچے صحیح سلامت ہوتے ہیں،بچے اپنے بستروں میں گہری نیندسو رہے ہیں۔ ان کے چہرے صاف ہیں، پرسکون ہیں،محفوظ ہیں۔اوراسی لمحے انسان ٹوٹ جاتا ہے۔چیخ چیخ کر رونے کودل چاہتاہے،اس لیے نہیں کہ خواب براتھا،لیکن جسم بری طرح کانپ رہاہے۔آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔دل کانپنے لگتا ہے۔ہاتھ خود بخوددعا کے لئے اٹھ جاتے ہیں،زبان سے نکلتاہے یااللہ یہ توصرف ایک خواب تھا،پھردل کہتاہے کہیں یہ خواب کسی کی حقیقت تونہیں؟
یہ ایک فردکاخواب نہیں تھا،یہ کسی فلم کاسین نہیں۔یہ کسی افسانے کاپلاٹ نہیں۔یہ غزہ کے باپ کاجاگتاہواخواب ہے،یہ غزہ کاجاگتاہوا نوحہ تھا۔یہ کشمیری ماں کی سسکتی رات ہے ۔ یہ شام،یمن،لیبیا، سوڈان کی وہ کہانی تھی جوہررات کسی نہ کسی مسلمان کے خواب میں اترآتی ہے۔یہ شام،یمن،فلسطین کے بچوں کی روزکی کہانی ہے۔لیکن ہمارے ہاں جب آنکھ کھلتی ہے،سب صحیح سلامت ہوتے ہیں،بچے گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں،کمرہ محفوظ ہوتاہے،تواحساس ہوتاہے یہ تومحض ایک خواب تھا،مگرجن کے لئے یہ حقیقت ہے،کیاان کے بارے میں بھی جانتے ہیں؟
یہ خواب کس کی حقیقت ہے؟یہ غزہ کے باپ کی حقیقت ہے،جوہررات بمباری کے شورمیں اپنے بچوں کوسینے سے لگاتاہے۔یہ فلسطین کی ماں کی حقیقت ہے جوبچے کوسلاتے وقت یہ نہیں جانتی کہ صبح وہ زندہ ہوگایانہیں۔یہ کشمیرکے اس بچے کی حقیقت ہے جورات کو سوتے وقت یہ نہیں جانتاکہ صبح آنکھ کھلے گی بھی یانہیں، یہ خواب ان بچوں کاہے جنہوں نے کھلونے نہیں، بندوقیں دیکھی ہیں۔یہ شام، یمن،سوڈان کے ان بچوں کی حقیقت ہے جنہوں نے کھلونے نہیں،میزائل دیکھے ہیں،یہ ہراس کونے کی حقیقت ہے جہاں مسلمان ہونا جرم بن چکاہے۔ہم خواب دیکھ کرایک رات نہیں سوپاتے، روز،ہردن،جورات کوسوتے وقت یہ نہیں جانتے کہ صبح آنکھ کھلے گی بھی یانہیں۔ہم خواب دیکھ کرلرزجاتے ہیں اوروہ حقیقت جیتے ہیں۔
سوچئے !سوال جودل چیردیتاہے،جن والدین کے سامنے یہ سب خواب نہیں،روزکامعمول ہے،جو اپنے بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں اٹھائے ادھرسے ادھر بھاگ رہے ہیں،جنہیں نہ دفنانے کاحوصلہ ہے،نہ سینے سے لگانے کی اجازت،ان کے دلوں پرکیاگزرتی ہوگی؟اگرمصیبت کوچلتاپھرتادیکھناہوتوغزہ کی ویڈیوزدیکھ لیجیے اوراگردرد کو سانس لیتامحسوس کرناہوتو فلسطین کی تصاویرکافی ہیں۔یہ محض جنگ نہیں،یہ انسانیت کے ضمیرکاقتل ہے۔ مقبوضہ کشمیرکاخاموشی سے بہتاہواخون بھی چیخ چیخ کر اب پکاررہاہے۔وہ تو’’ہم ہیں پاکستانی، پاکستان ہمارا ہے‘‘پکارتے ہوئے پاکستانی پرچم میں تہہ خاک ہوگئے اورہم کہاں کھڑے ہیں؟قدرت کاایک اٹل قانون ہے،جب مظلوم بولناچھوڑدے،ظالم بے لگام ہو جاتا ہے ۔ہم برسوں سے موت کورقص کرتے دیکھ رہے ہیں اورزندگی کو سسکتے ہوئے۔سوال یہ نہیں کہ ظالم کون ہے،سوال یہ ہے کہ ہم کہاں ہیں؟
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں