شہر جب جلتا ہے تو صرف عمارتیں ہی نہیں، بلکہ اعتماد، تحفظ اور ریاستی ذمہ داری کا تصور بھی شعلوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ کسی بھی بڑے سانحے کے بعد اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ آگ کیسے لگی، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آگ لگنے سے پہلے وہ نظام کہاں تھا جسے انسانی جانوں کی حفاظت کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر حادثہ ایک وقتی صدمہ بن کر ابھرتا ہے، چند بیانات، چند وعدے، اور پھر سب کچھ معمول کی دھند میں گم ہو جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے آگ بجھنے کے ساتھ ہی اجتماعی یادداشت بھی راکھ ہو جاتی ہے۔کراچی جیسے شہر میں حادثات کوئی انوکھی بات نہیں رہے، مگر ہر سانحہ اپنے ساتھ ایک نئی چیخ، ایک نیا سوال اور ایک نیا زخم لے کر آتا ہے۔ جب کسی عمارت میں لوگ بے بسی کے عالم میں پھنسے ہوں، جب مدد کی امیدیں دم توڑ رہی ہوں، اور جب ریاستی مشینری محض تماشائی بنی کھڑی ہو، تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں رہتی، یہ اخلاقی دیوالیہ پن بن جاتا ہے۔ ایسے لمحات میں قوم کی نگاہیں صرف حکمرانوں پر نہیں ہوتیں، بلکہ پورے نظام پر ہوتی ہیں، جو دعوئوں، نعروں اور ماضی کی علامتوں کے سہارے خود کو زندہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں المیے کے بعد جذباتی تقاریر تو بہت ہوتی ہیں، مگر جواب دہی کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون کتنا دکھی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کون ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہے۔ کیا محض دکھ کا اظہار، بلند آہنگ جملے اور جذباتی وعدے انسانی جانوں کے ضیاع کا کفارہ بن سکتے ہیں؟ یا پھر یہ سب کچھ محض وقتی دبا کم کرنے کی ایک مشق ہے، جس کے بعد سب اپنے اپنے معمولات میں لوٹ جاتے ہیں؟یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے سانحات کو سیاسی بیانیوں کے شور میں دفن کرنا سیکھ لیا ہے۔
ماضی کے نام، پرانے نعرے اور تاریخی حوالہ جات آج بھی استعمال ہوتے ہیں، مگر زمینی حقائق وہی رہتے ہیں، ناقص حفاظتی انتظامات، غیر ذمہ دار ادارے، اور ایک ایسا نظام جو حادثے کے بعد جاگتا ہے، مگر پھر دوبارہ سو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نیا واقعہ ہمیں چونکاتا نہیں، بلکہ ایک تھکی ہوئی بے بسی کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ اس طرزِ حکمرانی کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ جو برسوں سے عوام کو جذباتی نعروں اور علامتی موجودگی کے سہارے مطمئن کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اب وقت ہے کہ آگ کے شعلوں میں صرف عمارتوں کو نہیں، بلکہ اپنی ترجیحات، دعوئوں اور خاموشیوں کو بھی دیکھا جائے۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری کہتے ہیں کہ میں یہ فائل بند نہیں ہونے دوں گا ،اگر یہ فائل بند ہوئی تو پھر ہمیں سیاست ختم کر دینی چاہیے ،میں استعفیٰ دے کر گھر چلا جائوں گا ،خدا کی قسم،میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہہ رہا ہوں کہ جو عذاب اللہ ہمیں قبر میں دے گا کہ تمہیں منصبوں پہ بٹھایا تھا اور تم لوگوں کی جانوں سے کھیلتے رہے،مان لیتے ہیں صاحب مان لیتے ہیں گل پلازہ کی آگ کے تناظر میں سندھ کے اعلیٰ حکام میں سے کسی کو تو استعفیٰ کا خیال آیا،سنا ہے کہ گزشتہ چالیس ، بیالیس سالوں سے سندھ میں بھٹو زندہ ہے،مگر میں کیسے تسلیم کر لوں؟، گل پلازہ میں اچانک سے بھڑک کر یکایک پھیل جانے والی ’’پرسرار آگ‘‘ میں انسان جلتے رہے اور ’’بھٹو‘‘دیکھتا رہا مگر انہیں بچانے کے لئے کر کچھ نہ سکا،گل پلازہ کی آگ کی ’’پراسراریت‘‘کو سمجھنے کے لئے اس خاکسار کوجمعیت علماء اسلام کے ہر دلعزیز رہنما قاری محمد عثمان کہ جو شہر کراچی کے مظلوم انسانوں اور حکومتی جبر کا نشانہ بننے والے مدارس ومساجد کے دفاع کے حوالے سے مشہور اور جنہیں ’’بابائے کراچی‘‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے سے ملاقات کرنا پڑی، قاری محمد عثمان نے گل پلازہ حادثے کو صرف حادثے کی بجائے ایک قومی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جسے سندھ حکومت کی غفلت، تاخیر اور نااہلی نے ایک ممکنہ بچا ئوکے معاملے کو انسانی سانحے میں تبدیل کر دیا۔انہوں نے کہا کہ آگ بجھانا اور اندر محصور لوگوں اور لاشوں کو نکالنا اولین ترجیح ہونی چاہیے تھی مگر ایسا نہ ہوا۔
گل پلازہ سانحے اور اموات کی مکمل ذمہ دار صوبائی اور شہری حکومت و انتظامیہ ہے۔ سانحہ گل پلازہ کو محض اتفاقی حادثہ قرار دینا ظلم در ظلم ہوگا، کیونکہ یہ ایک ایسے ڈھانچے کا نتیجہ تھا جس کے بارے میں متعدد بار فائر سیفٹی اور کوڈز کی خلاف ورزی کے انتباہات دئیے گئے تھے، اس کے باوجود موثر اقدامات نہیں کئے گئے۔ انہوں نے نہایت دکھی لہجے میں کہا کہ ہاشمی صاحب !وزیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، میئر کراچی اور ان کی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگاکر عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔(جاری ہے)
قاری محمد عثمان نے اس امر پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا کہ آگ لگنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد، پہلی فائر بریگیڈ کی گاڑی پہنچی، جس کے بعد بھی سست رفتاری سے آگ بجھانے کا عمل جاری رہا۔ صبح کے ابتدائی گھنٹوں میں کارروائی میں قدرے تیزی آئی، مگر تب تک آگ نے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس سے انسانی جانی و مالی نقصانات ناقابلِ تلافی حد تک بڑھ گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی تیسرے دن جائے حادثہ پر پہنچے، جبکہ گل پلازہ اس وقت تقریبا ًراکھ کے ڈھیر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ قاری محمد عثمان نے مطالبہ کیا کہ احتساب، ذمہ داری اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے فوری اور جامع حکمت عملی تشکیل دی جائے، تاکہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بنیادی تحفظات اور جان بچانے والے اقدامات وقت پر یقینی بنائے جائیں، قاری محمد عثمان نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام،علامہ بنوری ٹائون کے بنوری ویلفیئر ٹرسٹ سمیت دینی مدارس، مذہبی تنظیمیں اور رفاہی ادارے امدادی کارروائیوں اور اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کی خدمت میں مصروف ہیں، مگر حکومتی امدادی کارروائیاں، اعلانات سے زیادہ کچھ نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی اکثریت کا دعویٰ کرنے والی جماعتیں زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے بیانات کی راکھ ڈال رہی ہیں، قاری محمد عثمان نے کہا کہ گل پلازہ کی آگ نے عمارت نہیں جلائی، بلکہ انتظامی دعوئوں کو راکھ کر دیا۔
شہر طلب کرئے تجھ سے علاج تیرگی
صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو
یہاں سوال صرف ایک عمارت، ایک حادثے یا ایک بیان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے نظام کے کردار پر آ کر ٹھہر جاتا ہے۔ ایسے سانحات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم بطور ریاست اور بطور معاشرہ انسانی جان کی قدر وقیمت کہاں رکھتے ہیں؟ اگر ہر دفعہ آگ کے بعد ہم صرف افسوس، چند بلند آہنگ جملوں اور وقتی یقین دہانیوں پر اکتفا کریں، تو پھر یہ مان لینا چاہیے کہ ہم نے خود کو حادثات کے ساتھ جینا سکھا لیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سانحہ معمول بن جاتا ہے اور معمول سب سے بڑا جرم۔ذمہ داری کا تصور محض استعفوں کے نعروں یا جذباتی تقاریر سے پورا نہیں ہوتا۔
اصل ذمہ داری اس نظام کی اصلاح میں ہے جو ایسے واقعات کو جنم دیتا ہے۔ وہ عمارتیں جو بغیر حفاظتی معیار کے کھڑی ہیں، وہ ادارے جو کاغذوں میں تو فعال ہیں مگر زمین پر غیر حاضر اور وہ حکمران جو ہر بحران میں اخلاقی جملوں کی آڑ لے لیتے ہیں، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں آگ لگنا حادثہ نہیں، انجام بن جاتا ہے۔ اگر اس انجام کے بعد بھی ہم نے کچھ نہ سیکھا تو پھر آئندہ کسی سانحے پر حیرت کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارا اجتماعی رویہ بھی اس نظام کی کمزوریوں کو سہارا دیتا ہے۔ ہم شور مچاتے ہیں، غصہ کرتے ہیں، مگر تھوڑی دیر بعد سب کچھ بھول کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہی فراموشی طاقتوروں کے لئے سب سے بڑی ڈھال بن جاتی ہے۔ جب عوام مستقل سوال نہیں کرتے، مستقل جواب طلب نہیں کرتے، تو پھر اقتدار کے ایوانوں میں احتساب ایک غیر ضروری بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر نیا سانحہ پچھلے سانحے کی فہرست میں ایک اور اندراج بن جاتا ہے۔سیاسی نعروں، تاریخی حوالوں اور علامتی ناموں کے پیچھے چھپ کر حقیقت سے نظریں چرانا اب ممکن نہیں رہا۔ عوام کو اب جذباتی وابستگی سے زیادہ عملی تحفظ درکار ہے۔ انہیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جو حادثے کے بعد نہیں، حادثے سے پہلے حرکت میں آئے۔ ایسا نظام جو انسانی جان کو سیاست، بیان بازی اور مصلحتوں سے بالاتر رکھے۔ جب تک یہ ترجیح واضح نہیں ہوگی، تب تک ہر آفت ہمیں یہی پیغام دیتی رہے گی کہ ہم نے سیکھنے سے انکار کر دیا ہے۔
آج کا کالم کسی ایک واقعے پر ماتم نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اپیل ہے۔ ایک یاد دہانی کہ ریاست کی اصل طاقت نعروں میں نہیں، شہریوں کے تحفظ میں ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی خود کو ایک ذمہ دار معاشرہ سمجھتے ہیں تو ہمیں ہر سانحے کو آخری سانحہ بنانے کی کوشش کرنا ہوگی۔ ورنہ تاریخ ہمیں ان لوگوں میں شمار کرے گی جو سب کچھ دیکھتے رہے، سب کچھ جانتے رہے، مگر پھر بھی خاموش رہے۔ اور یہ خاموشی کسی بھی آگ سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔
(جاری ہے)
