(گزشتہ سے پیوستہ)
تو میں نے دو باتیں عرض کی ہیں کہ یہودی حضرت سلیمانؑ کی ریاست اسرائیل کے قیام کے لیے کوشاں ہیں،اور دوسرے یہ کہ یہود نسلی برتری کے خبط کا شکار ہیں اور پوری دنیا پر عالمی قیادت اور کنٹرول کے دعویدار ہیں۔ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ چونکہ خود ان کے اپنے پاس طاقت نہیں ہے، انہوں نے پہلے ہمیں استعمال کرنے کی کوشش کی تھی، سلطان عبد الحمید ثانی کے ساتھ ان کے مذاکرات اور پیشکشیں ہوئیں۔ سلطان ساری بات کو سمجھتے تھے اس لیے ان کے قابو نہیں آئےجبکہ برطانوی حکومت کے ذریعے، جو اس وقت سب سے بڑی مسیحی قوت تھی، عیسائی ان کے قابو آ گئے۔ انہوں نے ساری پلاننگ کر کے عیسائی وسائل کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا۔ مختصر طور پر خلاصہ بات کا یہ ہے کہ یہودی دماغ اور عیسائی وسائل مسلمانوں کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں اور اس وقت عالم اسلام اور اسلام ان کا ٹارگٹ ہے۔ جہادِ افغانستان کے مکمل ہونے پر، روس کے شکست کھانے پر امریکہ اور روس کے درمیان محاذ آرائی کا ماحول ختم ہو گیا تھا۔ اب روس طاقت ہے لیکن سامنے کی طاقت نہیں ہے، یہ امریکہ کو کسی معاملے میں چیلنج نہیں کر رہا۔ نیٹو کے سیکرٹری نے افغانستان کی جنگ کے خاتمے پر کہا تھا، ایک حریف ہمارے راستے سے ہٹا ہے، اسلام ابھی باقی ہے۔ یہودی اسلام کو مغرب سے لڑا کر اور مغرب کو اسلام کے خلاف استعمال کر کے اپنا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت ہمارا ماحول یہ ہے قرآن کریم کی وہ آیت ہمارے سامنے ہے ”لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا“ (المائدہ ۸۲)۔ لیکن عالم اسلام اسرائیل کے حوالے سے دو کیمپوں میں تقسیم ہے: ایک کیمپ جس میں پاکستان، سعودی عرب، ایران اور کچھ اور ممالک بھی ہیں، یہ سرے سے اسرائیل کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ ہمارے پاسپورٹ میں لکھا ہوتا ہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اسرائیل کو ایک ریاست تسلیم نہیں کرتے، اس کو ناجائز ریاست سمجھتے ہیں، اور ہمارا موقف یہ ہے کہ فلسطین پورے کا پورا فلسطینیوں کا ہے۔ صدام حسین مرحوم کو جب پھانسی دی گئی اس میں عراق کے مقامی مسائل بھی تھے لیکن مشرق وسطیٰ کے حوالے سے وہ اسرائیل کا سخت ترین مخالف تھا، یہودیوں کا دشمن اور فلسطینیوں کا سخت حامی تھا۔ وہ کلپ موجود ہے جب صدام کو پھانسی دی جا رہی تھی تو اس کی زبان پر آخری جملہ یہ تھا کہ اس نے اعلان کیا تھا فلسطین فلسطینیوں کا ہے، پھر ”اشھدان لا الہ الا اللّٰہ“ آدھا کلمہ ہی پڑھا تھا کہ رسی کھینچ دی گئی تھی اور وہ شہید ہوگیا تھا۔چنانچہ ایک موقف یہ ہے کہ فلسطین پورے کا پورا فلسطینیوں کا ہے، یہود نے غاصبانہ قبضہ کیا ہے، ناجائز قبضہ کیا ہے، اسرائیل کی ریاست ناجائز ہے، ہمارا موقف بھی یہی ہےلیکن ہمیں یہ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ بہت سے مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں۔ اپنی صفوں کا یہ فرق ہمارے ذہن میں رہنا چاہیے۔ ترکی، مصر، اردن، قطر، شام نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور ان سے امریکہ نے تسلیم کرایا تھا۔ صدر جمی کارٹر نے کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کروائے تھے اور اسرائیل تسلیم کرایا تھا، ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی ہیں۔ لیکن جو ممالک اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں، وہ بیت المقدس کو اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ اسرائیل اس حد تک ایک جائز ریاست ہے جو اقوام متحدہ نے تقسیم کی تھی۔ ۱۹۴۷ء میں اقوام متحدہ نے تین حصوں میں تقسیم کیا تھا: (۱) ایک حصہ یہودی اکثر آبادی پر مشتمل اسرائیل (۲) دوسرا فلسطین (۳) اور تیسرا متنازعہ علاقے کے طور پر اردن کی تحویل میں۔ پھر ۱۹۶۷ء کی جنگ میں اسرائیل نے جو اردن کے حصے پر، شام کی گولان کی پہاڑیوں پر، اور بیت المقدس پر قبضہ کیا ہے، یہ ان ممالک کے ہاں بھی ناجائز قبضہ ہے، وہ اس علاقے کو اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتے۔
یہ میں موقف کا فرق واضح کر رہا ہوں کیونکہ بعض دوست پوچھتے ہیں او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کوئی واضح قدم کیوں نہیں اٹھا رہی؟ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے جو ہمیں سمجھنی چاہیے، جب یہ اکٹھے بیٹھتے ہیں تو موقف کے فرق بلکہ تضاد کی وجہ سے کوئی اجتماعی حکمت عملی نہیں طے ہو پاتی۔حضرات محترم! میں نے یہودیت کا کچھ تاریخی پس منظر، مسلم یہودی تعلقات کا ایک تناظر، اسرائیل کے قیام کا پس منظر، موجودہ معروضی صورتحال، اور مستقبل کے امکانات کے حوالے سے چند باتیں آپ کے سامنے عرض کی ہیں۔
