Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

گل پلازہ! صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو

(گزشتہ سے پیوستہ)
قاری محمد عثمان نے اس امر پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا کہ آگ لگنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد، پہلی فائر بریگیڈ کی گاڑی پہنچی، جس کے بعد بھی سست رفتاری سے آگ بجھانے کا عمل جاری رہا۔ صبح کے ابتدائی گھنٹوں میں کارروائی میں قدرے تیزی آئی، مگر تب تک آگ نے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس سے انسانی جانی و مالی نقصانات ناقابلِ تلافی حد تک بڑھ گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلی سندھ اور میئر کراچی تیسرے دن جائے حادثہ پر پہنچے، جبکہ گل پلازہ اس وقت تقریبا راکھ کے ڈھیر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ قاری محمد عثمان نے مطالبہ کیا کہ احتساب، ذمہ داری اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے فوری اور جامع حکمت عملی تشکیل دی جائے، تاکہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بنیادی تحفظات اور جان بچانے والے اقدامات وقت پر یقینی بنائے جائیں، قاری محمد عثمان نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام،علامہ بنوری ٹائون کے بنوری ویلفیئر ٹرسٹ سمیت دینی مدارس، مذہبی تنظیمیں اور رفاہی ادارے امدادی کارروائیوں اور اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کی خدمت میں مصروف ہیں، مگر حکومتی امدادی کارروائیاں، اعلانات سے زیادہ کچھ نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی اکثریت کا دعوی کرنے والی جماعتیں زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے بیانات کی راکھ ڈال رہی ہیں، قاری محمد عثمان نے کہا کہ گل پلازہ کی آگ نے عمارت نہیں جلائی، بلکہ انتظامی دعوئوں کو راکھ کر دیا۔
ہر طلب کرئے تجھ سے علاج تیرگی
صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو
حکومت گل پلازہ کی تعمیر کے حوالے سے 1980 ء کی فائلوں کے تذکرے کر رہی ہے۔17سال سے حکومت کو انجوائے کرنے والوں کو گل پلازہ راکھ کا ڈھیر بننے کے بعد پتہ چلا کہ اس پلازے کی تعمیر میں فلاں فلاں نے کوتاہیاں کیں؟
پیپلز پارٹی کے حکمران 17 سال تک گل پلازہ کی تعمیر کے حوالے سے ہونے والی لا قانونیت سے غافل کیوں رہے، کیا یہ سارے الزامات انہوں نے اس لئے بچا کے رکھے تھے کہ جب گل پلازہ راکھ کا ڈھیر بنے گا تو مخالفین کو ان الزامات کی زد میں لا کر لاجواب کیا جائے گا ؟ افسوس صد افسوس گل پلازہ میں لوگوں کا سرمایہ ہی نہیں جلا، انسان ہی نہیں جلے، بلکہ عوام کا اعتماد بھی جل گیا، عوام نے سندھ کے حکمرانوں کے مکروہ چہرے دیکھ لئے،شہر کراچی کے دل میں واقع ایک تجارتی بلڈنگ پہ لگنے والی آگ کراچی میں بسنے والے ڈھائی کروڑ سے زائد شہریوں کے دلوں میں بھڑک رہی ہے،وزیر اعلیٰ سندھ کو کوئی بتائے کہ ’’عوام‘‘بکریاں ،بھیڑیں نہیں ہیں،کہ جو جس لاٹھی سے چاہے جب چاہے انہیں ہانکتا چلا جائے،حکمرانوں کی سنگدلی کی انتہا تو یہ ہے کہ ان پر انسانوں کے زندہ جلنے نے بھی کو ئی اثر نہیں چھوڑا ،یہاں سوال صرف ایک عمارت، ایک حادثے یا ایک بیان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے نظام کے کردار پر آ کر ٹھہر جاتا ہے۔ ایسے سانحات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم بطور ریاست اور بطور معاشرہ انسانی جان کی قدر وقیمت کہاں رکھتے ہیں؟ اگر ہر دفعہ آگ کے بعد ہم صرف افسوس، چند بلند آہنگ جملوں اور وقتی یقین دہانیوں پر اکتفا کریں، تو پھر یہ مان لینا چاہیے کہ ہم نے خود کو حادثات کے ساتھ جینا سکھا لیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سانحہ معمول بن جاتا ہے اور معمول سب سے بڑا جرم۔ذمہ داری کا تصور محض استعفوں کے نعروں یا جذباتی تقاریر سے پورا نہیں ہوتا۔ اصل ذمہ داری اس نظام کی اصلاح میں ہے جو ایسے واقعات کو جنم دیتا ہے۔ وہ عمارتیں جو بغیر حفاظتی معیار کے کھڑی ہیں، وہ ادارے جو کاغذوں میں تو فعال ہیں مگر زمین پر غیر حاضر اور وہ حکمران جو ہر بحران میں اخلاقی جملوں کی آڑ لے لیتے ہیں، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں آگ لگنا حادثہ نہیں، انجام بن جاتا ہے۔ اگر اس انجام کے بعد بھی ہم نے کچھ نہ سیکھا تو پھر آئندہ کسی سانحے پر حیرت کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارا اجتماعی رویہ بھی اس نظام کی کمزوریوں کو سہارا دیتا ہے۔ ہم شور مچاتے ہیں، غصہ کرتے ہیں، مگر تھوڑی دیر بعد سب کچھ بھول کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہی فراموشی طاقتوروں کے لئے سب سے بڑی ڈھال بن جاتی ہے۔ جب عوام مستقل سوال نہیں کرتے، مستقل جواب طلب نہیں کرتے تو پھر اقتدار کے ایوانوں میں احتساب ایک غیر ضروری بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر نیا سانحہ پچھلے سانحے کی فہرست میں ایک اور اندراج بن جاتا ہے۔سیاسی نعروں، تاریخی حوالوں اور علامتی ناموں کے پیچھے چھپ کر حقیقت سے نظریں چرانا اب ممکن نہیں رہا۔ عوام کو اب جذباتی وابستگی سے زیادہ عملی تحفظ درکار ہے۔ انہیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جو حادثے کے بعد نہیں، حادثے سے پہلے حرکت میں آئے۔ ایسا نظام جو انسانی جان کو سیاست، بیان بازی اور مصلحتوں سے بالاتر رکھے۔ جب تک یہ ترجیح واضح نہیں ہوگی، تب تک ہر آفت ہمیں یہی پیغام دیتی رہے گی کہ ہم نے سیکھنے سے انکار کر دیا ہے۔آج کا کالم کسی ایک واقعے پر ماتم نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اپیل ہے۔ ایک یاد دہانی کہ ریاست کی اصل طاقت نعروں میں نہیں، شہریوں کے تحفظ میں ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی خود کو ایک ذمہ دار معاشرہ سمجھتے ہیں تو ہمیں ہر سانحے کو آخری سانحہ بنانے کی کوشش کرنا ہوگی۔ ورنہ تاریخ ہمیں ان لوگوں میں شمار کرے گی جو سب کچھ دیکھتے رہے، سب کچھ جانتے رہے، مگر پھر بھی خاموش رہے۔ اور یہ خاموشی کسی بھی آگ سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں