Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

ایمان مزاری ‘ زبان خلق کہتی ہے

جب اصولوں کی جگہ ضد اور قانون کی جگہ سوشل میڈیا مہمات لے لیں تو مسئلہ صرف اختلافِ رائے کا نہیں رہتا بلکہ نظامِ انصاف پر اثرانداز ہونے کی کوشش بن جاتا ہے۔ ایمان مزاری کا کردار اسی کشمکش کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا ہے، جس پر سنجیدہ سوالات اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
زبان خلق کہہ رہی ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا انجام اسلام اور ملک دشمنی میں ملوث عناصر کی حمایت و سہولت کاری کرنے والوں کے لئے باعث عبرت ہے،’’ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فیئر ٹرائل کے بعد سزا سنائی گئی ہے۔سوشل میڈیا پر بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ان مجرمان کے خلاف آئینی و قانونی جدوجہد کرنے والوں کے خلاف بے بنیاد و من گھڑت الزامات کی بنیاد پر شرانگیز مہم چلانے والے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ آج ثابت شدہ دہشت گرد اور ملک دشمنی میں ملوث عناصر کے سہولت کار ہیں۔گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف متعلقہ عدالتوں کی کاروائی کو متنازع بنانے کے لئے ان ثابت شدہ دہشت گردوں نے یہ پراپیگنڈہ بھی کیا تھا کہ گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف مقدمات کے مدعیان من پسند فیصلہ حاصل کرنے کے لئے ٹرائل کورٹس پر دبا ڈالتے ہیں۔مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ ان ثابت شدہ دہشت گردوں نے ہی قانونی انجام سے بچنے کے لئے کس طرح سے اپنے خلاف مقدمے کا ٹرائل کرنے والی عدالت پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی‘کس طرح سے انہوں نے ٹرائل کورٹ کے فاضل جج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔کس طرح سے وہ ٹرائل کورٹ کی توہین کرتے رہے۔ہر طرح کی لاقانونیت اور غنڈہ گردی کے باوجود ٹرائل کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فیئر ٹرائل کا مکمل حق دیا۔اس کے بعد بھی سیکولر شدت پسندوں کی جانب سے یہ تاثر قائم کرنا کہ عدالتوں اور قانون کو مذاق بنانے والے اس جوڑے کو فیئر ٹرائل نہیں ملا،انتہائی مضحکہ خیز بات ہے‘‘۔
’’ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو بھی اپنے انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہئیے۔انہوں نے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے رشتہ داروں کی جانب سے انکوائری کمیشن کی تشکیل کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر پٹیشن کی سماعت کے دوران ملک دشمن سرگرمی میں ملوث کالعدم نیوز ویب سائٹ کی ملی بھگت سے مذکورہ کالعدم ویب سائٹ کی رپورٹ کی بنیاد پر ایک خاتون پر نہ صرف یہ کہ بے بنیاد و من گھڑت الزامات عائد کرکے اس کا سوشل میڈیا ٹرائل کروایا تھا بلکہ خلاف آئین و خلاف قانون مذکورہ خاتون کے شناختی کارڈ کو بھی بلاک کروا کر اسے آئینی و قانونی حقوق سے محروم کیا تھا۔گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے تمام شرانگیز،خلاف آئین و خلاف قانون اقدامات کے باوجود مسلمان آج بھی مقدس ہستیوں کی توہین کے مرتکب مجرمان کے خلاف قانونی محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں، جبکہ گستاخ مجرمان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے شرانگیز کوششیں کرنے والا جوڑا عبرت کا نشان بن چکا ہے‘‘۔
اختتاماً یہ بات کہنا ضروری ہے کہ کسی بھی ریاست اور معاشرے میں آزادی اظہار، انسانی حقوق اور اختلافِ رائے کی اپنی ایک آئینی و قانونی حدود ہوتی ہیں۔ جب کوئی فرد یا گروہ ان حدود سے تجاوز کرتا ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جن کا تعلق مذہبی حساسیت، عدالتی کارروائی اور قومی سلامتی سے ہو، تو اس کے نتائج محض ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ قانون کا تقاضا یہی ہے کہ ہر شہری اپنے مقف کے اظہار میں ذمہ داری، احتیاط اور سچائی کو ملحوظ رکھے۔
اس تناظر میں ناقدین کے نزدیک یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ایمان مزاری نے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث افراد اور ان کے معاونین کے ساتھ کھڑے ہو کر ایک سنجیدہ اخلاقی اور قانونی غلطی کی۔ ایسے عناصر کی حمایت یا ان کے لیے ہمدردانہ بیانیہ اختیار کرنا، چاہے وہ کسی بھی نیت سے ہو، نہ صرف عوامی جذبات کو مجروح کرتا ہے بلکہ عدالتی عمل اور قانونی جدوجہد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ مزید یہ کہ عدالتوں اور ریاستی اداروں پر الزامات یا دبا ڈالنے کی کوششیں کسی بھی طور جمہوری اقدار کے مطابق نہیں سمجھی جا سکتیں۔
ایک بالغ نظر اور ذمہ دار رویہ یہ ہوتا کہ اختلاف یا تحفظات کو آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے پیش کیا جاتا، نہ کہ سوشل میڈیا مہمات، متنازع بیانیوں اور ایسے کرداروں کے ساتھ وابستگی کے ذریعے جو پہلے ہی شدید عوامی و قانونی اعتراضات کی زد میں ہوں۔ معاشرے اسی وقت آگے بڑھتے ہیں جب شخصیات کے بجائے اصولوں کو ترجیح دی جائے۔
بالآخر، یہ معاملہ سب کے لیے ایک سبق ہے کہ قانون کی بالادستی، عدالتی فیصلوں کا احترام اور مذہبی و سماجی حساسیت کا خیال رکھنا ہی وہ راستہ ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو انتشار کے بجائے استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔
جب کسی معاشرے میں مذہبی حساسیت، عدالتی کارروائی اور قومی مفاد جیسے سنگین معاملات زیرِ بحث ہوں تو چند افراد کا خود کو مظلومیت کے بیانیے میں لپیٹ کر قانون اور عوامی شعور کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنا ایک خطرناک رجحان بن جاتا ہے۔ ایمان مزاری کا کردار بھی اسی تناظر میں شدید سوالات کو جنم دیتا ہے، جہاں انہوں نے اصول، قانون اور سماجی ذمہ داری کے تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایسے عناصر کا ساتھ دیا جو عوامی، مذہبی اور قانونی سطح پر ناقابلِ قبول سمجھے جاتے ہیں۔ یہ کالم اسی طرزِ عمل کا جائزہ لینے اور اس کے نتائج پر سنجیدہ مکالمہ قائم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھیں