آج کا مسلمان ایک ایسے دور میں سانس لے رہا ہے جہاں فکری انتشار، ذہنی دبائو اور عملی کمزوری نے اجتماعی قوت کو متاثر کر رکھا ہے۔ ہم اکثر زوال کے اسباب پر گفتگو کرتے ہیں، مگر ان قرآنی و نبوی ہدایات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمیں طاقت، توازن اور استقامت کا راستہ دکھاتی ہیں۔ اسلام محض روحانیت ہی نہیں بلکہ جسمانی، ذہنی اور عملی قوت کا بھی دین ہے۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو باقاعدہ قوت تیار کرنے کا حکم دیا اور رسول اکرم ﷺ نے اس قوت کی عملی مثالیں پیش فرمائیں۔ انہی ہدایات میں سے ایک روشن اور بامقصد باب تیر اندازی ہے، جو محض فن نہیں بلکہ ایک جامع تربیت ہے۔آج کے پرآشوب دور میں جب مسلمان ذہنی، جسمانی اور روحانی کمزوریوں کا شکار نظر آتے ہیں، ایسے میں قرآن و سنت کی وہ ہدایات ازسرِنو توجہ چاہتی ہیں جو ہمیں قوت، استقامت اور توازن عطا کرتی ہیں۔ حال ہی میں حضرت اقدس پیرو مرشد کی مجلس میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ مجلس کا موضوع بظاہر سادہ، مگر اپنے مفہوم میں نہایت عمیق تھا، تیر اندازی۔ یہ محض ایک کھیل یا قدیم جنگی فن نہیں بلکہ قرآن، حدیث اور اسلامی تہذیب میں رچی بسی ایک جامع تربیت ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صاف الفاظ میں مسلمانوں کو قوت تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
سورہ انفال کی آیت 60 میں ارشاد ہوتا ہے ’’اور تم ان کے مقابلے کے لئے جہاں تک تم سے ہو سکے قوت تیار رکھو‘‘ حضور اقدس ﷺ نے اس آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے قوت کو تیر اندازی سے تعبیر فرمایا، جیسا کہ صحیح مسلم میں موجود ہے۔ اہلِ علم اسی بناء پر فرماتے ہیں:
یعنی تیر اندازی کی فضیلت قیامت تک باقی رہے گی، چاہے جنگی ضرورت باقی رہے یا نہ رہے۔ یہ محض وقتی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک مستقل دینی رہنمائی ہے۔یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنے کا ہے۔ اسلام میں قوت کا تصور صرف جسمانی طاقت تک محدود نہیں۔ قوت میں ذہنی یکسوئی، قلبی اطمینان، نظم و ضبط، صبر اور مقصدیت بھی شامل ہے۔ تیر اندازی ان تمام اوصاف کو یکجا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب قرآن و حدیث میں اس کا ذکر آیا تو اسے محض ایک ہنر نہیں بلکہ ایک دینی علم کے درجے پر رکھا گیا۔اہلِ علم نے واضح فرمایا ہے کہ چونکہ تیر اندازی کا حکم قرآن و حدیث میں موجود ہے، اس لئے اسے سیکھنا اور سکھانا بھی دینی ذمہ داری ہے۔ جس طرح فقہ، حدیث اور تفسیر کے علوم پڑھے جاتے ہیں، اسی طرح یہ فن بھی توجہ کا مستحق ہے۔ افسوس کہ آج ہم نے اس علم کو قدیم یا غیر ضروری سمجھ کر ترک کر دیا، حالانکہ اس کے روحانی، نفسیاتی اور تربیتی فوائد آج بھی اتنے ہی موثر ہیں جتنے پہلے تھے۔تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ علم نے تیر اندازی کے فضائل، احکام اور آداب پر سینکڑوں صفحات پر مشتمل کتابیں تصنیف کیں۔ ان کتابوں میں نہ صرف تکنیکی پہلو بیان ہوئے بلکہ نیت، اخلاق، ضبطِ نفس اور مجلس کے آداب تک تفصیل سے درج ہیں۔ طلب علم کے لئے یہ ایک مٹا ہوا مگر قیمتی علمی ورثہ ہے، جسے دوبارہ زندہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔احادیثِ مبارکہ میں تیر اندازی کے فضائل نہایت دلنشیں انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ خود تیر اندازی فرمایا کرتے تھے۔ ایک موقع پر اتنے تیر چلائے کہ کمان ٹوٹ گئی، جسے حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے تبرکا محفوظ کر لیا۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ کا اس فن سے تعلق محض وعظ تک محدود نہ تھا بلکہ عملی تھا۔
مزید برآں، تیر اندازی حضرت سیدنا اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی وراثت قرار دی گئی ہے، جیسا کہ بخاری شریف میں مذکور ہے۔ گویا یہ فن توحید، قربانی اور اطاعت کی اس عظیم روایت سے جڑا ہوا ہے جو خاندانِ ابراہیمی کی پہچان ہے۔ اس نسبت کے بعد اس فن کی روحانی قدر و قیمت اور بڑھ جاتی ہے۔ایک اور نہایت حیرت انگیز اور ایمان افروز پہلو یہ ہے کہ تیر اندازی کی مجلس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ سوچئے، وہ مجلس کتنی معزز اور بابرکت ہوگی جس میں حضراتِ ملائکہ شریک ہوں۔ اسی لئے اہلِ علم نے تیر اندازی کے لئے خاص آداب بیان کئے ہیں، جیسے نیت کی درستگی، پاکیزگی، باوقار طرزِ عمل اور آپسی احترام۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی مجلس میں قوم کے سردار یا حاکم شریک ہوں تو آداب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔علامہ ابنِ قیم ؒ نے تیر اندازی کے نفسیاتی فوائد پر نہایت خوبصورت کلام فرمایا ہے۔ ان کے مطابق تیر اندازی انسان کے ھم اور غم کو دور کرتی ہے۔ یعنی پریشانیاں، ذہنی دبائو، گھٹن اور اضطراب اس مشغلے سے کم ہو جاتے ہیں۔
علامہ فرماتے ہیں کہ اگر تیر اندازی کی صرف یہی ایک فضیلت ہوتی تو بھی یہ کافی تھی، کیونکہ مسلسل غم اور پریشانی انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔آج کے دور میں، جب ٹینشن، ڈپریشن اور بے چینی عام بیماریوں کی صورت اختیار کر چکی ہیں، ہمیں ایسے فطری اور بابرکت ذرائع کی اشد ضرورت ہے جو جسم اور روح دونوں کو سکون دیں۔ تیر اندازی نہ شور مانگتی ہے، نہ ہجوم، یہ یکسوئی، خاموشی اور توجہ کی تربیت ہے۔ یہ انسان کو اپنے اندر جھانکنا سکھاتی ہے، ہدف متعین کرنا اور پھر پورے انہماک سے اس کی طرف بڑھنا سکھاتی ہے۔یہ اداریہ یا کالم محض ایک فن کی وکالت نہیں، بلکہ ایک سوچ کی دعوت ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قوت کے قرآنی تصور کو سمجھیں اور اسے اپنی زندگیوں میں شامل کریں۔ تیر اندازی ہو یا کوئی اور جائز جسمانی و ذہنی تربیت، مقصد یہ ہے کہ ہم مضبوط، متوازن اور باوقار امت بن سکیں۔آخر میں یہی عرض ہے کہ ہمیں اپنے دینی ورثے کو محض کتابوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اسے عملی زندگی میں زندہ کرنا ہوگا۔ تیر اندازی اس ورثے کا ایک روشن باب ہیایسا باب جو ہمیں اللہ کی اطاعت، رسول ﷺ کی سنت اور اپنی فطری طاقتوں سے دوبارہ جوڑ سکتا ہے۔
