میں دس سال کی عمر کے بچوں اور بچیوں کی شادی کروائوں گا اور اس قانون کو روند ڈالوں گا۔جمعیت علمائے اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن کا یہ تازہ بیان پاکستان میں کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی کے بعد سامنے آیا، جس نے ایک بار پھر مذہب، قانون اور ریاست کے تعلق پر شدید بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ بیان محض ایک سیاسی ردعمل نہیں بلکہ اس فکری تصادم کی علامت ہے جو برسوں سے پاکستانی معاشرے میں جاری ہے، آیا قانون سازی کی بنیاد شریعت ہوگی یا جدید ریاستی تقاضے؟پاکستان میں کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی اب محض قانونی معاملہ نہیں رہی بلکہ ایک گہری مذہبی، سماجی اور تہذیبی بحث بن چکی ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں 18سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کا بل منظور ہونے کے بعد مذہبی اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ اپوزیشن رہنما مسافر وزیر نے اسے غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون مغربی این جی اوز کے ایجنڈے کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق ہمارے معاشرتی حالات، خاندانی نظام اور مذہبی اصول مغربی معاشروں سے مختلف ہیں، لہٰذا ایسے قوانین نافذ کرنا قومی اقدار سے انحراف ہے۔یہ بحث جلد ہی صوبائی سطح سے نکل کر وفاقی سطح تک پہنچ گئی، جہاں قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بھی اسی نوعیت کا بل منظور کر کے اسے ملک گیر قانون بنا دیا۔ یوں شریعت اور قانون کے درمیان تنازع زیادہ واضح ہو گیا۔ سوال یہ اٹھا کہ کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نکاح جیسے مذہبی معاملے میں ایک متعین عمر مقرر کرے، یا شریعت کے اصول اس سے بالاتر ہیں؟اسلامی نقطہ نظر سے کم عمری کی شادی کا مسئلہ صدیوں سے واضح سمجھا جاتا رہا ہے۔
شریعت نے نکاح کے لئے کوئی مخصوص عددی عمر مقرر نہیں کی بلکہ بلوغت، اہلیت اور معاشرتی مصلحت کو بنیاد بنایا ہے۔ قرآن مجید میں نکاح کے مقاصد سکون، مودت اور عفت بیان کئے گئے ہیں، جبکہ سورہ النساء کی آیت ’’وابتلوا الیتامی حتی اذا بلغوا النکاح‘‘ میں بلوغت کو نکاح کے قابل ہونے کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر فقہائے اسلام حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور جعفری اس بات پر متفق ہیں کہ نکاح کی اہلیت کا اصل پیمانہ بلوغت ہے، نہ کہ کوئی سرکاری مقررہ عمر۔بعض فقہا نے پندرہ سال کو بلوغت کی علامت قرار دیا، بعض نے جسمانی نشوونما کو معیار بنایا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریعت نے اس معاملے میں لچک رکھی اور اسے حالات پر چھوڑا ہے۔ ایسے میں ریاست کی جانب سے 18 سال کی لازمی حد مقرر کرنا کئی مذہبی حلقوں کے نزدیک شریعت کے اس اصول سے انحراف ہے جو فرد اور خاندان کو نکاح کے فیصلے کا اختیار دیتا ہے۔مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت کا موقف اسی تناظر میں سامنے آیا۔ ان کے مطابق بلوغت کے باوجود صرف عمر کی بنیاد پر نکاح کو جرم قرار دینا شریعت کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کا کام ظلم کا راستہ روکنا ہے نہ کہ شریعت کی اجازت یافتہ چیزوں کو پابندیوں میں جکڑنا۔ ان کے بقول اگر نوجوانوں کو نکاح سے روکا گیا تو اس کے نتیجے میں اخلاقی اور معاشرتی مسائل پیدا ہوں گے، کیونکہ شریعت نے نکاح کو فتنوں سے بچا کا ذریعہ قرار دیا ہے۔تاہم دوسری جانب ریاستی اور سماجی حلقے اس قانون کو بچوں کے حقوق کے تحفظ سے جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک کم عمری کی شادی اکثر صورتوں میں لڑکیوں کی تعلیم، صحت اور خودمختاری کو متاثر کرتی ہے۔ عالمی سطح پر بھی بچوں کی شادی کو انسانی حقوق کے خلاف سمجھا جاتا ہے اور پاکستان مختلف بین الاقوامی معاہدوں کا حصہ ہونے کے باعث ایسے قوانین بنانے کا پابند ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مذہبی روایت اور جدید ریاستی ذمہ داری آمنے سامنے آجاتی ہیں۔اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس قانون پر تحفظات کا اظہار کیا۔ کونسل کے مطابق عمر کی حد مقرر کرنا اسلامی تعلیمات کے مزاج کے خلاف ہے، کیونکہ شریعت میں نکاح کے لئے بلوغت، اہلیت اور ذمہ داری کو معیار بنایا گیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ اگر کہیں کم عمری کی شادی ظلم یا زیادتی کا باعث بنتی ہے تو اس کا حل نکاح پر پابندی نہیں بلکہ موثر نگرانی، نکاح کی رجسٹریشن، طبی رہنمائی اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
قانون کے ناقدین کا موقف ہے کہ اصل مسئلہ نکاح نہیں بلکہ نکاح کے ناقص انتظام، عدم رجسٹریشن، والدین کی غفلت اور معاشرتی نابرابری ہے۔ اگر حکومت واقعی بچوں کے حقوق کی حفاظت چاہتی ہے تو اسے نکاح کو جرم بنانے کے بجائے سماجی اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے۔ دوسری طرف قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ معاشرتی مفاد کے لئے حدود مقرر کرے، چاہے شریعت میں اس کی صریح ممانعت نہ ہو۔یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کم عمری کی شادی پر پابندی درست ہے یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان میں قانون سازی کی بنیاد کیا ہوگی؟ کیا ریاست اسلامی اصولوں کو قانون کا محور بنائے گی یا جدید عالمی رجحانات کو؟ پاکستان کا آئینی تشخص اسلامی ہے، لیکن وہ ایک جدید ریاست بھی ہے جسے عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے تقاضوں کا سامنا ہے۔ یہی دوہرا تشخص اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔مولانا فضل الرحمن کا بیان اگرچہ جذباتی اور سخت لہجے میں تھا، مگر اس نے ایک بنیادی سوال کو نمایاں کر دیا ہے۔ کیا ریاست کو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون سازی کرنی چاہیے یا وہ شریعت سے ہٹ کر بھی معاشرتی اصلاح کے لئے قوانین بنا سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں، کیونکہ اس میں مذہب، سیاست، سماج اور عالمی دبا سب شامل ہیں۔کم عمری کی شادی کا مسئلہ محض فقہی یا قانونی بحث نہیں بلکہ ایک تہذیبی سوال ہے۔ یہ سوال کہ ہم بطور معاشرہ کس سمت جانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم اپنی مذہبی روایت کو قانون سازی کی بنیاد بنائیں گے یا جدید عالمی معیار کو؟ یا پھر دونوں کے درمیان کوئی متوازن راستہ تلاش کریں گے؟یہ بحث ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ شاید ابھی شروع ہوئی ہے۔ پاکستانی معاشرہ اس سوال کے جواب کا منتظر ہے کہ آیا ہمارا قانون مذہبی روایت کے تابع ہوگا یا جدید ریاستی تقاضوں کے تابع۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اسی پر پاکستان کے مستقبل کی سمت کا تعین ہوگا۔
