(گزشتہ سے پیوستہ)
امریکی قومی سلامتی حکمت عملی اورروسی تائیدکی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امریکی قومی سلامتی کی نئی دستاویز،جو خطوں میں اثرورسوخ کوتسلیم کرتی ہے،روس کے دیرینہ مقف سے ہم آہنگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس نے اس پرتنقید کی بجائے خاموش تائیداختیارکی۔
دوسری طرف ٹرمپ ڈاکٹرائن نے نکولس مادورو کی گرفتاری سے یہ پیغام دیاہے کہ بین الاقوامی نظام میں حق،طاقت سے مشروط ہے۔اس عمل کوامریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی کاعملی مظہرکہاگیاوہی حکمت عملی جسے روسی حکام نے خطوں کی سیاست کی بحالی کے سبب سراہاتھااوریہ اصول روسی سوچ سے متصادم نہیں، مگراس کے اطلاق کااختیارروس اپنے مفادات کے تابع رکھناچاہتاہے۔
فیودورلوکیانوف کے مطابق ٹرمپ ڈاکٹرائن نے واضح کردیاہے کہ عالمی سیاست کودوبارہ خطوں کی سیاست کی طرف موڑدیاگیا ہے اورعالمی سیاست ایک بار پھر خطوں کے گردمنظم ہو رہی ہے۔یہ بیان اس حقیقت کوآشکارکرتاہے کہ سردجنگ کے بعدقائم ہونے والا لبرل عالمی نظام اب تحلیل کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔یہ بیان محض تجزیہ نہیں بلکہ آنے والے عالمی تصادم کی پیش گوئی ہے۔روسی سرکاری میڈیامیں اس امریکی اقدام کوایک نظیرکے طورپرپیش کیاگیاہے،ایک ایسی نظیرجوروس کومستقبل میں اپنے خطے میں زیادہ سخت اقدامات کااخلاقی جوازفراہم کرسکتی ہے۔
یوگینی پوپوف جیسے تجزیہ کاروں کے نزدیک عالمی انتشارروس کے لئے دباؤکم کرنے اورسفارتی گنجائش بڑھانے کاموقع فراہم کر رہاہے۔طاقتوروں کی باہمی کشمکش میں درمیانی طاقتیں ہمیشہ نئے راستے تلاش کرتی ہیں۔بادی النظرمیں امریکی قومی سلامتی کی نئی دستاویزاورحکمت عملی،جوخطوں میں اثرورسوخ کوتسلیم کرتی ہے،روسی موقف سے جزوی مطابقت اورہم آہنگی رکھتی ہے ۔ یہی ہم آہنگی روسی خاموشی کی ایک بڑی وجہ ہے۔یوگینی پوپوف نے اس صورتِ حال کووقتی طور پر ناخوشگوارمگرطویل المدت طورپرسودمند قرار دیا ہے۔ یہ وقتی ناخوشگواری طویل المدت فائدے میں ڈھل سکتی ہے۔ان کے نزدیک عالمی انتشارروس کے لئے سفارتی دباکم کرنے اورنئے مواقع تلاش کرنے کاموقع فراہم کررہاہے اوریہ عالمی انتشارروس کے لئے سانس لینے کی گنجائش پیداکررہاہے۔
بعض روس نوازحلقے امریکی مداخلت پر ناپسندیدگی کے باوجود نیم دلانہ تحسین کے ساتھ اس کی افادیت تسلیم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔دراصل یہ سوچ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ روس خودیوکرین میں اسی تصورِ طاقت کااسیرہوچکاہے کیونکہ یہی طرزِعمل روس یوکرین میں اپناناچاہتاتھایوکرین میں روسی کارروائی بھی اسی تصورِطاقت پرمبنی تھی فرق صرف یہ ہے کہ وہاں معاملہ ایک طویل جنگ میں بدل گیا۔ادھردوسری طرف عالمی سطح پرامریکی جارحیت نے یورپ اورامریکاکے درمیان خلیج کوگہراکیاہے۔ یہ صورتحال روس کے لئے سفارتی دباؤکم کرنے اورنئی گنجائش پیداکرنے کاموقع فراہم کرتی ہے۔
مارگریٹاسمونیان کاحسدایک ذاتی تاثرنہیں بلکہ ریاستی کمزوری کاعلامتی اظہاراوراعترافِ شکست ہے۔وینزویلامیں دہائیوں پرمحیط روسی سرمایہ کاری، جوکبھی اس کے عالمی اثرو رسوخ کی علامت تھی،اب ایک شکستہ خواب بن چکی ہے اوریوکرین جنگ کے باعث کمزوراورپس منظرمیں چلی گئی ہے۔مادوروکی گرفتاری نے اس زوال کوباضابطہ شکل دے دی جسے ماسکوحقیقت پسندی سے قبول کررہاہے۔ہانانوٹے کے مطابق روس اس وقت ٹرمپ کوناراض کرنے کامتحمل نہیں ہوسکتااورنہ ہی ٹرمپ کوبراہِ راست چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ٹرمپ کوناراض نہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس کی توجہ بڑے مسئلے یوکرین پرمرکوزہے۔یوکرین کے مسئلے پر امریکی رویہ روس کے لئے فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں امریکی غیرجانبداری یانرم رویہ یوکرین کے محاذ پر روس کے لئے قیمتی اثاثہ ہے۔
ماسکوکی اولین ترجیح یہ رہی ہے کہ ٹرمپ کو یوکرین پریاتواپناہم نوابنایاجائے یاامریکاکم ازکم یوکرین کے معاملے میں روس مخالف اتحادکاقائدنہ بنے اوراسے روس مخالف اتحادسے
الگ رکھاجائے ،اب تک یہ حکمت عملی بڑی حد تک کامیاب رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ روسی پرچم برداربحری جہازماریناراپرقبضے پرروس نے عسکری جواب نہیں دیاتاہم بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر اعتراض کیا۔یہ رویہ روسی خارجہ پالیسی میں قانونی بیانیے کی واپسی کی علامت ہے۔اگرچہ روسی بحری اثاثے علاقے میں موجود تھے،مگرطاقت کے استعمال سے اجتناب اور گریز کیاگیاجوکشیدگی کومحدودرکھنے کی حکمت عملی کاحصہ ہے۔
لوکیانوف کے نزدیک وینزویلاجیسے معاملات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔اصل مسئلہ یوکرین ہے، جوروس کے لئے جغرافیائی ہی نہیں بلکہ تاریخی اورتہذیبی اہمیت بھی رکھتاہے۔ لوکیا نوف کے مطابق، وینزویلا سیاسی طورپراہم ضرورہے،مگریوکرین روس کے لئے تاریخی، تہذیبی اوراسٹریٹجک مسئلہ ہے جہاں سمجھوتے کی گنجائش کم ہے۔سخت گیرقوم پرست آوازوں نے فوجی ردِعمل کامطالبہ کیا،مگرکریملن نے انہیں پالیسی کی سطح پرقبول نہیں کیا۔یہ ریاست اورجذبات کے فرق کوواضح کرتاہے۔روس کانیاعبوری انتظامیہ کوقبول کرنااس حقیقت کوظاہرکرتاہے کہ ماسکواس وقت نظریاتی بحث سے زیادہ استحکام کاخواہاں ہے۔روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے نئی عبوری حکومت کاخیرمقدم اس بات کی علامت ہے کہ ماسکو اس مرحلے پراستحکام کوترجیح دیتاہے، خواہ وہ بیرونی دباؤکے نتیجے میں ہی کیوں نہ حاصل ہو۔روسی وزارتِ خارجہ نے نئی عبوری حکومت کا خیرمقدم کرکے یہ پیغام بھی دیاکہ استحکام ، چاہے دباؤمیں ہو، انتشارسے بہترہے۔
ماریناراجہازپرقبضے پرروس کاردعمل محتاط رہانہ دھمکی،نہ للکار،صرف سمندری قانون کی یاددہانی پر اپنا موقف بیان کیا۔ ماسکونے عسکری کی بجائے قانونی زبان اختیارکی۔ردعمل محتاط اورقانونی دائرے میں رہا،جس سے ظاہرہوتاہے کہ روس تصادم کے بجائے قانونی مؤقف کوترجیح دے رہاہے۔ اگرچہ عسکری جواب ممکن تھا،مگرروس نے نہ ٹینکرکی واپسی کامطالبہ کیااورنہ کسی جوابی کارروائی کاعندیہ دیا،حالانکہ علاقے میں اس کی بحری موجودگی موجودتھی مگراس نے طاقت کے استعمال سے گریزکیااورتحمل کوترجیح دی،جوسفارتی پختگی کی علامت ہے۔ٹرمپ کی ضدنے یورپی اتحاد کی کمزوری کونمایاں کیا،ایک ایسی کمزوری جس سے روس سفارتی سطح پرفائدہ اٹھا سکتاہے۔
قطب شمالی روس کے لئے توانائی،عسکری موجودگی اورعالمی قیادت تینوں حوالوں سے فیصلہ کن خطہ ہے۔ گرین لینڈپرامریکی نظریں ہوں یاڈنمارک کی ملکیت،روس نے اسے فی الحال گرین لینڈ کے معاملے کوامریکاڈنمارک کادوطرفہ مسئلہ قراردے کرخودکوبراہِ راست تنازع اورتصادم سے دوررکھا ہے۔گرین لینڈپر روس کامحتاط مؤقف دراصل براہِ راست تصادم سے بچنے کی کوشش ہے۔سخت گیرآوازیں ہمیشہ موجود رہتی ہیں، مگرریاستی پالیسی جذبات نہیں،مفادات سے تشکیل پاتی ہے۔سخت گیرحلقوں نے اس ضبط کو کمزوری قرار دیا۔ الیکسی ژوراولیوف کے بیانات جذبات کی ترجمانی تو کرتے ہیں،مگرریاستی حکمت عملی کابدل نہیں۔ الیکسی ژور اولیوف جیسے سیاستدانوں کے بیانات عوامی جذبات کی عکاسی توکرتے ہیں،مگرریاستی پالیسی ان جذبات سے بلندہوکر تشکیل پاتی ہے۔اس موقع پرروسی حکام کے طنزیہ بیانات سخت ردِعمل کے بغیرپیغام پہنچانے کا موثر ذریعہ بنے۔یہ جدیدسفارت کاری کاایک نرم مگر و مؤثر حربہ ہے ۔
(جاری ہے)
