(گزشتہ سے پیوستہ)
قطب شمالی روس کے لئے توانائی،عسکری موجودگی اورعالمی قیادت تینوں حوالوں سے فیصلہ کن خطہ ہے۔ گرین لینڈپرامریکی نظریں ہوں یاڈنمارک کی ملکیت،روس نے فی الحال گرین لینڈ کے معاملے کوامریکاڈنمارک کادوطرفہ مسئلہ قراردے کرخودکوبراہِ راست تنازع اورتصادم سے دوررکھا ہے۔گرین لینڈپر روس کامحتاط مؤقف دراصل براہِ راست تصادم سے بچنے کی کوشش ہے۔سخت گیرآوازیں ہمیشہ موجود رہتی ہیں، مگرریاستی پالیسی جذبات نہیں، مفادات سے تشکیل پاتی ہے۔سخت گیرحلقوں نے اس ضبط کو کمزوری قرار دیا۔ الیکسی ژوراولیوف کے بیانات جذبات کی ترجمانی تو کرتے ہیں،مگرریاستی حکمت عملی کابدل نہیں۔ الیکسی ژور اولیوف جیسے سیاستدانوں کے بیانات عوامی جذبات کی عکاسی توکرتے ہیں،مگرریاستی پالیسی ان جذبات سے بلندہوکر تشکیل پاتی ہے۔اس موقع پرروسی حکام کے طنزیہ بیانات سخت ردِعمل کے بغیرپیغام پہنچانے کا موثر ذریعہ بنے۔یہ جدید سفارت کاری کاایک نرم مگر و مؤثر حربہ ہے ۔
قوم پرست جماعتوں نے اس اقدام کوبحری قذاقی اوراعلانِ جنگ کے مترادف قراردیا، مگر کریملن نے اس بیانیے کوسرکاری سطح پر ان جنگی الفاظ کوقبول کرنے سے گریزکیا۔ قوم پرست بیانات کوسرکاری سطح پرقبول نہ کرنااس بات کاثبوت ہے کہ کریملن جنگی بیانیے سے فی الحال دور رہنا چاہتاہے۔روس اس اصول کو اصولی طورپر مانتاہے ، مگرصرف وہاں تک جہاں وہ اس کے اسٹریٹیجک مفادات سے متصادم نہ ہو۔
ٹرمپ کی ضدپرروس نوازحلقوں کی مسکراہٹ دراصل یورپی کمزوری پرطنزہے۔ٹرمپ کی گرین لینڈ پر ضدروس نوازحلقوں میں خوشی کاباعث بنی، کیونکہ اسے یورپی کمزوری اورمغربی اتحادمیں دراڑکی علامت سمجھاگیا۔ٹرمپ کی ضدکوروس نواز حلقے یورپی اتحادکی کمزوری کی علامت کے طورپر دیکھتے ہیں۔ اگر امریکا گرین لینڈمیں مستقل عسکری ڈھانچہ قائم کرتا ہے تو روسی خاموشی برقرارنہیں رہے گی۔کیریل دمترییف کاطنزیہ تبصرہ جدیدسفارت کاری کی ایک نرم مگرگہری ضرب ہے جویورپی یونین کے دوہرے معیار کا آئینہ اور سفارتی وارتھا، جوبغیرگولی چلائے اثرچھوڑگیا ۔ روس میں تعطیلات کے اختتام پرصدر پوتن کی جانب سے ایک جامع موقف متوقع ہے، جواس خاموشی کوباضابطہ حکمتِ عملی میں ڈھال سکتاہے۔
روس طاقت کے اصول کومانتاہے،مگرصرف وہاں تک جہاں وہ اس کے مفادسے ہم آہنگ ہو۔جس کی طاقت،اسی کااختیارکااصول روسی سوچ سے ہم آہنگ ضرورہے،یہ فلسفہ روس کومرغوب توہے،مگراگریہی اصول روسی مفادات سے ٹکرائے تووہ قابلِ قبول نہیں رہتا۔خصوصاًگرین لینڈکے تناظرمیں امریکی موجودگی اس کے مفادسے متصادم ہوسکتی ہے۔ روس قلیل المدت تنازعات پر ردِعمل کم کر رہاہے،طویل المدت اسٹریجک اہداف کو فوقیت دی جارہی ہے اورخاموشی ایک فعال پالیسی بن چکی ہے۔قطب شمالی روس کے لئے عسکری، معاشی اورعلامتی اہمیت رکھتاہے۔پوتن اسے روسی عالمی قیادت کے استحکام کاستون قراردے چکے ہیں۔قطب شمالی روس کے لئے محض جغرافیہ نہیں، مستقبل کی قیادت کاستون ہے۔
قطب شمالی روس کے لئے آنے والی دہائیوں کی معاشی اورعسکری سیاست کامرکزہے اورمستقبل کی جنگ کاپیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔یہ طرزِعمل عالمی نظام کوایک نئے توازن کی طرف لے جارہاہے جہاں طاقت، خاموشی اورموقع پرستی ایک دوسرے میں مدغم ہوچکے ہیں۔
ہانانوٹے کے مطابق یورپ اورامریکاکے بیچ خلیج روس کے لئے فائدہ مندہے،مگرامریکی عسکری کی موجودگی کی توسیع ناقابلِ قبول ہے۔ہانانوٹے کے مطابق امریکااوریورپ کے درمیان خلیج روس کے لئے فائدہ مند ہے، مگراگرامریکاگرین لینڈمیں عسکری ڈھانچہ مضبوط کرتاہے تویہ روس کے لئے خطرے کی گھنٹی ہوگی اورروس کی خاموشی برقرارنہیں رہے گی۔درمیانی طاقتوں کے لئے یہ ایک واضح سبق ہے کہ ہرجارحیت کاجواب فوری مزاحمت نہیں،بعض اوقات انتظارزیادہ سودمند ہوتا ہے۔
تعطیلات کے اختتام پرپوتن کی تقریر کا انتظار ہے،پوتن کی جانب سے کسی جامع بیان اورشاید سب سے گہری تقریرکی توقع ہے،مگر فی الحال خاموشی ہی روس کاسب سے مؤثربیانیہ اور بلیغ سفارت کاری ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات خاموشی ،سب سے بلند آوازہوتی ہے ۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اعلان میں ہے،پوتن کی حکمتِ عملی انتظارمیں اور موجودہ عالمی سیاست میں،خاموشی اب کمزوری نہیں بلکہ ایک مکمل پالیسی ہے۔
یوں محسوس ہوتاہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، شورمیں لپٹی ہوئی ہے،اورپوتن کی حکمت عملی سکوت میں۔تاریخ اکثرگواہی دیتی ہے کہ بعض اوقات خاموشی، توپ کے گولے سے زیادہ بھاری ہوتی ہے اوریہی وہ لمحہ ہے جہاں سیاست،تاریخ بننے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ٹرمپ کی خارجہ پالیسی شورمیں لپٹی ہے،پوتن کی حکمتِ عملی سکوت میں۔ ایک طاقت کو شورمیں ڈھونڈتاہے،دوسرا سکوت میں،اورتاریخ نہ صرف اکثراسی سکوت کویادرکھتی ہے بلکہ تاریخ اکثرفیصلہ اسی سکوت کے حق میں دیتی ہے کیونکہ بعض اوقات خاموشی، سب سے بڑی للکارہوتی ہے۔یہ باب اس نتیجے پرپہنچتاہے کہ روسی خاموشی وقتی مجبوری نہیں بلکہ ایک منظم اسٹریٹیجک انتخاب ہے جوعالمی طاقت کی سیاست میں ایک نئے باب کاآغازکررہی ہے۔
